Skip to main contentSkip to footer

بابڑہ میں 12 اگست 1948 کو کیا واقعہ پیش آیا تھا؟

بابڑہ میں 12 اگست 1948 کو کیا واقعہ پیش آیا تھا؟

چارسدہ کے علاقے بابڑہ میں 12 اگست 1948 کو خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں اور حامیوں کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ایسے وقت میں ہوا جب صوبہ سرحد میں مسلم لیگی حکومت نے خدائی خدمت گار قیادت کے خلاف سخت انتظامی کارروائی شروع کر رکھی تھی۔ اس وقت صوبے کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان تھے۔ وہ 23 اگست 1947 کو وزیراعلیٰ بنے اور اپریل 1953 تک اس عہدے پر رہے۔ بابڑہ کا واقعہ اسی وسیع سیاسی کشمکش کا حصہ تھا جس میں نئی پاکستانی ریاست کی صوبائی حکومت ایک ایسی سیاسی تحریک سے ٹکرا رہی تھی جو قیامِ پاکستان سے پہلے برطانوی حکومت کے خلاف عدم تشدد کی سیاست کرتی رہی تھی، لیکن قیام پاکستان کے بعد اس کے تعلقات مسلم لیگی حکومت سے انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ عبدالقیوم خان کشمیری ابتدا میں انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ رہے۔ وہ 1937 سے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے اور بعد میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر بھی بنے۔ 1945 میں انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تبدیلی اہم تھی کیونکہ ایک طرف وہ ماضی میں خان عبدالغفار خان، یعنی باچا خان، کے سیاسی حلقے کے قریب رہے تھے، دوسری طرف مسلم لیگ میں آنے کے بعد وہ خدائی خدمت گار تحریک کے سخت ترین سیاسی مخالفین میں شامل ہوگئے۔

بابڑہ

قیام پاکستان کے بعد انہیں صوبہ سرحد کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اند کلچرل ریسرچ کی تحقیق کے مطابق ان کا اقتدار صوبے میں مسلم لیگ کی حکومت قائم کرنے کی کوششوں کے وسیع تر سیاسی پس منظر میں آیا۔ یہاں سے بابڑہ کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ مسئلہ صرف ایک جلسہ نہیں تھا۔1948 میں عبدالقیوم خان حکومت اور خدائی خدمت گاروں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ جون اور جولائی 1948 میں حکومت نے خدائی خدمت گار قیادت کے خلاف گرفتاریاں شروع کیں۔ این آئی ایچ سی آر کے شائع کردہ تحقیقی مواد کے مطابق باچا خان کو جون 1948 میں گرفتار کر لیاگیا اس وقت جاری آرڈیننس کے مطابق حکومت کو سیاسی مخالفین کیخلاف گرفتاری اور دیگر انتظامی اقدامات کے وسیع اختیارات حاصل تھے، حکومت اس وقت مخالفین پر اینٹی گورنمنٹ اور اینٹی سٹیٹ ہونے کے الزامات عائد کررہی تھی جبکہ مخالفین کا مئوقف تھا کہ گرفتاری سیاسی بنیادوں پر کی گئی یہی سیاسی ماحول 12 اگست کے بڑے سانحے کا پس منظرتھا اور 12 اگست کو خدائی خدمت گاروں کے حامی بابڑہ میں جمع ہوئے۔ بعض ذرائع اس اجتماع کو مکمل طور پر پرامن قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شرکا غیر مسلح تھے۔ خدائی خدمت گار تحریک کے اپنے تاریخی ریکارڈ میں بھی انہیں غیر مسلح قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود غیر مسلح نہتے مظاہرین پر فائر کھول دیا گیا اور درجنوں افراد کو سیدھی گولیاں مار کر جاں بحق کردیا گیا لیکن کسی تحقیقاتی رپورٹ میں صرف ایک فریق کا بیان کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے حکومت کے پاس اس اجتماع کو غیر قانونی قرار دینے کی کیا قانونی بنیاد تھی، دفعہ 144 کب اور کس حکم کے ذریعے نافذ ہوئی، اور پولیس کو فائرنگ کا حکم کس سطح پر دیا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے اصل سرکاری ریکارڈ آج بھی سب سے زیادہ اہم ہیں۔

مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ

 

واقعے کے بعد عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں بابڑہ فائرنگ کے بارے میں بیان دیا۔ ان سے منسوب اور متعدد تاریخی حوالوں میں محفوظ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ تھی، لوگ منتشر نہیں ہوئے، جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین خوش قسمت تھے کہ پولیس کی گولیاں ختم ہوگئیں، ورنہ کوئی بھی زندہ نہ بچتا۔ یہ بیان متعدد تاریخی کتابوں اور دیگر حوالوں میں نقل ہوا ہے۔
زیادہ محتاط انداز میں یہ کہنا درست ہوگا کہ عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں فائرنگ کی ذمہ داری اور پولیس کی گولیاں ختم ہونے کا بیان دیا تھا۔ تاہم یہ کہنا کہ عبدالقیوم خان نے خود موقع پر پولیس کو فائرنگ کا براہ راست حکم دیا تھا، اس کے لیے الگ اور مضبوط دستاویزی ثبوت درکار ہوگا۔ اس کے لیے اصل سرکاری فائل، پولیس کا پیغام، تحریری حکم یا متعلقہ افسر کا اسی وقت کا بیان سامنے آنا ضروری ہے۔ بابڑہ واقعے کا سب سے بڑا تاریخی تنازع بھی یہی ہے۔ دستیاب تاریخی حوالوں میں سرکاری تعداد تقریباً 15 افراد جاں بحق جبکہ 20 زخمی ہوئے تھے ۔ خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 150 اور زخمیوں کی تعداد 400 تک بتائی۔ بعد کے سیاسی اور تاریخی بیانیوں میں یہ تعداد 900 سے بھی زیادہ تک پہنچ گئی۔ بعض تاریخی حوالوں میں 411 ہلاک اور کم از کم 1200 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم میں پنجاب سرفہرست

