Skip to main contentSkip to footer

ٹرمپ کے جنگ بندی کیلئے پاسداران انقلاب کیساتھ خفیہ رابطوں کا انکشاف

ٹرمپ کے جنگ بندی کیلئے پاسداران انقلاب کیساتھ خفیہ رابطوں کا انکشاف

امریکی ویب سائٹ ایکسوئس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ایرانی اعلی عہدیداروں سے مذاکرات کے دوران پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کیے اور اس کے لیے کردستان ریجن کے صدر نے دونوں جانب سے پیغام رسانی کی اور امریکی خدشات کو دور کیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رپورٹ میں بتایا کہ رواں برس مئی کے وسط میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے والے امریکی مذاکرات کار مخصمے کا شکار تھے اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ جن کے ساتھ وہ مذاکرات کر رہے ہیں آیا وہ واقعی ایران کی طاقت ور فورس پاسداران انقلاب کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ایک غیرروایتی طریقہ اپنایا۔  رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست پاسداران انقلاب کی قیادت سے رابطہ کیا اور ان خفیہ رابطوں کے لیے عراق کے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی کا انتخاب کیا کیونکہ ان وہ ایک ایسی منفرد شخصیت ہیں جن پرامریکا اور پاسداران انقلاب دونوں کی قیات کا اعتماد تھا۔ویب سائٹ نے بتایا کہ یہ تفصیلات مذکورہ معلومات رکھنے والے تین ذرائع نے فراہم کی ہیں اور یہ معلومات اس سے پہلے رپورٹ نہیں ہوئیں۔مزید بتایا گیا کہ 8 اپریل کی جنگ بندی اور اس کے چند دن بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی اور مئی کے اوائل میں وائٹ ہاس کو ایسا لگا کہ وہ معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں لیکن ایران نے اپنے جواب میں 10 دن سے زیادہ کی تاخیر کی، جس پر وائٹ ہاس کے مذاکرات کار یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ ایرانی مذاکرات کار پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کے پاس معاہدہ طے کرنے کے مکمل اختیارات نہیں ہیں اور پاسداران انقلاب ان کے فیصلوں کو منسوخ کررہی ہے۔

بھارتی خاندان نے برطانیہ کو109سال قبل دئیے 35ہزار روپے واپس مانگ لئے

 

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد وائٹ ہاس نے محسوس کیا کہ پاسداران انقلاب کی قیادت تک پہنچنے کے لیے ایک خفیہ راستے کی ضرورت ہے اور 10 مئی کے قریب اس وقت کی ڈائریکٹرآف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے نیچروان بارزانی کو فون کرکے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد وحیدی سے رابطہ قائم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ایران عراق جنگ کے دوران بارزانی ایران میں مقیم رہے تھے اور انہوں نے تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، وہ فارسی پر مکمل عبوررکھتے ہیں، اس کے علاوہ ایرانی حکومت کے کئی سینئرارکان بشمول پاسداران انقلاب کے اعلی حکام کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی چار صدور کے ساتھ بطور مشیر برائے مشرق وسطی کام کرنے والے بریٹ میک گرک نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ نیچروان بارزانی ایک پریکٹیکل اور مسائل حل کرنے والی شخصیت ہیں، جن کا خطے بھر میں احترام کیا جاتا ہے

ملک بھر میں 79واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا

 

اور انہیں واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران میں بھی ہر کوئی جانتا ہے اس لیے مشکل وقت میں آپ انہی سے رابطہ کرتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ تلسی گبارڈ نے نیچروان بارزانی پر واضح کیا تھا کہ وہ یہ کال صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی منظوری سے کر رہی ہیں اور وائٹ ہاس یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا جنرل احمد وحیدی اور پاسداران انقلاب کی قیادت ان باتوں سے متفق ہے جو قالیباف اور عراقچی طے کر رہے ہیں، یا ان کے ذہن میں کچھ اور خیالات یا مطالبات ہیں۔اس حوالے سے دعوی کیا گیا کہ نیچروان بارزانی نے تلسی گبارڈ کی درخواست قبول کرلی اور پاسداران انقلاب میں رابطے کیے، جنرل احمد وحیدی کو براہ راست ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا پیغام پہنچانے کی خواہش ظاہر کی، جس پرایرانی رضامند ہو گئے اور 14 مئی کو پاسداران انقلاب کا ایک اہلکار محفوظ کال کرنے کے لیے انکرپٹڈ فون کے ساتھ کردستان کے دارالحکومت اربیل میں نیچروان بارزانی کے دفتر پہنچا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ براہ راست معلومات رکھنے والے ایک ذریعے کے مطابق نیچروان بارزانی نے فون پر جنرل احمد وحیدی سے پوچھا کہ آیا وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے مقف سے متفق ہیں، جس پر ایرانی جنرل نے تصدیق کی کہ میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور یہی پاسداران انقلاب کا مقف بھی ہے

ایپل نے آئی فون ایکس ناکارہ موبائل فونز کی فہرست میں شامل کردیا

ہم اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ وائٹ ہائوس کے ایک اہلکار سمیت تین ذرائع نے بتایا کہ جنرل احمد وحیدی سے بات چیت کے فورا بعد نیچروان بارزانی نے تلسی گبارڈ کو فون کیا اور انہیں ایرانی جواب سے آگاہ کیا، جنہوں نے وائٹ ہاس کو بریفنگ دی۔خفیہ رابطوں کی معلومات رکھنے والے ایک ذریعہ کے مطابق ایرانی جواب ملنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ ایک اور تجویز لے آئی اور بتایا کہ امریکا چاہتا ہے نیچروان بارزانی اربیل میں سینئرامریکی اورایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی کریں، جس پر بارزانی نے دوبارہ ایرانی حکام کو پیغام پہنچایا، اس پیغام پرایرانیوں نے امکان رد نہیں کیا لیکن اربیل میں سیکیورٹی کے حوالے سے فکر مند تھے اور ان کا خیال تھا کہ اسرائیلی انٹیلیجنس عراقی کردستان میں موجود ہے اور انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیلی انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے اور پھر اربیل میں یہ ملاقات کبھی نہ ہوسکی۔ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حالات سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاملے سے واقف علاقائی ذرائع کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالث امریکا اورایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ نیچروان بارزانی نے حال ہی میں وائٹ ہاس کو پیغامات بھیجے ہیں جن میں امریکا-ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں مدد کی پیش کش کی گئی ہے۔

 

عدالتی حکم کے باوجود پیسکو ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی جاری

Next Post
کراچی کی لڑکی ، سنگاپور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں قتل
Previous Post
خیبرپختونخوا میں 21 اگست تک بارشوں کا الرٹ جاری