Skip to main contentSkip to footer

ممتاز عرف ممتازے پر درج 40 مقدمات کی تفصیل سامنے آگئی

ممتاز عرف ممتازے پر درج 40 مقدمات کی تفصیل سامنے آگئی

قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، قبضہ مافیا اور دیگر سنگین جرائم میں پولیس کو مطلوب اشتہاری ملزم ممتاز عرف ممتازے گزشتہ رات نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر مبینہ مسلح حملے کے دوران ہلاک ہوگیا، پولیس کے مطابق حملے میں دو ایس ایچ اوز زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران دو مبینہ حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے ہلاک ملزم ممتاز عرف ممتازے کے خلاف درج مقدمات اور اس کے جرائم کی تفصیلات جاری کردی ہیں جس کے مطابق پشاور میں ملزم کے خلاف مجموعی طور پر 40 مقدمات درج تھے جن میں قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، قبضہ مافیا، دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کی دفعات شامل تھیں۔
پولیس دستاویزات کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کے خلاف سب سے زیادہ مقدمات تھانہ داودزئی میں درج تھے جہاں ملزم کے خلاف 26 مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے، اسی طرح تھانہ فقیر آباد میں ممتاز عرف ممتازے کے خلاف 8 مقدمات درج تھے جبکہ تھانہ شاہ پور میں بھی اس کے خلاف 2 مقدمات درج تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق تھانہ خزانہ سمیت پشاور کے دیگر تھانوں میں بھی ملزم کے خلاف مقدمات درج تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ممتاز عرف ممتازے کے خلاف درج مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات بھی شامل تھے جبکہ قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، قبضہ اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے حوالے سے بھی وہ پولیس کو مطلوب تھا۔

خیبرپختونخوا کے سرکاری افسران و اہلکاروں کیخلاف 827 کیسز سامنے آگئے

پولیس کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کی اسلحہ نمائش اور مسلح افراد کے ہمراہ نقل و حرکت کی مختلف ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض فوٹیجز میں ملزم کو اسلحہ کے ساتھ جبکہ اس کے ہمراہ مسلح افراد کو بھی دیکھا جاسکتا ہے، ان فوٹیجز اور دیگر شواہد کو بھی پولیس کی جانب سے تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ممتاز عرف ممتازے طویل عرصے سے گرفتاری سے بچنے کے لیے بیرون ملک موجود تھا اور اسے پشاور پولیس نے انٹرپول کے ذریعے بحرین سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کے خلاف سنگین مقدمات کے باعث اس کی گرفتاری کے لیے کافی عرصے سے کوششیں جاری تھیں اور انٹرپول کے تعاون سے بحرین میں اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، جس کے بعد اسے قانونی کارروائی مکمل کرکے پاکستان منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق بحرین سے پاکستان منتقل کیے جانے کے بعد ممتاز عرف ممتازے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور لایا جارہا تھا کہ گزشتہ رات نادرن بائی پاس پر تھانہ شاہ پور کی حدود میں پولیس پارٹی کو مبینہ طور پر مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کردی جبکہ دستی بم بھی استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز زخمی ہوگئے۔

ریٹائرڈ افسران کی بیرونِ ملک منتقلی، پنشن غیر ملکی کرنسی میں لینے کا انکشاف

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس کے دوران دو مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگئے جبکہ پولیس کی تحویل میں موجود ممتاز عرف ممتازے بھی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا جبکہ مزید حملہ آوروں اور ان کے ممکنہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کے خلاف پشاور کے مختلف تھانوں میں درج 40 مقدمات میں سنگین نوعیت کے جرائم شامل ہیں۔ پولیس دستاویزات کے مطابق تھانہ داودزئی میں 26 مقدمات، تھانہ فقیر آباد میں 8 مقدمات اور تھانہ شاہ پور میں 2 مقدمات درج تھے جبکہ تھانہ خزانہ سمیت دیگر تھانوں میں بھی اس کے خلاف مقدمات موجود تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے تھے اور اسے پشاور پولیس کو مطلوب انتہائی اہم اشتہاری ملزمان میں شمار کیا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کے مبینہ جرائم کا دائرہ قتل اور اقدام قتل سے لے کر بھتہ خوری، قبضہ اور دیگر سنگین جرائم تک پھیلا ہوا تھا۔ پولیس ریکارڈ میں موجود مقدمات کی بنیاد پر ملزم کی گرفتاری کو پشاور پولیس کی اہم کارروائی قرار دیا گیا تھا اور انٹرپول کے ذریعے بحرین سے گرفتاری کے بعد اسے پاکستان واپس لایا گیا، تاہم پشاور منتقلی کے دوران نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر ہونے والے مبینہ حملے میں وہ ہلاک ہوگیا۔

کراچی کی لڑکی ، سنگاپور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں قتل

واقعے کے بعد پولیس نے نادرن بائی پاس اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کردی ہے جبکہ حملے کے محرکات اور ملزمان کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ پولیس تفتیشی ٹیمیں اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ حملہ آوروں کو ممتاز عرف ممتازے کی پولیس تحویل میں منتقلی اور پولیس پارٹی کی نقل و حرکت کا علم کیسے ہوا اور آیا حملہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا یا نہیں۔ پولیس کے مطابق حملے میں ملوث افراد کے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر ساتھیوں تک پہنچنے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور دیگر دستیاب مواد کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ممتاز عرف ممتازے کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی جب پشاور پولیس نے اسے انٹرپول کے ذریعے بحرین سے گرفتار کرکے پاکستان واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ پولیس دستاویزات کے مطابق اس کے خلاف پشاور کے مختلف تھانوں میں مجموعی طور پر 40 مقدمات درج تھے اور ان میں متعدد سنگین دفعات شامل تھیں۔ نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر مبینہ حملے میں دو پولیس افسران کے زخمی ہونے، دو مبینہ حملہ آوروں اور ممتاز عرف ممتازے کی ہلاکت کے بعد پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔

 

 

پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

Next Post
بالائی اضلاع میں گلیشیئر پگھلنے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری
Previous Post
اسلام آباد لندن، ماسکو، ٹورنٹو سے زیادہ محفوظ شہر بن گیا