دو ہزار بارہ سے کاسمیٹکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرگرم پرماننٹ کاسمیٹکس نے خیبر پختونخوا سے ملک بھر میں اپنی شناخت بنائی، صنعتکار خائستہ رحمان کے مطابق بارڈر بندش، مہنگائی، ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کے مسائل نے کاروباری ماحول کو مزید مشکل بنا دیا ، خیبر پختونخوا کی معیشت پہلے ہی صنعتی کمزوری، محدود سرمایہ کاری، توانائی کے مسائل، ٹرانسپورٹیشن اور سپلائی چین جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں پاک افغان سرحد کی بندش نے صوبے میں کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے حوالے سے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
سرحدی تجارت سے براہِ راست وابستہ کاروباروں کے ساتھ ساتھ اس کے بالواسطہ اثرات بھی ٹرانسپورٹ، ڈسٹری بیوشن، سپلائی چین، ہول سیل مارکیٹ اور مختلف صنعتوں تک پہنچتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی کاسمیٹکس انڈسٹری بھی ان شعبوں میں شامل ہے جو موجودہ معاشی صورتحال میں متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے صنعتکار اور **پرماننٹ کاسمیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ** کے مالک **خائستہ رحمان** کے مطابق خیبر پختونخوا میں کاسمیٹکس مینوفیکچرنگ کا شعبہ ابھی اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچا، حالانکہ اس میں نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور مستقبل کی برآمدات کے حوالے سے وسیع امکانات موجود ہیں۔
خائستہ رحمان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملک معاشی دباؤ، مہنگائی اور کاروباری مشکلات سے گزر رہا ہے، مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
پشاور سے 2012 میں شروع ہونے والا سفر پرماننٹ کاسمیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کا سفر 2012 میں شروع ہوا۔ کمپنی نے سکن کیئر اور ہیئر کیئر مصنوعات کی تیاری سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا سے نکل کر پاکستان بھر میں اپنی مارکیٹ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ خائستہ رحمان کے مطابق کمپنی کا بنیادی مقصد ایسی کاسمیٹکس مصنوعات تیار کرنا ہے جو معیار، تحقیق اور صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پرماننٹ کاسمیٹکس میں مصنوعات کی تیاری کوالیفائیڈ فارماسسٹس کی نگرانی میں کی جاتی ہے، جبکہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی نے گزشتہ برسوں کے دوران صارفین سے ملنے والے مثبت فیڈ بیک کو اپنی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھا ہے اور اسی بنیاد پر مصنوعات کے معیار کو مزید بہتر بنانے پر توجہ جاری رکھی ہے۔ سوات کے بعد جلو زئی اکنامک زون میں نئی سرمایہ کاری خیبر پختونخوا میں صنعتی سرگرمیوں کے محدود ہونے کے باوجود پرماننٹ کاسمیٹکس نے صوبے میں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خائستہ رحمان کے مطابق کمپنی کی پروڈکشن یونٹ سوات میں کام کر رہی ہے، جبکہ اب پشاور کے **جلو زئی اکنامک زون** میں بھی ایک نئے اور جدید پروڈکشن یونٹ پر کام جاری ہے۔
پاکستان کی 10بڑی مصنوعات سے 19.43 ارب ڈالر کی آمدن
ان کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف پرماننٹ کاسمیٹکس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گا بلکہ خیبر پختونخوا میں کاسمیٹکس مینوفیکچرنگ کے شعبے کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ خائستہ رحمان کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں صنعتی یونٹ چلانا پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مشکل ہے۔ سپلائی چین، ٹرانسپورٹیشن، صنعتی سہولیات اور دیگر بنیادی مسائل صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صنعتکاروں کو مناسب سہولیات اور تعاون فراہم کرے تو خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی کے بہت بڑے امکانات موجود ہیں۔ افغان بارڈر کی بندش اور کاروباری سرگرمیاں خیبر پختونخوا کا افغانستان کے ساتھ جغرافیائی اور تجارتی تعلق اسے پاکستان کے دیگر صوبوں سے منفرد بناتا ہے۔ سرحد کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیاں نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ پشاور سمیت صوبے کے متعدد کاروباری مراکز کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
پاکستان میں تیار کردہ سوزوکی گا ڑیوں کی برآمد کا باقاعدہ آغازہوگیا
