Skip to main contentSkip to footer

کراچی کی لڑکی ، سنگاپور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں قتل

کراچی کی لڑکی ، سنگاپور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں قتل

اسلام آباد پولیس نے 2013 میں ایک ہائی پروفائل کیس کو کیسے حل کیا تھا ؟  فہمینہ چوہدری کا تعلق کراچی سے تھا ۔ یہ نہ صرف ایک بنکار خاتون تھی بلکہ ماڈلنگ بھی کرتی تھی اور مقابلہ حسن میں بھی حصہ لیتی ، اگرچہ یہ کبھی ملکہ حسن نہ بن سکی لیکن بہرحال ایک اچھی ماڈل تھی ، اچھا کماتی اور سنگا پور میں معاشی طور پر زبردست زندگی گزار رہی تھی ۔ فہمینہ شادی شدہ تھی اور اسکا ایک بیٹا بھی تھا مگر 2013 میں اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے لاپتہ ہونے سے چند ماہ پہلے اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی ۔ فہمینہ چوہدری کے لاپتہ ہونے اور نمبر بند جانے کی اطلاع اس کی والدہ نے کراچی سے اسلام آباد آکر پولیس کو دی اور اسے ڈھونڈنے میں مدد کی درخواست کی ۔ پولیس نے لڑکی کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش شروع کی معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتہ چلا کہ ایک نمبر سے فہمینہ کی والد کو ایک میسج آیا تھا کہ 2 کروڑ تاوان کا بندوبست کرکے اسلام آباد آجاؤ ۔

عدالتی حکم کے باوجود پیسکو ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی جاری

 

تمہاری بیٹی زندہ ہے اور اسکے ساتھ دو لوگوں کو قتل کردیا گیا ہے لیکن اگر چند روز میں تاوان نہ دیا گیا تو تمہاری بیٹی کو بھی قتل کردیا جائے گا ۔ پھر پتہ چلا کہ فہمینہ جس ہوٹل میں رکی ہوئی تھی وہاں کی بکنگ معاذ نامی ایک نوجوان نے کروائی تھی اور اس نے خود کو فہمینہ کا شوہر قرار دیا تھا ، معاذ کی معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتہ چلا کہ وہ ایک نامور خاتون بیوروکریٹ کا بیٹا ہے جو کچھ عرصہ سنگا پور میں پاکستانی سفارتخانے میں خدمات سر انجام دیتی رہیں ۔ یہ معلومات اتنی تھیں کہ معاذ کو گرفتار کرنا ضروری ہو گیا ، پولیس نے اسے گرفتار کیا اور تھانے لائی تو اسکے لیے سفارشوں کی لائن لگ گئی ، کیا بیوروکریسی ،کیا فورسز ہر جگہ سے فون آنے لگے ، سلام اس ایس ایچ او کی جرات پر جس نے ہر سفارش پر جواب دیا کہ لڑکی کا کچھ پتہ چلنے دیں اگر لڑکا بے قصور ہے تو اسے ضروری معلومات لے کر چھوڑ دیا جائے گا ۔

بابڑہ میں 12 اگست 1948 کو کیا واقعہ پیش آیا تھا؟

 

پولیس نے لڑکے سے پوچھ گچھ کی لیکن اپنے اثر رسوخ کی اکڑ میں وہ ہر سوال کا جواب ناں میں دیتا ، اور ظاہر کرتا رہا کہ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے ۔ اسکا خاندانی پس منظر ہے اسکے والدین کی ملک کے لیے خدمات ہیں بھلا وہ کسی جرم کا کیسے سوچ سکتا ہے ۔ لڑکی کے بارے میں اسکا موقف تھا کہ فہمینہ میری دوست ضروری تھی وہ پریشانی میں اسلام آباد آئی تو میں نے اسے ہوٹل میں بکنگ کروا دی اس سے زیادہ اسے نہین معلوم کہ وہ ہوٹل سے نکل کر اکیلی کہاں جاتی تھی ، ظاہر ہے ماڈل گرل تھی تو اسکے میل جول یا تعلقات سے وہ ناواقف تھا ۔معاذ کے اس موقف پر پولیس اس کیس میں اٹک گئی لیکن اسے حوالات میں رکھا گیا اور اس نمبر پر کام شروع کیا گیا جو فہمینہ کی والدہ کو تاوان کا پیغام بھیجنے کے لیے استعمال ہوا تھا ۔۔ یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ سم ایک ہونڈا گاڑی کے ٹریکر کی تھی

مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ

 

