Skip to main contentSkip to footer

بالائی اضلاع میں گلیشیئر پگھلنے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا نے بالائی اضلاع میں گلیشیئر پگھلنے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا۔ پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ کے مطابق صوبے میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب اور تیز پانی کے بہائو کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق گرمی اور 4ستمبرتک وقفے وقفے سے بارشوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے کا خطرہ ہے جس سے گلیشیئر والی جھیلوں کے حجم اور پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب اور تیز پانی کے بہائو کا خدشہ بھی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر بالا، دیر زیریں، سوات، کوہستان بالا، کوہستان زیریں اور مانسہرہ کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔ حساس مقامات میں انخلا کی مشقیں اور محفوظ مقامات کو تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں ۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہوائیں پاکستان میں داخل ہوگئیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے ۔اس وران اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے۔مری اور گلیات سمیت کشمیر اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں بھی تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بارشوں کے باعث بالائی علاقوں میں موسم مزید سرد اور خنک ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع، جن میں دیر، سوات، کوہستان، بٹگرام، پشاور، نوشہرہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ شامل ہیں، میں بھی موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔پنجاب کے مختلف علاقوں جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ اور گجرات میں بھی تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ ادھر سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے، تاہم ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابرآلود رہ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 6 ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اس دوران بالائی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔ دوسر ی جانب دریائے سندھ میں چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد میں نمایاں کمی کے بعد سیلابی صورتحال ختم ہوگئی اور پانی کی صورتحال نچلے درجے کے سیلاب سے معمول پر آگئی۔چشمہ بیراج ذرائع کے مطابق بیراج پر پانی کی آمد 2لاکھ 6ہزار 550کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ اخراج 1لاکھ 88ہزار 250کیوسک ہے۔ذرائع کے مطابق چشمہ بیراج پر پانی کی سطح بھی کم ہو کر 646فٹ ہوگئی ہے، پانی کی آمد میں کمی کے بعد چشمہ بیراج پر سیلابی کیفیت ختم ہوگئی ہے اور صورتحال معمول پر آنے لگی ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا نے بالائی اضلاع میں گلیشیئر پگھلنے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا۔ پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ کے مطابق صوبے میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب اور تیز پانی کے بہائو کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق گرمی اور 4ستمبرتک وقفے وقفے سے بارشوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے کا خطرہ ہے جس سے گلیشیئر والی جھیلوں کے حجم اور پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب اور تیز پانی کے بہائو کا خدشہ بھی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر بالا، دیر زیریں، سوات، کوہستان بالا، کوہستان زیریں اور مانسہرہ کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔

اسلام آباد لندن، ماسکو، ٹورنٹو سے زیادہ محفوظ شہر بن گیا

حساس مقامات میں انخلا کی مشقیں اور محفوظ مقامات کو تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں ۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہوائیں پاکستان میں داخل ہوگئیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے ۔اس وران اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے۔مری اور گلیات سمیت کشمیر اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں بھی تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بارشوں کے باعث بالائی علاقوں میں موسم مزید سرد اور خنک ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع، جن میں دیر، سوات، کوہستان، بٹگرام، پشاور، نوشہرہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ شامل ہیں، میں بھی موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔

امریکا میں ملازمت کے خواہش مند افراد کیلئے بری خبرآگئی

پنجاب کے مختلف علاقوں جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ اور گجرات میں بھی تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ ادھر سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے، تاہم ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابرآلود رہ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 6 ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اس دوران بالائی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔ دوسر ی جانب دریائے سندھ میں چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد میں نمایاں کمی کے بعد سیلابی صورتحال ختم ہوگئی اور پانی کی صورتحال نچلے درجے کے سیلاب سے معمول پر آگئی۔چشمہ بیراج ذرائع کے مطابق بیراج پر پانی کی آمد 2لاکھ 6ہزار 550کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ اخراج 1لاکھ 88ہزار 250کیوسک ہے۔ذرائع کے مطابق چشمہ بیراج پر پانی کی سطح بھی کم ہو کر 646فٹ ہوگئی ہے، پانی کی آمد میں کمی کے بعد چشمہ بیراج پر سیلابی کیفیت ختم ہوگئی ہے اور صورتحال معمول پر آنے لگی ہے۔

طوفانی ہوائوں کے باعث تین ممالک میں صورتحال خطرناک ہونے کا خدشہ

 

 

Next Post
امام الحق کی ماضی کی رپورٹ بھی کھل گئی، جعلی انجری کی کہانی سامنے آگئی
Previous Post
ممتاز عرف ممتازے پر درج 40 مقدمات کی تفصیل سامنے آگئی