Skip to main contentSkip to footer

اگست میں دہشتگردی کی لہر میں 38فیصد اضافہ، 158 افراد شہید

اگست میں دہشتگردی کی لہر میں 38فیصد اضافہ، 158 افراد شہید

پشاور: ملک میں دہشت گردی کی لہر جاری ہے اوراگست کے مہینے میں جولائی کے مقابلے میں دہشت گرد حملوں میں 38 فیصد اضافہ ہواہے ،تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق اگست میں 199 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جبکہ جولائی میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 144 تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ دہشت گرد حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن جولائی کے مقابلے میں ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان میں کمی ہوئی۔

پچاس ہزار کا بل، ریٹائرڈ ملازم دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا

اگست میں ہونے والے 199 دہشت گردی حملوں کے نتیجے میں 158 افراد جاں بحق اور 181 زخمی ہوئے ، جبکہ جولائی میں 144 حملوں کے دوران 268 افراد جاں بحق اور 216 زخمی ہوئے تھے ۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اگست میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں 203 دہشت گرد مارے گئے ، 21 دہشت گرد زخمی جبکہ 26 مشتبہ گرفتار کیے گئے ۔ سکیورٹی فورسز نے اگست میں بلوچستان میں 115، پختونخوا کے مین لینڈ اضلاع میں 50 سے زائد جبکہ سابق قبائلی اضلاع میں 32 دہشت گرد ہلاک کیے۔

خیبرپختونخوا کے سرکاری افسران و اہلکاروں کیخلاف 827 کیسز سامنے آگئے

اگست میں تین خودکش حملے بھی ہوئے ہیں، جن میں دو گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے شامل تھے ۔ جولائی میں آٹھ خودکش حملے ہوئے تھے ، جن میں پانچ گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے تھے ۔ اگست میں 42 اور جولائی میں 66 اغواکے واقعات ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال سب سے زیادہ سنگین رہی ہے ،جہاں اگست میں 89 اورجولائی میں 83 دہشتگردحملے ہوئے ۔پختونخوامیں اگست کے دوران 54 اورضم اضلاع میں52 دہشتگرد حملے ریکارڈ کیے گئے ۔ اس مرتبہ حملوں میں ٹیکٹیکل اسالٹس (TA)سب سے زیادہ استعمال ہونے والی حکمت عملی رہی، یعنی کہ سیکورٹی تنصیبات، چیک پوسٹ یا دیگر سرکاری تنصیبات پر منظم حملے ریکارڈ ہوئے ہیں،جس کی تعداد 47 ہے ۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگز کے 46 اور آئی ای ڈی حملوں کے 36 واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔

ریٹائرڈ افسران کی بیرونِ ملک منتقلی، پنشن غیر ملکی کرنسی میں لینے کا انکشاف

ٹیکٹیکل اسالٹس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے ، جبکہ ٹارگٹ کلنگز میں 50 افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے ۔ آئی ای ڈی حملوں کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں دو دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ سندھ میں اگست کے دوران دو حملے ہوئے۔

 

ممتاز عرف ممتازے پر درج 40 مقدمات کی تفصیل سامنے آگئی

Next Post
ملک میں سب سے زیادہ بلیو پاسپورٹس بیورو کریٹس کے ہیں، طلال چوہدری
Previous Post
نیپال ،تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 1100سے تجاوز کرگئیں