Skip to main contentSkip to footer

مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ

مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین بندر بانٹ

خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ اسمبلی سیکرٹریٹ کے زیر استعمال مجموعی طور پر 60 سرکاری گاڑیاں موجود ہیں جن میں 58 گاڑیاں اسمبلی سیکرٹریٹ جبکہ 2 گاڑیاں محکمہ ایکسائز کی ہیں۔ تمام گاڑیوں کے لیے پٹرول، آئل و لبریکنٹس اور مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جا رہے ہیں دستاویزات کے مطابق سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے زیر استعمال 2023 ماڈل ٹویوٹا فارچونر (2700 سی سی) اور 2020 ماڈل ہونڈا سوک ٹربو (1500 سی سی) موجود ہیں۔ ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کو 2022 ماڈل ٹویوٹا فارچونر اور 2016 ماڈل ٹویوٹا کرولا آلٹس فراہم کی گئی ہے جبکہ قائد حزب اختلاف عباد اللہ خان کے زیر استعمال 2023 ماڈل ٹویوٹا فارچونر ہے

بلیو پاسپورٹ سے کن کن شخصیات نے فائدہ اٹھایا؟ تفصیلات سامنے آگئیں



ریکارڈ کے مطابق اسمبلی سیکرٹری سید وقار شاہ کو 2023 ماڈل ٹویوٹا کرولا الاٹ کی گئی ہے۔ سینئر ایڈیشنل سیکرٹری عنایت اللہ خان کے زیر استعمال 2025 ماڈل ہونڈا سٹی جبکہ بطور ڈپٹی سیکرٹری انہیں 2022 ماڈل ہونڈا سٹی بھی فراہم کی گئی ہے ،ایڈیشنل سیکرٹری میاں الطاف الرحمن ،سید محمد ماہر، ہدایت اللہ، ڈپٹی سیکرٹری ابراہیم خان، پرنسپل سیکرٹری ٹو سپیکر میاں محمد سریر اور ڈائریکٹر آئی ٹی محمد مزمل کو بھی مختلف سرکاری گاڑیاں الاٹ کی گئی ہیں، دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹر انٹرپریٹیشن اور ٹرانسیشن زاہد شاہ ڈائریکٹر پروٹوکول محمد آصف ،ڈائریکٹر کوآرڈنیشن محمد رفیق داوڑ اور ایڈیشنل سیکرٹری نعیم اللہ خان کو بھی سرکاری گاڑیاں استعمال کررہے ہیں، دیگر افسران اور ملازمین میں اسد اللہ خان، فخر عالم ،ایاز خان، امجد علی، جہانزیب خان، آشتہ مند خان ،عبدالوہاب ،راجہ عثمان ،نویلہ عاصم ،امیرنواز، حارث خان، محمد یونس، محمد ضیا اللہ، اورنگزیب ،طارق نور، محمد آصف خان، محمد عابد ابرار، رحمن گل، عمر محمد، محمد خورشید، محمد آصف ،نیاز علی، نیاز گل ،ارشد خان، شاہد رحمن ، جمعہ گل ، عالمزیب ،محمد ایاز، ظفر نیاز، خالد اللہ، فضل کریم، محمد عیسیٰ اور ارباب فہد عالم بھی مختلف ماڈلز کی ٹویوٹا کورولا، ہونڈا سٹی، سوزوکی آلٹو، سوزوکی کلٹس، یارس، کیمری ،ہائی لکس ویگو استعمال کررہے ہیں

بلیو پاسپورٹ کیا ہے؟ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

 

دستاویزات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسمبلی کے وہیکل پول میں 2005 ماڈل مرسڈیز بینز 5000 سی سی، 2020 ماڈل ہونڈا سوک، 2015 ماڈل ہائی ایس اور 2025 ماڈل سوزوکی پک اپ بھی شامل ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تمام گاڑیوں کو حکومتی قواعد کے مطابق پول کی سہولت حاصل ہے جس کے تحت تمام تر استعمال شدہ پیٹرول اور ڈیزل کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں جبکہ کئی افسران کے پاس ایک سے زیادہ گاڑیاں بھی زیراستعمال ہیں۔ دستاویزات میں گاڑیوں اور ان کے مالکان کی تمام تر تفصیلات درج ہیں تاہم ان کی دیکھ بھال، مرمت اور ایندھن پر آنے والے اخراجات کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور یہ بات خارج از امکان نہیں کہ قومی خزانے کو روزانہ کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے۔

سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، پٹن میں کیا ہوا تھا؟

 


ایک اور اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسمبلی کی عمارت میں یہ 60 گاڑیاں سما سکتی ہیں؟ اگر نہیں سما سکتیں تو پھر یہ گاڑیاں کہاں ہوتی ہیں؟ ایک ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا حکومت مالی مشکلات، وسائل کی کمی اور کفایت شعاری کارونا رو رہی ہے ان تمام 60 گاڑیوں ،ان پر اٹھنے والے اخراجات عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ شفافیت کے تقاضے یہی ہیں کہ اسمبلی سیکرٹریٹ گاڑٰیوں کی فہرست کے ساتھ ان پر ہونیوالے سالانہ اخراجات، استعمال کی تفصیلات اور آڈٹس رپورٹس بھی عوام کے سامنے لائے تاکہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال سے متعلق حقائق سامنے آسکیں۔

 

 

بلیو پاسپورٹ، 8 کلاشنکوف لائسنس، وضاحت سامنے آگئی

Previous Post
وہ لمحہ جب ٹنڈولکر نے پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلی