برطانیہ کے معروف اخبار دی ٹیلی گراف نے پاکستان کو 2026کے لیے دنیا کے ان منفرد سیاحتی مقامات میں شامل کیا ہے جہاں قدرتی حسن، قدیم تاریخ اور مقامی ثقافت مل کر سیاحوں کو ایک مختلف تجربہ فراہم کرتے ہیں۔اخبار کی ر پورٹ کے مطابق پاکستان خاص طور پر اپنے بلند پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، تاریخی مقامات اور مہم جوئی کے مواقع کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک منفرد سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے خصوصی ٹریول فیچر کو معروف سفرنامہ نگار بینیڈکٹ ایلن اور سارہ مارشل نے تحریر کیا ہے۔
وادی کالاش میں موت پر خوشی کا جشن منانے کی منفرد روایت
مضمون میں پاکستان کے شمالی علاقوں کے قدرتی مناظر کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہاں موجود قراقرم کا پہاڑی سلسلہ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں شامل ہے، جہاں کئی چوٹیاں 25 ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں۔رپورٹ میں پاکستان کو بلند و بالا پہاڑوں کی سرزمین قرار دیتے ہوئے خاص طور پر وادی ہنزہ، قراقرم کے گلیشیئرز، جنگلی پھولوں سے بھرے میدانوں اور شاہراہ قراقرم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق شاہراہ قراقرم ایک شاندار انجینئرنگ منصوبہ ہے جو پاکستان کو چین سے ملاتی ہے اور قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔دی ٹیلی گراف نے لکھا کہ شمالی پاکستان کے دور دراز علاقوں میں سیاحوں کو نہ صرف قدرتی حسن دیکھنے کا موقع ملتا ہے بلکہ وہ مقامی لوگوں کی زندگی، روایات اور ثقافت کو بھی قریب سے سمجھ سکتے ہیں۔
یو اے ای جانے والوں کیلئے خوشخبری، بچوں کی ویزا فیس ختم
مضمون میں ان علاقوں کے رہائشیوں کی سادگی، مہمان نوازی اور اجنبیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی صلاحیت کو بھی سراہا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سفر عام سیاحتی مقامات سے مختلف تجربہ فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہاں آنے والے افراد کو بلند پہاڑوں، خاموش وادیوں اور مشکل راستوں کے ساتھ ساتھ مقامی زندگی کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اخبار نے خاص طور پر ذکر کیا کہ ایسے علاقوں کا سفر جسمانی اور ذہنی طور پر ایک چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن یہی چیز اسے منفرد بناتی ہے۔قدرتی مناظر کے علاوہ دی ٹیلی گراف نے پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو بھی اہمیت دی ہے۔ رپورٹ میں قدیم شاہراہ ریشم، لاہور کی 17ویں صدی کی بادشاہی مسجد اور وادی سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کا ذکر کیا گیا ہے۔
دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں
مضمون میں بتایا گیا کہ قدیم سندھ کی تہذیب کے آثار آج بھی اس خطے کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔اخبار کے مطابق پاکستان کی تاریخ اور ثقافت کئی ادوار پر محیط ہے، جہاں قدیم تجارتی راستوں، شاندار عمارتوں اور تاریخی مقامات کے ذریعے ماضی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔دی ٹیلی گراف کی 2026 کی فہرست میں پاکستان کے علاوہ ترکمانستان، گیبون، انگولا، تیمور لیستے، نکاراگوا، گیانا، آرمینیا، جمہوریہ کانگو، ویسٹ پاپوا اور پاپوا(انڈونیشیا) جیسے مقامات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ دی ٹیلی گراف نے اکستان کو اپنی سیاحتی رپورٹ میں جگہ دی ہو۔ اس سے قبل 2024 میں بھی اخبار نے پاکستان کو اپنے سفری فیچر میں شامل کیا تھا۔
گلگت بلتستان دنیا کے ٹاپ 25سیاحتی مقامات میں شامل

