نو مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو باضابطہ طور پر ملزم نامزد کرتے ہوئے پولیس نے چالان جمع کرا دیا، جس کے بعد کیس میں نامزد ملزمان کی تعداد 80 ہوگئی۔ پولیس کے تفتیشی افسر نے چالان ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ڈی پی پی) آفس میں جمع کرایا، جس کے بعد ڈی پی پی نے اسے عدالتی فائل کا حصہ بنا دیا۔ کیس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزراء کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور پارٹی کارکن عامر چمکنی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ 13 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق، انسداد دہشت گردی عدالت پشاور میں مقدمے کی سماعت جج ولی محمد کی رخصت کے باعث نہ ہوسکی، جبکہ کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی خوشحال خان نے عدالتی کارروائی کے سلسلے میں چالان پراسیکیوشن کے پاس جمع کرایا۔
سہیل آفریدی سمیت پانچ رہنماؤں کی نامزدگی کیسے ہوئی؟
اس سے قبل ستمبر 2026 میں پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور چار دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملزم نامزد کرنے کی تفصیلات پیش کی گئی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس نے یہ نامزدگیاں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کی رپورٹس کی روشنی میں کیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق، فرانزک تجزیے میں ویڈیو فوٹیج میں نظر آنے والے مشتبہ افراد کے چہروں اور متعلقہ شخصیات کی تصاویر میں مماثلت کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تاہم، دفاعی وکلا نے بعض ویڈیو کلپس کی صداقت اور واقعے سے ان کے تعلق پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ اس لیے ان رپورٹس اور شواہد کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین عدالتی کارروائی میں ہونا ہے۔
سہیل آفریدی اور گرفتار قیادت کو پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا امکان
یہ مقدمہ 9 اور 10 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے، توڑ پھوڑ اور آتش زدگی سے متعلق ہے۔ واقعے کے دوران عمارت کو نقصان پہنچا اور نشریاتی آلات سمیت تاریخی ریکارڈ متاثر ہوا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے متعدد افراد کو نامزد کیا، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔ اکتوبر 2026 کے آغاز میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی ریڈیو پاکستان حملہ کیس سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج پر مشتمل یو ایس بی کے فرانزک معائنے کے حکم کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کی نظرثانی درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ متعلقہ شواہد کے منصفانہ جائزے کے لیے ان کا فرانزک معائنہ کرا سکتی ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 28 اکتوبر کو متوقع ہے، جس میں مقدمے کی مزید کارروائی آگے بڑھنے کا امکان ہے۔
پنجاب سے یومیہ 80 ہزار آٹے کے تھیلوں کی سپلائی شروع، قیمتیں کم ہوگئیں
افغان مہاجرین کیلئے بری خبر، خیبرپختونخوا میں آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ






