Skip to main contentSkip to footer

امریکا میں ملازمت کے خواہش مند افراد کیلئے بری خبرآگئی

امریکا میں ملازمت کے خواہش مند افراد کیلئے بری خبرآگئی

امریکا میں ایچ ون بی ویزے کا حصول مزید مہنگا ہونے جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئی مجوزہ قانون سازی پیش کی ہے جس کے تحت نئے ایچ ون بی ویزوں پر 103,265 ڈالر کی فیس مستقل طور پر عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ ویزا خاص طور پر ٹیکنالوجی، تعلیم، تحقیق اور دیگر ایسے شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین کیلئے استعمال ہوتا ہے۔برطانوی خبررساںادارے کے مطابق یہ تجویز اس فیس کو مستقل شکل دینے کی کوشش ہے جو ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال عارضی طور پر نافذ کی تھی۔ تاہم اس فیس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور جون 2026 میں ایک وفاقی جج نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو فیس وصول کرنے سے روک دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل جاری ہے جبکہ ایک دوسری عدالت بھی اس معاملے سے متعلق قانونی چیلنج کا جائزہ لے رہی ہے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی مجوزہ قانون سازی کے مطابق 103,265 ڈالر کی فیس کو مستقل کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی قانون بن جاتی ہے تو اس کا اطلاق نئے ایچ ون بی ویزوں کے بعض درخواست گزاروں پر ہوگا۔ امکان ہے کہ اس قانون کو رواں سال کے اختتام تک حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ایچ ون بی پروگرام کے ذریعے امریکی کمپنیاں ایسے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دے سکتی ہیں جن کے پاس کسی مخصوص شعبے میں خصوصی تربیت یا مہارت ہو۔ اس پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں

پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق

جبکہ اعلی تعلیمی ڈگری رکھنے والے افرادکیلئے مزید 20 ہزار ویزوں کی گنجائش ہے۔ عام طور پر یہ ویزے تین سے چھ سال کی مدت کے لئے منظور کیے جاتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجویز سے پہلے ایچ ون بی ویزے کی فیس عام طور پر تقریبا 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر کے درمیان ہوتی تھی۔ اس کے مقابلے میں 103,265 ڈالر کی نئی فیس کئی گنا زیادہ ہے، جس سے امریکی کمپنیوں کے لیے بیرون ملک سے ماہر کارکن بلانے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔تاہم یہ فیس ہر ایچ ون بی درخواست گزار پر لاگو نہیں ہوگی۔ امریکا میں پہلے سے طالب علم ویزے پر موجود غیر ملکی طلبہ، جو ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والے افراد کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس اضافی فیس سے مستثنی ہوں گے۔ اسی طرح موجودہ ایچ ون بی ویزوں کی تجدید پر بھی یہ فیس لاگو نہیں ہوگی۔ایچ ون بی پروگرام پر امریکا میں کافی عرصے سے بحث جاری ہے۔ صدر ٹرمپ اور پروگرام کے دیگر ناقدین کا مقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس نظام کا غلط استعمال کرتی ہیں اور امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کرتی ہیں۔

ترک محقق کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ

دوسری جانب کاروباری اداروں اور کئی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ امریکا میں بعض مخصوص شعبوں کے لئے مطلوبہ تعداد میں ماہر امریکی کارکن دستیاب نہیں ہوتے، اس لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایچ ون بی پروگرام امریکی کاروباروں کو دنیا بھر سے باصلاحیت افراد حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق فروری کے اختتام تک تقریبا 70 آجروں نے 85 ایچ ون بی ویزا درخواستوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی فیس ادا کی تھی، اس وقت تک جب یہ فیس عدالت میں زیر بحث تھی۔اس فیس کے خلاف امریکی چیمبر آف کامرس، بعض ڈیموکریٹ ریاستی حکومتوں، مزدور تنظیموں اور آجروں کے اتحاد سمیت کئی فریق عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔

ٹرمپ کے بیٹے کو قتل کرنے کیلئے 2ارب روپے انعام کا اعلان

ان کا مئوقف ہے کہ صدر کو امیگریشن قانون کے تحت ملک میں داخلے پر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے، لیکن اس اختیار کے ذریعے کانگریس کی اجازت کے بغیر نئی فیس یا ایسا مالی بوجھ عائد نہیں کیا جا سکتا جس سے حکومت کو آمدنی حاصل ہو۔ٹرمپ انتظامیہ اس مقف سے اختلاف کرتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم روایتی ٹیکس نہیں بلکہ ملک میں غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے صدارتی اختیار کے تحت عائد کی گئی فیس ہے۔ حکومت نے یہ بھی مقف اختیار کیا ہے کہ عدالتوں کو صدر کے اس اختیار پر محدود ہی سوال اٹھانے چاہییں۔ایچ ون بی پروگرام پر نئی پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن کے خلاف مجموعی طور پر سخت پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

کارخانے کی توسیع کے دوران 2600سال پرانا قبرستان دریافت

امریکی حکام نے گزشتہ سال ایچ ون بی درخواست گزاروں کی اضافی جانچ کا حکم بھی دیا تھا اور ویزا انتخاب کے ایسے نئے طریقہ کار کی تجویز دی تھی جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ والے کارکنوں کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اس سخت پالیسی کا اثر ایچ ون بی پروگرام میں دلچسپی پر پڑا ہے۔ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے مطابق 2026 کے لیے آجروں نے تقریبا 3 لاکھ 44 ہزار ایچ ون بی ویزوں کے لیے رجسٹریشن کرائی، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد سے زیادہ کم تھی۔ 2023 میں یہ تعداد تقریبا 7 لاکھ 94 ہزار تھی۔اس کے علاوہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے رواں ماہ ایچ ون بی کارکنوں کی قیام کی مدت بڑھانے یا بیرون ملک موجود ملازمین کو امریکا منتقل کرنے سے متعلق بعض درخواستوں پر ساڑھے چار ہزار ڈالر تک کی اضافی فیس بھی تجویز کی ہے۔

 

سرحد یونیورسٹی تنازع کہاں سے شروع ہوا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

Previous Post
طوفانی ہوائوں کے باعث تین ممالک میں صورتحال خطرناک ہونے کا خدشہ