Skip to main contentSkip to footer

گینگ ریپ کیس کے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

گینگ ریپ کیس کے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

تھانہ رحمان بابا کی حدود گڑھی موسم خان میں دو خواتین سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں گرفتار چاروں ملزمان پولیس پارٹی پر فائرنگ کے واقعے کے دوران ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت عامر ولد افتخار، جلال عرف راجہ ولد معراج، چچے ولد قدوس اور امداس کے ناموں سے ہوئی ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے مطابق زیرحراست چاروں ملزمان کو واردات کے مقام کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران زیرحراست چاروں ملزمان گولیاں لگنے سے ہلاک ہوگئے جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔

اگست میں دہشتگردی کی لہر میں 38فیصد اضافہ، 158 افراد شہید

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان گڑھی موسم خان میں خواتین سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں گرفتار کیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اتوار کی شب گھر کی دیوار پھلانگ کر مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ چھ ستمبر کو تھانہ رحمان بابا میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ڈکیتی، جنسی زیادتی، گھر میں داخل ہونے اور دیگر دفعات کے علاوہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے مبینہ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔

پاکستان میں6 لاکھ افراد کے بائیو میٹرک کا ریکارڈ لیک ہوگیا

اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ گڑھی موسم خان میں مالک مکان اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے کرایہ دار کی دو خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ دستیاب ابتدائی رپورٹوں کے مطابق واقعے کے دوران ایک کمسن بچی اور اس کے والد کو ایک کمرے میں باندھ دیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے چار مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا اور واقعے کی تفتیش شروع کی۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھی بھجوائے گئے تھے۔

پچاس ہزار کا بل، ریٹائرڈ ملازم دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا

پولیس کے مطابق جمعہ کو پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں نامعلوم حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے جبکہ حملہ آوروں کی تلاش بھی جاری ہے۔ سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس امر کی بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ زیرحراست ملزمان پر حملہ کس نے اور کس مقصد کے تحت کیا۔

 

ممتاز عرف ممتازے پر درج 40 مقدمات کی تفصیل سامنے آگئی

Next Post
بھارتی پولیس اہلکار کے پاس برصغیر کی تاریخ کی عکاسی کرتا قدیم سکوں کا ذخیرہ
Previous Post
افغان بارڈر کی بندش سے خیبر پختونخوا کی کا سمیٹکس انڈسٹری بھی متاثر