Skip to main contentSkip to footer

پشاور مکمل سیل، کنٹینرز لگا کر راستے بند کردیئے گئے، تعلیمی ادارے بھی بند

پشاور راستے بند

پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی اقدامات کے تحت موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بحال کردی گئی ہیں، تاہم ضم اضلاع میں تاحال موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بحال نہیں ہوسکیں۔ گزشتہ روز بند کی جانے والی سروسز بندوبستی اضلاع میں جزوی طور پر بحال کی گئی ہیں، جبکہ پشاور کے مختلف راستے کنٹینرز لگا کر بند کردیے گئے ہیں اور شہر کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔

پشاور راستے بند

سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے آج بند ہیں۔ پشاور کے مختلف اہم راستوں اور چوراہوں پر کنٹینرز لگا کر آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جبکہ ریڈ زون کے داخلی راستے مکمل طور پر بند کردیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جاسکے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کیے جانے کے بعد احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سکیورٹی صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، وزیراعلی کی شرائط رکاوٹ بنیں، طلال چوہدری

موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی جزوی بحالی کے باوجود ضم اضلاع کے شہری تاحال مواصلاتی رابطوں سے محروم ہیں۔ سروسز کی مکمل بحالی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی وقت سامنے نہیں آیا۔ شہر میں راستوں کی بندش، تعلیمی اداروں کی تعطیل اور مواصلاتی سروسز کی محدود بحالی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ شہریوں کو سفر سے قبل راستوں کی صورتحال معلوم کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان ، فائرنگ سے 5سرکاری اہلکار شہید

 

 

علی امین سہیل آفریدی پر برہم، بکائو مال کہنے پر آپے سے باہر

اگلی پوسٹ
 گورنر راج کے بعد انتظامی و قانونی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی، اے جی آفس کے 57 افسر برطرف
پچھلی پوسٹ
ڈریگن فروٹ، کیوی، ایووکاڈو کا وجود ختم ہونے کا خطرہ