Skip to main contentSkip to footer

سہیل آفریدی کے سر پر چار تلواریں لٹکنے لگیں، گھر جانا طے

سہیل آفریدی کے سر پر چار تلواریں لٹکنے لگیں، گھر جانا طے

خیبرپختونخوا کی سیاست میں آج کل خبر کم اور سکرپٹ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ کردار وہی ہیں، بیانات نئے ہیں، تاریخیں بدل رہی ہیں اور ہر چند دن بعد سیاسی کہانی کا اگلا سین سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی لانگ مارچ، کبھی گورنر راج، کبھی مذاکرات، کبھی استعفے اور اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد کی تیاری اور 35 ارکان اسمبلی کی مخالفت کی کہانی۔ یوں لگتا ہے جیسے خیبرپختونخوا کی سیاست کسی اسمبلی کے بجائے ایک ایسے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے جہاں پردہ گرتا نہیں، صرف منظر بدلتا رہتا ہے۔ تازہ ترین منظر میں سہیل آفریدی مرکزی کردار ہیں۔ ستائیس ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ بارہا کہتے رہے کہ مارچ ہر صورت ہوگا، سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور کسی دباؤ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ لیکن 27 ستمبر آیا اور مارچ اسلام آباد جانے کے بجائے 4 اکتوبر تک پہنچ گیا۔

 

سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو اعلان کیا کہ سیاسی کمیٹی کی مشاورت سے لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق فیصلہ متفقہ تھا اور مارچ اب پشاور سے روانہ ہوگا یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی کہانی میں ایک نیا موڑ آیا۔ کیونکہ مارچ مؤخر ہونے سے پہلے ہی سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اندرونی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں، اور 27 ستمبر کو اے آر وائی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے ایک انتہائی بڑا دعویٰ کردیا کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ چھوڑنے کا پیغام دیا تھا اور اگر وہ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ نہیں لاتے تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس خبر میں سب سے زیادہ توجہ 35 کے عدد نے حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی بہن نورین نیازی نے انہیں بتایا کہ سہیل آفریدی کے خلاف تقریباً 35 ارکان اسمبلی کا گروپ موجود ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس کے بعد عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا پیغام دینے کی ہدایت کی اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو سہیل آفریدی کے لیے معاملہ محض ایک لانگ مارچ کے مؤخر ہونے کا نہیں رہتا۔ پھر مسئلہ وزیراعلیٰ کی سیاسی گرفت، پارٹی کے اندر ان کی پوزیشن اور اسمبلی میں ان کے اعتماد کا بن جاتا ہے۔ لیکن سیاست کا ایک عجیب حسن یہ بھی ہے کہ یہاں ایک خبر کی عمر کبھی کبھی ایک دن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسی دعوے کے فوراً بعد تردید سامنے آگئی۔

تحریک انصاف کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی

عمران خان کے اہل خانہ نے نورین نیازی اور عمران خان کی ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو من گھڑت قرار دیا، جبکہ بیرسٹر گوہر نے بھی کہا کہ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کا پختہ اعتماد حاصل ہے اور انہیں ہٹانے کے حوالے سے کوئی پیغام نہیں دیا گیا اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ذرائع کے پاس 35 ارکان ہیں اور دوسری طرف پارٹی قیادت کے پاس تردید۔ درمیان میں سہیل آفریدی کی کرسی ہے اور عوام کے پاس وہی پرانا سوال کہ آخر اصل کہانی کیا ہے؟ لیکن اس پوری صورتحال کا دلچسپ پہلو صرف عدم اعتماد کا دعویٰ نہیں۔ اصل دلچسپی سہیل آفریدی کے اپنے سیاسی سفر میں پیدا ہونے والے تضادات میں ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ کہتے رہے کہ لانگ مارچ ہوگا، ہر صورت ہوگا، کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری طرف سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اچانک فیصلہ ہوا کہ مارچ چند دن مؤخر کردیا جائے۔
سہیل آفریدی نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔ سیاسی حکمت عملی یقیناً ہوسکتی ہے۔ مگر سیاست میں حکمت عملی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں ستائیس ستمبر کی کال اب 4 اکتوبر کی کال بن چکی ہے۔ اور اس ایک ہفتے نے وزیراعلیٰ کے سامنے کئی نئے سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ مارچ مؤخر ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ رابطے کرنے والوں کے پاس اب بھی سات دن ہیں۔ یہاں بھی سیاست نے ایک دلچسپ کروٹ لی۔ جس حکومت کے خلاف سخت مزاحمت، لانگ مارچ اور اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کا اعلان تھا، اسی سیاسی کشمکش میں مذاکرات کا دروازہ بھی کھول دیا گیا۔ یعنی ایک ہاتھ میں لانگ مارچ کی کال ہے اور دوسرے ہاتھ میں مذاکرات کی پیشکش۔ اور دونوں کے درمیان صرف سات دن کا فاصلہ۔ سہیل آفریدی نے مالاکنڈ میں بھی 4 اکتوبر کو دوبارہ اسلام آباد کی طرف جانے کا اعلان کیا اور 5 اکتوبر کو یوم فتح منانے کی بات کی۔ یوں 27 ستمبر کا سیاسی امتحان مؤخر ہوکر 4 اکتوبر کا امتحان بن گیا۔ لیکن اس دوران ایک اور بات نے سہیل آفریدی کی سیاسی مشکلات کو نمایاں کیا۔