 

سابق وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے 2019 میں ایک اخباری مضمون میں لکھا کہ بابڑہ میں 400 سے زیادہ افراد جاں بحق اور تقریباً 1500 شدید زخمی ہوئے۔ اس لیے زیادہ محتاط انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ اور بعد کے بعض تاریخی ذرائع ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں بتاتے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد اس سے کہیں کم تھے۔ بعض ذرائع 900 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ رستم شاہ مہمند کے بیان کے مطابق متعدد افراد فائرنگ سے زخمی یا ہلاک ہوئے، جبکہ بعض لوگ فرار ہوتے ہوئے دریائے کابل میں ڈوب گئے۔ بعض حوالوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگوں کے فرار کے راستے بند کر دیے گئے تھے۔ بعد کے بعض عینی اور سیاسی بیانیوں میں بھی یہ دعویٰ سامنے آیا کہ متعدد افراد فرار ہوتے ہوئے دریائے کابل میں جا گرے یا ڈوب گئے۔ یہ موازنہ خود تاریخی طور پر موجود ہے۔ 1950 میں سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے ایک تقریر میں بابڑہ کے واقعے کو 1919 کے جلیانوالہ باغ قتل عام سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا تھا۔

سوات خود کش حملے کا مقدمہ درج ، حملہ آوور کا تعلق دیر سے نکلا

 

تاہم عبدالقیوم خان کو ’’جنرل ڈائر‘‘ کہنا ایک سیاسی تشبیہ ہے، کوئی تاریخی عہدہ نہیں۔ جلیانوالہ باغ میں جنرل ریجنالڈ ڈائر نے برطانوی فوج کو فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ عبدالقیوم خان کو ’’سرحد کا جنرل ڈائر‘‘ کہنا بابڑہ کے واقعے کے تناظر میں ایک سیاسی تشبیہ ہے۔ بابڑہ واقعے کے بعد بھی خدائی خدمت گار تحریک کے خلاف کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں۔ تحقیقی مواد کے مطابق حکومت نے خدائی خدمت گار کارکنوں کی گرفتاریاں جاری رکھیں اور ان کی جائیدادوں کے حوالے سے بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ستمبر 1948 میں مرکزی حکومت نے خدائی خدمت گار تحریک پر پابندی عائد کردی، جبکہ سردریاب میں تحریک کے مرکز کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ اس لیے بابڑہ واقعے کو صرف ایک پولیس فائرنگ کے واقعے کے طور پر دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یہ صوبے میں ریاست، مسلم لیگ کی حکومت اور خدائی خدمت گار تحریک کے درمیان طاقت کی کشمکش کا ایک انتہائی خونی مرحلہ تھا۔ یہ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ 400 سے زائد لوگ مارے گئے یا نہیں؟‘‘ بلکہ اصل سوالات یہ ہونے چاہئیں کہ دفع 144 کس نے نافذ کی تھی اور اس کا اصل سرکاری حکم تلاش کیا جائے ، پولیس کو فائرنگ کا حکم کس نے دیا تھا، اس سلسلے میں تحریری حکم ،سکاری پیغام یا مجسٹریٹ کا حکم اور پولیس کی روزنامچہ تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے

 

یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ واقعے کے وقت کتنے پولیس اہلکار موجود تھے، پولیس کی جانب سے کتنی گولیاں چلائی گئیں اس کی تفصیلات حاصل کرنا انتہائی اہم ہے نتیجتا اگست 1948 کو بابڑہ میں ریاستی پولیس کی فائرنگ ایک دستاویزی تاریخی واقعہ ہے، لیکن ہلاکتوں کی اصل تعداد آج بھی متنازع ہے۔ اس تنازع کے باوجود اس وقت کے وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان کا بعد میں صوبائی اسمبلی میں دیا گیا بیان، جس میں انہوں نے فائرنگ اور پولیس کی گولیاں ختم ہونے کا ذکر کیا، اس واقعے میں ریاستی ذمہ داری کے سوال کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ اصل سرکاری ہلاکتوں کے ریکارڈ، پولیس کی دستاویزات اور اسمبلی کی کارروائیوں تک مکمل رسائی کے بغیر بابڑہ واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی حتمی تعداد کا تعین مشکل ہے۔ یہ مؤقف محض سیاسی نعرہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں ان باتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو تاریخی طور پر ثابت ہیں اور ان سوالات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے جن کے جوابات کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ بابڑہ کی تاریخ میں سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ نئی ریاست کے پہلے ہی سال ایک سیاسی اجتماع پر ریاستی طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کس قانونی اور انتظامی سلسلے کے ذریعے ہوا، اس میں کتنے لوگ مارے گئے، اور پھر اس واقعے کی غیر جانب دار تحقیقات کیوں اور کیسے ہوئیں، یا کیوں نہیں ہوئیں۔

 

سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، پٹن میں کیا ہوا تھا؟

Next Post
ایران جنگ میں امریکا کو 13ارب ڈالرز کا نقصان، کئی طیارے اور بیسز تباہ
Previous Post
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے بھی نئے صوبوں کی حمایت کردی