خائستہ رحمان کے مطابق موجودہ صورتحال میں بارڈر کی بندش نے کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ بڑھایا ہے اور اس کے اثرات مختلف شعبوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ کاسمیٹکس کی صنعت بظاہر ایک صارفین پر مبنی صنعت ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک وسیع سپلائی چین کام کرتی ہے۔ خام مال، مخصوص ایکٹو انگریڈینٹس، پیکیجنگ، مشینری، ٹرانسپورٹیشن، ڈسٹری بیوشن اور ریٹیل، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سپلائی چین میں کسی بھی مقام پر رکاوٹ پیدا ہو تو اس کا اثر پیداواری لاگت، مصنوعات کی دستیابی اور بالآخر صارفین تک پہنچنے والی قیمت پر پڑ سکتا ہے۔ خائستہ رحمان کے مطابق خیبر پختونخوا میں پہلے ہی ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کے حوالے سے مشکلات موجود ہیں، جبکہ بارڈر سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے ان چیلنجز کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
مہنگائی اور درآمدی مصنوعات پر ڈیوٹیز کا دباؤ
کاسمیٹکس انڈسٹری کو صرف سرحدی صورتحال ہی کا سامنا نہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور درآمدی مصنوعات پر ڈیوٹیز نے بھی صارفین اور صنعتکاروں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ خائستہ رحمان کے مطابق خاص طور پر امپورٹڈ کلر کاسمیٹکس اور دیگر بیوٹی پراڈکٹس کی مارکیٹ پر صارفین کی کم ہوتی قوتِ خرید کے اثرات واضح ہیں۔ ایک طرف خام مال، پیکیجنگ اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف عام صارف قیمتوں میں اضافے کے باعث اپنی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہے۔ یہ صورتحال مقامی مینوفیکچررز کے لیے ایک دوہرا چیلنج پیدا کرتی ہے: انہیں معیار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مصنوعات کی قیمت کو بھی صارفین کی پہنچ میں رکھنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔
مقامی صنعت کیوں ضروری ہے؟
خائستہ رحمان کے مطابق پاکستان میں کاسمیٹکس انڈسٹری ایک بڑی مارکیٹ بن چکی ہے اور متعدد پاکستانی کمپنیاں اب قومی سطح سے نکل کر بین الاقوامی مارکیٹوں تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں کئی ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو مختلف ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کر رہی ہیں، تاہم خیبر پختونخوا میں کاسمیٹکس مینوفیکچرنگ کا شعبہ ابھی نسبتاً محدود ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صوبے میں مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دے کر درآمدی مصنوعات پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ خائستہ رحمان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صنعتکاروں کو سہولت دے اور صنعتی ماحول بہتر بنایا جائے تو خیبر پختونخوا میں کاسمیٹکس انڈسٹری ایک بڑا کاروباری اور روزگار کا شعبہ بن سکتی ہے۔
صارفین کے لیے خائستہ رحمان کا اہم پیغام
کاسمیٹکس مصنوعات کی خریداری کے حوالے سے خائستہ رحمان صارفین میں آگاہی کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق لوگ اکثر کاسمیٹکس خریدتے وقت صرف پیکیجنگ، خوشبو یا اشتہار کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں، حالانکہ کسی بھی سکن یا ہیئر کیئر پروڈکٹ کے انتخاب میں اس سے زیادہ اہم چیزیں موجود ہیں۔ وہ صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی کاسمیٹکس پروڈکٹ کو خریدنے سے پہلے سب سے پہلے اس کی **انگریڈینٹ لسٹ** ضرور دیکھیں۔ اس کے بعد صارف کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پروڈکٹ کس کمپنی یا فیکٹری نے تیار کیا ہے اور اس پر مینوفیکچرر کا مکمل پتہ درج ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی پروڈکٹ پر مینوفیکچرر کی مناسب معلومات موجود نہ ہوں تو صارف کو اس کے معیار اور افادیت کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔ خائستہ رحمان کہتے ہیں کہ صارف کو اپنی جلد یا بالوں کی ضرورت کے مطابق مصنوعات کا انتخاب کرنا چاہیے اور جہاں مناسب ہو، استعمال سے پہلے پروڈکٹ کا ٹیکسچر بھی چیک کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خوبصورت پیکیجنگ اور اچھی خوشبو اپنی جگہ، لیکن کسی کاسمیٹکس پروڈکٹ کا اصل انتخاب اس کے اجزاء، مینوفیکچرر کی معلومات اور معیار کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔
معیاری خام مال اور تحقیق پر زور