اسلام آباد، پنڈی، اٹک میں 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات

لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے پر محمود خان اچکزئی کے اختلاف کی خبریں سامنے آئیں۔ ایکسپریس کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے اچکزئی کو مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا، تاہم انہوں نے 27 ستمبر کی تاریخ برقرار رکھنے پر زور دیا۔ یعنی جس مارچ کو وزیراعلیٰ اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہے تھے، اس کی تاریخ بدلنے پر بھی سیاسی اتفاق رائے مکمل نظر نہیں آیا۔
پھر 35 ارکان کی خبر آگئی۔ پھر اس کی تردید آگئی۔ پھر مارچ کی نئی تاریخ آگئی۔ پھر مذاکرات کی پیشکش آگئی۔ اور اب پوری نظریں 4 اکتوبر پر ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب سہیل آفریدی صرف پارٹی کے ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ صوبے کے وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ یہ فرق اہم ہے۔ ایک سیاسی رہنما اپنے سیاسی فیصلوں کا بوجھ خود اٹھاتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ کا ہر سیاسی فیصلہ صوبائی حکومت کے تاثر پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ جب وزیراعلیٰ لانگ مارچ کی قیادت کرتا ہے تو وہ محض پارٹی کارکن کے طور پر نہیں نکلتا۔ جب وہ وفاق سے ٹکراؤ کی زبان استعمال کرتا ہے تو اس کے ساتھ صوبائی حکومت کی حیثیت بھی جڑی ہوتی ہے۔ جب وہ مذاکرات کی پیشکش کرتا ہے تو وہ بھی محض سیاسی کارکن کا بیان نہیں رہتا۔

پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہداء کی تعداد 23 ہوگئی، 140 زخمی

اسی لیے سہیل آفریدی کے لیے اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ 4 اکتوبر کو کتنے لوگ سڑکوں پر آتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ اپنی حکومت، اپنی جماعت اور اپنی سیاسی حکمت عملی کے درمیان واضح ربط قائم رکھ پاتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت ان کی سیاست کے گرد ایک عجیب سا دھندلا پن پیدا ہوچکا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی حمایت کا دعویٰ ہے۔ دوسری طرف عمران خان ہی کی طرف سے ہٹانے کا دعویٰ ہے۔ ایک طرف 35 ارکان کی مخالفت کی خبر ہے۔ دوسری طرف پارٹی چیئرمین کی تردید ہے۔ ایک طرف لانگ مارچ ہر صورت کرنے کا اعلان ہے۔ دوسری طرف اسی مارچ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ ہے۔ ایک طرف وفاق کے خلاف سخت بیانیہ ہے۔ دوسری طرف مذاکرات کی دعوت ہے۔ یہ تضادات کسی بھی وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی طور پر آسان صورتحال نہیں ہوتے۔ اور اسی لیے سہیل آفریدی کی موجودہ مشکل شاید صرف یہ نہیں کہ ان کے خلاف 35 ارکان ہیں یا نہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ان کی سیاسی سمت کتنی واضح ہے۔ کیونکہ ایک وزیراعلیٰ کی طاقت صرف اسمبلی میں عددی اکثریت سے نہیں بنتی۔ سیاسی اعتماد بھی اس طاقت کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر 35 ارکان واقعی ان کے خلاف ہیں تو آنے والے دن یہ بات واضح کردیں گے۔ اگر یہ صرف سیاسی افواہ ہے تو بھی وقت اسے دفن کردے گا۔ اگر عمران خان نے واقعی انہیں ہٹانے کا پیغام دیا ہے تو اس کے اثرات پارٹی سیاست میں ظاہر ہوں گے۔ اور اگر ایسا کوئی پیغام نہیں تھا تو پھر 35 ارکان اور عدم اعتماد کی پوری کہانی ایک سیاسی اسکرپٹ سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ مگر یہاں ایک بات ضرور قابل غور ہے۔

