Skip to main contentSkip to footer

پاکستان کی 10بڑی مصنوعات سے 19.43 ارب ڈالر کی آمدن

پاکستان کی 10بڑی مصنوعات سے 19.43 ارب ڈالر کی آمدن

پاکستان کی 10 بڑی برآمدی مصنوعات سے مالی سال 2025-26 میں تقریبا 19.43 ارب ڈالر حاصل ہوئے جن میں نٹ ویئر 4.97 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد تیار ملبوسات سے 4.29 ارب ڈالر اور بستر کی چادروں و دیگر مصنوعات سے 3.11 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف ٹیکسٹائل کی ان تین اقسام سے تقریبا 12.37 ارب ڈالر حاصل ہوئے، جو ان 10 بڑی برآمدی مصنوعات کی مجموعی برآمدات کا تقریبا 64 فیصد بنتے ہیں۔مالی سال 2022 سے 2026 تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نٹ ویئر پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات رہی۔ مالی سال 2022 میں اس کی برآمدات 5.121 ارب ڈالر تھیں

خیبر پختونخوا میں 43ارب 51کروڑ کے 3پن بجلی منصوبوں پر پیشرفت جاری

جو مالی سال 2023 میں کم ہو کر 4.437 ارب ڈالر اور مالی سال 2024 میں 4.408 ارب ڈالر رہ گئیں۔ تاہم مالی سال 2025 میں نٹ ویئر کی برآمدات دوبارہ بڑھ کر 5.010 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ مالی سال 2026 میں معمولی کمی کے ساتھ 4.966 ارب ڈالر رہیں۔تیار ملبوسات کی برآمدات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 2022 میں یہ برآمدات 3.905 ارب ڈالر تھیں، جو 2023 میں کم ہو کر 3.492 ارب ڈالر رہیں، تاہم اس کے بعد مسلسل اضافہ ہوا اور مالی سال 2024 میں 3.564 ارب، مالی سال 2025 میں 4129 ارب اور مالی سال 2026 میں 4.288 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔بستر کی چادروں اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2022 میں 3.293 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2023 میں 2.692 ارب ڈالر رہ گئیں۔ بعد ازاں یہ برآمدات مالی سال 2024 میں 2.803 ارب، مالی سال 2025 میں 3.113 ارب ڈالر تک پہنچیں اور مالی سال 2026 میں بھی 3.113 ارب ڈالر پر برقرار رہیں۔چاول کی برآمدات میں اتار چڑھا زیادہ رہا۔ مالی سال 2023 میں 2.149 ارب ڈالر کی برآمدات مالی سال 2024 میں بڑھ کر 3.932 ارب ڈالر ہو گئیں، تاہم مالی سال 2025 میں کم ہو کر 3.353 ارب اور مالی سال 2026 میں 2.292 ارب ڈالر رہ گئیں۔

پاکستان کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا

اس کے برعکس سوتی کپڑے کی برآمدات میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔ مالی سال 2022 میں 2.438 ارب ڈالر کی برآمدات مالی سال 2026 میں کم ہو کر 1.672 ارب ڈالر رہ گئیں۔دیگر بڑی برآمدی مصنوعات میں تولیے شامل ہیں، جن سے مالی سال 2026 میں 1.062 ارب ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ مالی سال 2022 میں یہ برآمدات 1.111 ارب ڈالر تھیں۔ چمڑے سے تیار مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2026 میں 576 ملین ڈالر رہیں۔گوشت کی برآمدات میں اضافہ ہوا اور مالی سال 2022 کے 341 ملین ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں یہ بڑھ کر 530 ملین ڈالر ہو گئیں۔ مچھلی اور اس سے تیار مصنوعات کی برآمدات 482 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ جراحی کے آلات کی برآمدات 452 ملین ڈالر پر تقریبا مستحکم رہیں۔ٹیکسٹائل اور چاول پر برآمدات کے زیادہ انحصار کے باعث حکومت نے برآمدی شعبے میں مزید تنوع پیدا کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ قومی محصولات پالیسی 2025-30 کے تحت خام مال اور درمیانی درجے کی اشیا پر عائد محصولات میں کمی کی جا رہی ہے، جبکہ صنعتی ترقی اور عالمی پیداواری زنجیروں میں شمولیت کے لیے اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ضابطہ جاتی ڈیوٹی کو 2030 تک ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔

پاکستان اور کرغزستان میں ہونے والے تجارتی معاہدوں کی تفصیل سامنے آگئی

دستاویز کے مطابق پاکستان نے خدمات کے شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لیے ترکیہ کے ساتھ رسد، تصدیق اور منڈی تک رسائی کے معاملات میں دوطرفہ تعاون بھی شروع کیا ہے۔پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات بھی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ ترکیہ، ازبکستان اور آذربائیجان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں سے 91 فیصد مصنوعات کو بغیر ڈیوٹی رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی منڈی میں ترقی پذیر ممالک کے لیے تجارتی اسکیم کے تحت پاکستان کی 94 فیصد سے زیادہ برآمدی مصنوعات کو بغیر ڈیوٹی رسائی حاصل ہے۔علاقائی رابطوں کو بھی افغانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے انتظامات کے ذریعے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔حکومت ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کی شرائط کو بہتر بنایا جا سکے اور بدلتے ہوئے عالمی منڈی کے حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان روایتی طور پر غالب برآمدی مصنوعات پر انحصار کم کرکے اپنی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

جرمنی نے روزگار کے نئے مواقع کا اعلان کردیا، آج ہی اپلائی کریں

Next Post
ستائیس ستمبر ملک کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا دن ہوگا ،سہیل آفریدی
Previous Post
دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40سال بعد پگھل کر ختم ہوگیا