Skip to main contentSkip to footer

حکومت نے 12 ارب کے ڈیجیٹل منصوبوں کی منظوری دے دی

حکومت نے 12 ارب کے ڈیجیٹل منصوبوں کی منظوری دے دی

حکومتِ پاکستان نے سائبر سکیورٹی اور ملک کے ڈاک کے بنیادی ڈھانچے کو خودکار بنانے کے لیے 12 ارب روپے سے زائد مالیت کے دو ڈیجیٹل جدیدکاری منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی اگست 2026 کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے جولائی 2026 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ان دونوں منصوبوں کی منظوری دی جن کی مجموعی لاگت 12.061 ارب روپے ہے۔ان دونوں میں بڑا منصوبہ ڈاک خانوں کو خودکار بنانے کا نظرثانی شدہ منصوبہ ہے جسے وزارتِ مواصلات نے پیش کیا۔ اس منصوبے کی 6.290 ارب روپے لاگت کی منظوری دی گئی ہے۔اس منصوبے کا مقصد حکومت کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کی پالیسی کے تحت ملک بھر میں ڈاک خانوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا ہے۔

پاکستان میں تیار کردہ سوزوکی گا ڑیوں کی برآمد کا باقاعدہ آغازہوگیا

دوسرا منصوبہ ڈیجیٹل پاکستان کے لیے سائبر سکیورٹی، مرحلہ اول ہے، جس کی نظرثانی شدہ لاگت 5.771 ارب روپے منظور کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق دونوں منصوبوں کے اہم مقاصد میں قومی سائبر سکیورٹی پالیسی کی تیاری اور نفاذ اور ملک کے ڈاک خانوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا شامل ہے۔حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل نظام اور خدمات کے استعمال میں اضافے کے باعث سائبر سکیورٹی کے منصوبے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ ملک میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ساتھ سائبر سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔دوسری جانب ڈاک خانوں کو خودکار بنانے کا منصوبہ ملک کے قدیم عوامی خدمات کے نیٹ ورک کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔ دستاویز میں ڈاک خانوں کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منظور شدہ منصوبوں کا ایک اہم مقصد قرار دیا گیا ہے۔

حکومت نے غیر ضروری اخراجات کم کرکے ایک ارب روپے بچا لئے

دونوں منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کا ڈیجیٹل ترقی کا ایجنڈا صرف روایتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل سکیورٹی اور عوامی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری کو بھی شامل کر رہا ہے۔یہ منصوبے جولائی میں مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں زیرِ غور آنے والی ترقیاتی تجاویز کا حصہ تھے۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 27 امور پر غور کیا گیا جن میں 22 منصوبے، چار پوزیشن پیپرزکی تجویز شامل تھی۔ نو منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ مزید نو منصوبوں کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت کے وسیع تر ترقیاتی منصوبے میں پائیدار اور جامع ترقی کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کو اہم شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ معاشی استحکام، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، برآمدات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔یوں سائبر سکیورٹی اور ڈاک خانوں کی خودکاری کے منصوبے سرکاری شعبے میں ڈیجیٹل جدیدکاری کے دو اہم پہلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں ایک طرف بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا اور دوسری طرف ملک گیر عوامی خدمات کے ایک بڑے نیٹ ورک کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

ایپل نے آئی فون ایکس ناکارہ موبائل فونز کی فہرست میں شامل کردیا

 

الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں انقلاب، 9 منٹ میں 97 فیصد چارج

Next Post
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد کروڑوں کا خزانہ نکل آیا
Previous Post
پاکستان میں تیار کردہ سوزوکی گا ڑیوں کی برآمد کا باقاعدہ آغازہوگیا