اس گاڑی کو تلاش کیا گیا تو وہ رینٹ اے کار کی گاڑی نکلی ، اس رینٹ اے کار سے ریکارڈ لیا گیا تو پتہ چلا کہ معاذ نے وہ گاڑی چند روز قبل رینٹ پر لی تھی ۔ اب پولیس کے پاس ایک مضبوط ثبوت آگیا تھا ، ایس ایچ او صاحب نے بذات خود ملزم کو انٹیروگیشن روم میں ٹف ٹائم دیا تو چند گھنٹوں کے بعد ملزم طوطے کی طرح فر فر بولنے لگا ۔ اس نے ایک گلاس پانی مانگا اور پھر پانی پی کر تفصیلات بتانے لگا ۔۔۔ اسکی اور فہمینہ کی ملاقات سنگا پور میں ہوئی جب معاذ کی والدہ وہاں تعینات تھیں ۔ ایک ڈانسنگ کلب میں ملاقات محبت اور روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتون میں بدل گئی ، فہمینہ اس پرجوش نوجوان کی دیوانی ہو گئی اور اس نے اظہار کرنا شروع کردیا کاش تم میرے شوہر ہوتے ، معاذ بھی فہمینہ کا عادی ہو چکا تھا یہ جواب دیتا کہ اگر شوہر سے طلاق لے لو تو میں تمہارے ساتھ شادی کرلوں گا

چین میں پولیس نے مردے کو گرفتار کرلیا

 

۔ شاید دونوں حد سے بڑھ چکے تھے یا پھر فہمینہ کی عقل پر پردہ پڑ گیا تھا اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی اور واپس کراچی اپنی ماں کے پاس آگئی ، ادھر معاذ بھی اپنی والدہ کے ساتھ واپس پاکستان آگیا ۔۔۔ چند ہفتے ماں کے پاس گزارنے کے بعد فہمینہ اسلام آباد پہنچی اور ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہو گئی ۔ اس بیچاری کا پروگرام تھا کہ اسکے پاس موجود ایک بھاری رقم (لگ بھگ 70 لاکھ روپے) سے معاذ کوئی کاروبار شروع کرے اور ساتھ ہی اس سے شادی کر لے تاکہ وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کریں ، معاذ نے رقم تو لے لی لیکن اب فہمینہ اسے بوجھ لگنے لگی ، چنانچہ اس نے فہمینہ سے جان چھڑانے کے لیے ایک دوست کی مدد حاصل کی دونوں نے بنی گالہ میں ایک مکان کرائے پر لیا ، وقوعہ سے دو رو قبل وہ فہمینہ کو اس گھر میں لے گئے جہاں انہوں نے ظاہر کیا کہ اب وہ اسی گھر میں رہے گی یہیں شادی ہو گئی وغیرہ وغیرہ 

 

لیکن دوسری رات معاذ نے اپنے دوست کی مدد سے فہمینہ کو پہلے نیند کی گولیاں دے کر سلا دیا پھر اسے گلا گھونٹ کر مار ڈالا ۔ اسکے بعد یہ فہمینہ کی لاش ایک رضائی میں لپیٹ کر اور اسی ہونڈا کار کی ڈگی میں ڈال کر مارگلہ پہاڑیوں میں ایک سنسنان جگہ پر لے گئے جہاں بدقسمت فہمینہ چوہدری کو ایک گڑھا کھود کر دفن کر دیا گیا۔ پولیس نے معاذ کی نشاندہی پر لا۔ش ڈھونڈ نکالی ، پوسٹ ۔مارٹم ہوا ، لا۔ش نسبتا محفوظ تھی ۔رپورٹ میں وجہ قتل گلا دبانے اور سانس بند ہونے سے قرار دی گئی جبکہ معدے سے نشہ آور شے کے استعمال کا ثبوت بھی مل گیا ۔ بھر پور چالان کے ساتھ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا جہاں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی ، چند ماہ بعد دونوں ملزمان کو سزا۔ئے موت سنا دی گئی مگر افسوس یہ عدالتی سزا صرف چند سال برقرار رہی ، پیسہ اور اثرو رسوخ جیت گیا ، فہمینہ چوہدری کی بوڑھی ماں پیسےا ور طاقت و اثر رسوخ کا مقابلہ نہ کرسکی اور دو سال بعد ہی دونوں ملزمان کو عدالت نے شک کا فائدہ دے کر بری کردیا 

 

بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم میں پنجاب سرفہرست

Previous Post
ٹرمپ کے جنگ بندی کیلئے پاسداران انقلاب کیساتھ خفیہ رابطوں کا انکشاف