Skip to main contentSkip to footer

پاکستان میں تیار کردہ سوزوکی گا ڑیوں کی برآمد کا باقاعدہ آغازہوگیا

پاکستان میں تیار کردہ سوزوکی گا ڑیوں کی برآمد کا باقاعدہ آغازہوگیا

پاکستان میں تیار کی جانیوالی سوزوکی کی مشہور گاڑیاں آلٹو اور ایوری اب برونائی کے بازاروں میں بھی نظر آئیں گی ۔ پاک سوزوکی نے ان گاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر برآمد کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپانی آٹو میکر کمپنی سوزوکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان سے باہر واقع کسی پیداواری پلانٹ سے 660 سی سی کی گاڑیاں کسی دوسرے ملک برآمد کی گئی ہیں۔سوزوکی پاکستان کے مطابق برونائی کے دارالحکومت بندر سری بیگاوان کے ایئرپورٹ مال ایٹریم پر منعقدہ تقریب کے دوران ان گاڑیوں کی باقاعدہ نمائش کی گئی

حکومت نے غیر ضروری اخراجات کم کرکے ایک ارب روپے بچا لئے

جو برونائی میں سوزوکی کے آفیشل ڈسٹری بیوٹر بوسٹیڈ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سے گاڑیوں کی برآمد کی تاریخ طویل نہیں ہے، تاہم آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (2021-2026) کے بعد پاکستان کی متعدد بڑی اٹو کمپنیوں نے اپنی گاڑیاں، ایس یو ویز، بسیں اور تھری وہیلرز دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کرنا شروع کیے۔پاکستان سے بیرون ملک گاڑیاں برآمد کرنے کا عمل بنیادی طور پر آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی کے تحت انجام پاتا ہے۔وزارتِ پیداوار و صعنت اور انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی نگرانی میں مقامی آٹو ساز کمپنیاں جاپانی اور عالمی معیار کے مطابق گاڑیاں تیار کرتی ہیں۔ جس کے بعد بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے ذریعے یہ کاریں بالخصوص دائیں ہاتھ کی ڈرائیونگ والے ممالک کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں روئی کی پیداوار عروج کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی

سرکاری اعداو شمار کے مطابق پچھلے تین مالی سالوں کے دوران پاکستان سے آٹھ آٹو کمپنیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 434 گاڑیاں دنیا کے قریبا 20 ممالک کو برآمد کی گئی ہیں۔ان گاڑیوں میں کاریں،ایس یو ویز، مائیکرو وینز، تجارتی سواریاں اور الیکٹرک و تھری وہیلرز شامل ہیں، جنہیں برونائی، جاپان، نیپال، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، افغانستان اور چند افریقی ممالک (جیسے کینیا، نائیجیریا، گھانا اور ٹوگو) بھیجا گیا۔تین سال قبل مئی 2022 میں ماسٹر چنگان نے اپنی کراس اوور ایس یو وی اوشان ایکس سات کی کھیپ اوقیانوسیہ خطے کے لئے برآمد کی تھی۔علاوہ ازیں سازگار انجینیئرنگ 2021 سے جاپان، نیپال اور افریقہ کو تھری وہیلرز اور الیکٹرک رکشے بھیج رہی ہے، جبکہ انڈس موٹر (ٹویوٹا )اور ہونڈا ایٹلس بھی ٹویوٹا کورولا الٹس اور ہونڈا سٹی جیسے ماڈلز کے یونٹس و پارٹس علاقائی منڈیوں میں فراہم کر چکی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022،23 میں جہاں صرف 100 یونٹس برآمد ہوئے تھے وہیں 2024،25 تک یہ تعداد بڑھ کر 227 یونٹس سے تجاوز کر گئی

ایپل نے آئی فون ایکس ناکارہ موبائل فونز کی فہرست میں شامل کردیا

جس سے مقامی آٹو انڈسٹری کی عالمی مارکیٹ تک رسائی ظاہر کرتی ہے۔سوزوکی پاکستان کے مطابق برونائی بھیجی جانے والی دونوں گاڑیاں تمام تر جاپانی کوالٹی کنٹرول معیار اور وہی فیچرز رکھتی ہیں جو اس وقت پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں۔اس سے قبل پاک سوزوکی عمان کو انجن آئل اور تھائی لینڈ کو سوزوکی کلٹس کے سپیئر پارٹس برآمد کر چکی ہے، تاہم مکمل گاڑیوں کی اس پیمانے پر برآمد پاکستان کی مقامی مینوفیکچرنگ پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔کمپنی کا منصوبہ ہے کہ برونائی کی منڈی میں آلٹو اور ایوری کو متعارف کروانے کے بعد سال کے آخر تک پاکستان سے سوزوکی کی بڑی بائیکس بھی برونائی منتقل کی جائیں گی۔انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے جنرل منیجر انجینئر عاصم ایاز کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بین الاقوامی منڈیوں کو گاڑیوں کی برآمد اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر اسمبل شدہ گاڑیاں عالمی معیار پر پورا اتر رہی ہیں۔انہوں نے گفتگوکرتے ہوئے انہوں کہا کہ حکومت نے آٹو سیکٹر کو برآمدی صلاحیت سے بھرپور بنانے کیلئے ٹیکس مراعات اور ایکسپورٹ پالیسی متعارف کروائی ہے، تاہم بیرونی منڈیوں میں طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدات کی حکمت عملی کا حتمی فیصلہ خود کمپنیاں کرتی ہیں۔

الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں انقلاب، 9 منٹ میں 97 فیصد چارج

Next Post
حکومت نے 12 ارب کے ڈیجیٹل منصوبوں کی منظوری دے دی
Previous Post
کینیڈا میں اچانک نمودار ہونیوالا جزیرہ غائب ہوگیا