اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھانے اور اسلام آباد پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب رہنماؤں کو وفاقی دارالحکومت منتقل کرنے پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق زیرِ حراست وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں درج مختلف مقدمات میں قانونی کارروائی مکمل کرنے اور انہیں متعلقہ عدالتوں میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر، مینا خان اور شفیع جان سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات اور عدالتی احکامات کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام ان رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات، جاری شدہ وارنٹ گرفتاری اور ضمانت کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جن رہنماؤں کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور جنہیں متعلقہ عدالتوں سے ضمانت حاصل نہیں، ان کے معاملات قانون کے مطابق آگے بڑھائے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، مطلوب رہنماؤں کو اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق حتمی حکم یا تمام زیرِ حراست افراد کی منتقلی کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات اس معاملے کا مرکزی نکتہ بن گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت گیارہ مقدمات میں مطلوب ہیں اور ان مقدمات میں ان کی ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے قانونی پیچیدگیاں برقرار ہیں ان میں سے چھ مقدمات میں ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے خلاف وفاقی دارالحکومت کے آٹھ مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
پنجاب سے یومیہ 80 ہزار آٹے کے تھیلوں کی سپلائی شروع، قیمتیں کم ہوگئیں
سہیل آفریدی کیخلاف مقدمات کے حوالے سے ماضی میں بھی عدالتی کارروائی سامنے آتی رہی ہے، اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے چھبیس نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں سہیل آفریدی کے خلاف مزید چار مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان رپورٹس کے مطابق تھانہ کوہسار، رمنا، کراچی کمپنی اور آبپارہ سمیت مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کی گئی۔ تاہم تمام مقدمات کی الگ الگ تفصیلات اور تازہ عدالتی ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ہر مقدمے میں وارنٹ کی نوعیت، موجودہ حیثیت اور ضمانت سے متعلق صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے حتمی قانونی صورتِ حال متعلقہ عدالتوں کے ریکارڈ سے ہی واضح ہو گی۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر بھی اس معاملے میں اہم شخصیت ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق جنید اکبر اسلام آباد میں درج دو مقدمات میں مطلوب ہیں۔ ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے بھی ایک مقدمہ درج کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ان کے خلاف تمام مقدمات کی موجودہ حیثیت، ضمانت کی تفصیلات اور کسی ممکنہ منتقلی کے باضابطہ احکامات کی الگ سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر کارروائی ہوئی تھی۔ پولیس کی رپورٹ میں اس وقت جنید اکبر کے خلاف اٹک میں چار اور اسلام آباد میں ایک مقدمے کا ذکر کیا ہے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما مینا خان کے خلاف اسلام آباد میں دو مقدمات درج ہیں، جبکہ شفیع جان ایک مقدمے میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ ان رہنماؤں کے نام بھی ماضی میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی کارروائی سے متعلق خبروں میں سامنے آ چکے ہیں۔ ستمبرمیں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مختلف احتجاجی مقدمات میں مینا خان اور شفیع جان سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، تازہ اطلاعات میں جن مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی مکمل تفصیل اور عدالتی احکامات کی موجودہ حیثیت کی تصدیق ضروری ہے۔
گورنر فیصل کنڈی کی زیرصدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس
پی ٹی آئی قیادت کے خلاف ممکنہ کارروائی کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال ایک دم بدل گئی اور گورنر راج و ایمرجنسی کا نفاذ کردیا گیا ۔وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سہیل آفریدی اور بعض کابینہ ارکان کی تحویل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ دیگر افراد کو رہا کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی کے اقدام کا جواز امن و امان اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکامی کو قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ روکنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس سیاسی اختلاف کے باعث زیرِ حراست رہنماؤں اور اسلام آباد میں درج مقدمات کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے نقطۂ نظر سے کسی شخص کی تحویل اور اسے کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کے معاملے میں متعلقہ مقدمات، گرفتاری کے قانونی اختیار، عدالتی احکامات اور مجاز حکام کے فیصلوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر کسی زیرِ حراست شخص کے خلاف دوسرے ضلع یا شہر میں مقدمہ درج ہو تو اسے متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، محض کسی مقدمے میں مطلوب ہونے یا ضمانت نہ ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی شخص کو لازماً اسلام آباد منتقل کیا جائے گا؛ اس کا انحصار مقدمے کی نوعیت اور متعلقہ قانونی احکامات پر ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت کے لیے اس معاملے میں اہم سوال یہ ہو گا کہ زیرِ حراست رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات میں سے کن مقدمات میں گرفتاری کے قابلِ عمل وارنٹ موجود ہیں، کن مقدمات میں تفتیش درکار ہے اور کن میں عدالتوں میں پیشی ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ جن رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، ان میں سے کتنے افراد کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا جائے گا اور کن کے معاملات صوبے میں ہی نمٹائے جائیں گے۔
گورنر راج کے بعد انتظامی و قانونی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی، اے جی آفس کے 57 افسر برطرف
پشاور مکمل سیل، کنٹینرز لگا کر راستے بند کردیئے گئے، تعلیمی ادارے بھی بند





