خیبر پختونخوا میں 43ارب 50کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تین پن بجلی منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے جن کا مقصد نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، موجودہ پن بجلی گھر کی استعداد بڑھانا اور پرانے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی اگست 2026 کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے کے ان تین منصوبوں میں سے ایک کی مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے جولائی میں منظوری دی جبکہ دو منصوبوں کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غور کے لیے بھجوانے کی سفارش کی گئی۔
ایپل نے آئی فون ایکس ناکارہ موبائل فونز کی فہرست میں شامل کردیا
ان تینوں میں سب سے بڑا منصوبہ لوئر دیر میں 40.8 میگاواٹ کوٹو پن بجلی منصوبہ ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 21 ارب 72 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کو مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو منظوری کے لیے بھجوانے کی سفارش کی ہے۔یہ منصوبہ تینوں منصوبوں میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں سب سے بڑا اضافہ کرے گا۔ تکمیل کے بعد صوبے کی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 40.8 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔دوسرا منصوبہ ملاکنڈ میں درگئی پن بجلی گھر کی بحالی کا ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 14 ارب 57 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے۔ بجلی ڈویژن کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کو بھی غور کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔کوٹو منصوبے کے برعکس درگئی منصوبے کا مقصد نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل کرنا نہیں بلکہ پہلے سے موجود پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی ہے جس سے بجلی گھر کی کارکردگی اور قابلِ اعتماد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
حکومت نے ہدف سے 100ارب روپے زیادہ پیٹرولیم لیوی وصول کرلیا
تیسرا منصوبہ چترال پن بجلی گھر کی استعداد ایک میگاواٹ سے بڑھا کر پانچ میگاواٹ کرنے کا ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 7 ارب 21 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے جولائی میں اس منصوبے کی منظوری دی۔چترال منصوبے سے بجلی گھر کی پیداواری صلاحیت چار گنا بڑھ جائے گی اور موجودہ پن بجلی گھر کی توسیع کے ذریعے مزید 4 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔تینوں منصوبوں کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت تقریبا 43 ارب 51 کروڑ روپے بنتی ہے۔ یہ منصوبے صوبے میں پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے تین مختلف طریقوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا، موجودہ بجلی گھر کی استعداد بڑھانا اور پہلے سے قائم پن بجلی گھر کی بحالی شامل ہیں۔یہ منصوبے جولائی میں مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے زیرِ غور آنے والے بجلی کے شعبے کے منصوبوں کا حصہ تھے۔
کھلے گھی، تیل، دودھ کے معیار کا ملک گیر سروے کروانے کا فیصلہ
دستاویز کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد پن بجلی کی پیداوار اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، خصوصا ان علاقوں میں ہے جہاں بجلی کی سہولیات ناکافی ہیں۔خیبر پختونخوا کا پہاڑی جغرافیہ اور دریائی نظام اسے پن بجلی پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ تینوں منصوبے نئے اور موجودہ پن بجلی کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔تینوں منصوبوں میں سے چترال پن بجلی گھر کی استعداد بڑھانے کے منصوبے کو مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظوری مل چکی ہے جبکہ بڑے کوٹو اور درگئی منصوبوں کو مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کی سفارش کے بعد حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غور کی ضرورت ہوگی۔
جرمنی نے روزگار کے نئے مواقع کا اعلان کردیا، آج ہی اپلائی کریں

