پشاور: پشاور کے نجی میڈیا کے مطابق سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کو ان کے موجودہ عہدے سے ہٹانے کیلئے مافیاز متحرک ہو گئیں خبر کے مطابق، حکومت میں بیٹھے وزراء یا حکمران اور اپوزیشن جماعتوں سے سیاسی تعلق رکھنے والے منشیات فروش سیاستدان، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے میں ملوث سیاسی اور سرکاری افسران اور اہلکار، قبضہ مافیا، جرائم پیشہ افراد کو پالنے والے گریڈ 20 کے چند اہم بیوروکریٹس اور گریڈ 20 کے پولیس افسران اپنے دھندے کو بچانے کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں میڈیا کے مطابق سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید پر مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے سے متعلق الزامات عائد کرکے رپورٹ تیار کی جائے گی جبکہ یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان مافیاز نے سی سی پی او کی کردار کشی، پروپیگنڈا مہم اور بیانیہ بنانے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر بعض سوشل میڈیا اکاونٹس کی خدمات بھی حاصل کر لی ہے. ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھاری معاوضہ دیا جارہا ہے اور اس کام کیلئے سرکاری اداروں اور عدالتی فورم کا استعمال بھی کیا جانے لگا جبکہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی احتجاج، پریس کانفرنس یا بیانات دینے کی منظم منصوبہ بندی کر لی گئی ہے.
کوہاٹ روڈ پر پولیس چوکی دھماکے سے تباہ، اے ایس آئی زخمی
نجی میڈیا سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عرفان خان کی خبر کے مطابق سی سی پی او میاں سعید کے خلاف سازش کا ہونا فطری بات ہے کیوں کہ جو کام انہوں نے شروع کر رکھا تھا ان کے خلاف آخر کار ہونا بھی یہی تھا ڈاکٹر میاں سعید 27 اگست 2025 کو پشاور پولیس کے چیف نامزد ہوئے ہیں اور اس ایک سال کے عرصے کے دوران وہ بطور سی سی پی او پشاور کافی متحرک رہے انہوں نے اس عہدے کا چارج سنبھالتے ہی پشاور کے 6 ایس ایچ او کو برطرف کردیا جو لینڈ مافیا کی سہولت کاری اور دیگر غیر قانونی دھندوں میں ملوث تھے یہ باقی سب کیلئے پیغام تھا کہ آپ بھی راہ راست پر آ جائیں نہیں تو آپ کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی ڈاکٹر میاں سعید نے بطور سی سی پی اوپشاور کچھ اچھے کام کئے جن کی تعریف ضروری ہے، جیسا کہ لینڈ مافیا کا کافی حد تک خاتمہ کیا ہے لیکن اب جس طرح انہوں نے پنجاب میں سی سی ڈی کی طرز پر پولیس مقابلے شروع کئے ہیں، اس سے وہ دوسرے راؤ انوار بننے کی راہ پر چل پڑے ہیں.
خیبرپختونخواپولیس قیادت کا نئے ایکٹ پر تحفظات کا اظہار
مشہور زمانہ ایس ایس پی کراچی ملیر راؤ انوار بھی یہی سب کچھ کرتا تھا کہ جعلی پولیس مقابلوں میں لوگوں کو اس پار پہنچا دیتا تھا ایک اندازے کے مطابق راؤ انوار نے کم و بیش 444 افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں اس پار پہنچایا 2018ء میں جب نقیب اللّه محسود کا قتل ہوا تو راؤ انوار اس میں پکڑا گیا لیکن 2023ء میں عدم ثبوت کی بنیاد پر وہ اپنے 17 ساتھیوں سمیت بری ہوگیا تھا پشاور کے سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید ایک پروفیشنل پولیس افسر ہیں اور ان کو راؤ انوار جیسے انکاونٹرز کے بجائے باقائدہ پولیس تفتیش کے تھرو ایک منظم اور قانونی طریقے سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے جو کچھ وہ اس وقت کر رہا ہے یہ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے لیکن یہ لانگ ٹرم نتائج کبھی بھی نہیں دے سکتا- عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان ان کے انکاونٹرز کی کھلم کھلا مخالفت میں سامنے آئے ہیں ڈاکٹر میاں سعید سی سی پی او پشاور تعینات ہونے سے پہلے ڈی آئی جی سیکورٹی پشاور تھے اس کے علاوہ وہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی پشاور ریجن، ایس ایس پی آپریشنز پشاور، ڈی پی او مردان، صوابی اور ہنگو رہے ہیں 3 سال کیلئے گلگت میں ڈی آئی جی کے عہدے پر رہے اس کے علاوہ ایف آئی اے، ریلو.ے پولیس اور ایف سی میں بھی تعینات رہے ہیں 2023ء میں آسٹریلیا ایوارڈز کیلئے بھی منتخب ہوئے تھے،
گینگ ریپ کیس کے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