پرماننٹ کاسمیٹکس کے مطابق کمپنی اپنی مصنوعات کے لیے مخصوص ایکٹو اور ہربل انگریڈینٹس مجاز سپلائرز سے حاصل کرتی ہے۔ خائستہ رحمان کے مطابق کمپنی خام مال کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سپلائرز سے اینالیسس سرٹیفکیٹس بھی حاصل کرتی ہے اور مخصوص مصنوعات کی تیاری میں فارما گریڈ انگریڈینٹس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق سکن اور ہیئر کیئر مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزاء کا معیار انتہائی اہم ہے کیونکہ صارفین انہیں براہِ راست اپنی جلد اور بالوں پر استعمال کرتے ہیں۔ پرماننٹ کاسمیٹکس کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے کمپنی ریسرچ، خام مال کے معیار اور کوالٹی کنٹرول کے عمل کو اپنی پیداواری حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔
ہیئر کیئر میں پیچیدہ مسائل اور احتیاط
خائستہ رحمان کے مطابق بالوں کا گرنا ایک پیچیدہ مسئلہ ہو سکتا ہے اور اس کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بالوں کے مسائل اکثر بتدریج پیدا ہوتے ہیں، اس لیے صارفین کو بھی ہیئر کیئر کے معاملے میں بروقت توجہ دینی چاہیے۔ پرماننٹ کاسمیٹکس کے مطابق کمپنی کی ہیئر کیئر لائن میں اینٹی ہیئر فال ٹانک اور ڈینڈرف شیمپو سمیت مختلف مصنوعات شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کا ڈینڈرف شیمپو کئی سال سے اس کی اہم مصنوعات میں شامل ہے اور اس میں سیلینیم سلفائیڈ، کیٹوکونازول، سیلیسیک ایسڈ، ٹی ٹری آئل اور کنڈیشننگ اجزاء شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم خائستہ رحمان کے مطابق شدید یا مسلسل نوعیت کے بالوں، جلد، فنگس، ایکزیما، سورائسس یا دیگر طبی مسائل کی صورت میں صارفین کو خود سے علاج کرنے کے بجائے ماہرِ جلد یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
پرماننٹ کاسمیٹکس صرف اپنے برانڈ کے لیے مصنوعات تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ کمپنی کے مطابق وہ دیگر کاروباری اداروں کے لیے بھی **Private Label، OEM اور ODM Manufacturing** کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ اس ماڈل کے ذریعے ایسے کاروبار جو اپنا کاسمیٹکس برانڈ شروع کرنا چاہتے ہیں، مقامی مینوفیکچرنگ کمپنی کے ذریعے اپنی مصنوعات تیار کرا سکتے ہیں۔ خائستہ رحمان کے مطابق پاکستان میں کاسمیٹکس مارکیٹ کے پھیلاؤ کے ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ اور پرائیویٹ لیبل کے شعبے میں بھی مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
روزگار کے لیے کاسمیٹکس انڈسٹری ایک بڑا موقع
کسی بھی صنعتی شعبے کی ترقی کا اثر صرف فیکٹری تک محدود نہیں رہتا۔ مینوفیکچرنگ کے ساتھ خام مال، پیکیجنگ، پرنٹنگ، ٹرانسپورٹ، گودام، ڈسٹری بیوشن، مارکیٹنگ اور ریٹیل جیسے متعدد شعبے منسلک ہوتے ہیں۔ اسی لیے خیبر پختونخوا میں کاسمیٹکس مینوفیکچرنگ کے فروغ سے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ خائستہ رحمان کے مطابق اگر حکومت خیبر پختونخوا میں صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو مناسب سہولیات فراہم کرے تو صوبے میں کاسمیٹکس سمیت مختلف صنعتوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔
سرحدی بحران کے درمیان مقامی صنعت کی امید
افغان سرحد کی بندش نے خیبر پختونخوا کی معیشت کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ صوبے کی اقتصادی بنیاد کو کس طرح مزید مضبوط اور متنوع بنایا جائے۔ صرف سرحدی تجارت پر انحصار کے بجائے مقامی پیداوار، صنعتی سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ **پرماننٹ کاسمیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ** کا 2012 سے جاری سفر اس بات کی مثال ہے کہ خیبر پختونخوا سے بھی مقامی مینوفیکچرنگ برانڈ کو قومی سطح تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ خائستہ رحمان کے مطابق چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اگر حکومت صنعت کو سہولت دے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے، سپلائی چین اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرے اور مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کرے تو خیبر پختونخوا میں کاسمیٹکس انڈسٹری کے لیے ایک نئی راہ کھل سکتی ہے۔ پشاور کے جلو زئی اکنامک زون میں پرماننٹ کاسمیٹکس کا نیا پروڈکشن یونٹ اسی امید کی ایک مثال ہے۔ یہ صرف ایک کمپنی کی توسیع نہیں بلکہ اس سوال کا ممکنہ جواب بھی ہے کہ **کیا خیبر پختونخوا اپنی مقامی صنعت کے ذریعے روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی خود انحصاری کی طرف بڑھ سکتا ہے؟**
خائستہ رحمان کا جواب واضح ہے: اگر صنعتکار کو سازگار ماحول، حکومتی تعاون اور ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تو خیبر پختونخوا میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔اور کاسمیٹکس انڈسٹری، ان کے خیال میں، ان شعبوں میں سے ایک ہے جو آنے والے برسوں میں صوبے کے صنعتی مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