خیبرپختونخواپولیس قیادت کا نئے ایکٹ پر تحفظات کا اظہار

27 ستمبر کے لانگ مارچ کو سہیل آفریدی نے سیاسی حکمت عملی کے نام پر مؤخر کردیا۔ اب 4 اکتوبر کی تاریخ ان کے سامنے ہے۔ سابق پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت پہلے ہی یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ دو ماہ تیاری کے لیے لینے کے باوجود مارچ کی تیاری نظر نہیں آئی اور 27 ستمبر کی کال مؤخر کرنے کی وجہ بھی واضح نہیں کی گئی۔ یہ ایک سیاسی مخالف کی تنقید ہے، اسے حقیقت کا حتمی فیصلہ نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ تنقید اس لیے اہم ہے کہ سہیل آفریدی کی اپنی سیاست اب وعدوں اور عملی نتائج کے درمیان فاصلے سے جانچی جائے گی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وزیراعلیٰ کے لیے اصل مشکل شروع ہوتی ہے۔ بیانات دینا نسبتاً آسان ہے۔ تاریخ دینا بھی آسان ہے۔ سیاسی مخالفین کو للکارنا بھی آسان ہے۔ لیکن جب ایک تاریخ گزر جائے تو اگلی تاریخ کی کامیابی پہلی تاریخ کے سوالات اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔ 27 ستمبر گزر چکا ہے۔
اب 4 اکتوبر صرف ایک نئی تاریخ نہیں۔ یہ پچھلے تمام دعووں کا حساب بھی ساتھ لے کر آئے گا۔ اگر مارچ واقعی بڑے پیمانے پر نکلتا ہے تو سہیل آفریدی اپنے ناقدین کو جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اگر دوبارہ تاخیر ہوتی ہے تو سوالات مزید بڑھیں گے۔

 

ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکہ، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی

اور اگر مارچ کا سیاسی نتیجہ توقعات کے مطابق نہ نکلا تو وزیراعلیٰ کے گرد پہلے سے گردش کرنے والی اندرونی اختلافات کی کہانیاں ایک مرتبہ پھر سر اٹھائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ 4 اکتوبر اب صرف اسلام آباد مارچ کی تاریخ نہیں رہی۔ یہ سہیل آفریدی کی سیاسی ساکھ کا اگلا بڑا امتحان بن چکی ہے۔ اور اگر واقعی اسمبلی کے 35 ارکان ان کے خلاف کھڑے ہیں تو پھر لانگ مارچ سے زیادہ اہم ان کی اپنی اسمبلی ہوگی۔ کیونکہ سڑک پر ہجوم سیاسی منظر ضرور بناتا ہے، مگر حکومت اسمبلی کے اندر عدد سے چلتی ہے۔ یہاں سے کہانی پھر اسی 35 کے عدد پر آکر رک جاتی ہے۔ لیکن اس بار شاید “ذرائع” نہیں، اسمبلی فیصلہ کرے گی۔ اور یہی اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں فی الحال خبر یہ نہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہوگئی ہے۔ خبر یہ بھی نہیں کہ 35 ارکان نے باقاعدہ بغاوت کردی ہے۔ خبر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی حکومت کے گرد سیاسی سوالات غیر معمولی طور پر بڑھ گئے ہیں، لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل ہوچکی ہے، مذاکرات کی پیشکش سامنے آچکی ہے، عمران خان سے منسوب ہٹانے کے دعوے اور ان کی تردید دونوں ریکارڈ پر آچکے ہیں، اور اب اگلی سیاسی تاریخ 4 اکتوبر ہے

دوسری بڑی مشکل جو سہیل آفریدی کے سر پر لٹک رہی ہے وہ ہے مبینہ منشیات کیس۔ سہیل آفریدی کے لیے مشکلات کی فہرست میں ایک اور معاملہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ امریکی سفارتخانے کے مطابق تیس اگست کو 463 کروڑ 10 لاکھ مالیت کی دو کلو کرسٹل میتھ ایمفیٹامین جسے عرف عام میں آئس کہا جاتا ہے پاکستان سے سری لنکا ایک کنٹینر میں چھپا کر سمگل کی جارہی تھی پکڑی گئی ہے جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق اس میں افغانستان سے آنے والی منشیات موجود تھیں، اسی معاملے سے متعلق ایک اور سنگین دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے تین ارکان کے قریبی رشتہ دار مبینہ طور پر منشیات کی بھاری کھیپ افغانستان سے درآمد کرکے مسقط کے راستے سری لنکا اسمگل کرنے کے معاملے میں ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر پانچ ارب بیاسی کروڑ روپے مالیت کی آئس کی اسمگلنگ سے متعلق معاملہ سامنے آیا ہے اور چارج شیٹ میں بھی اسمگلنگ کا الزام شامل کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاملہ باضابطہ طور پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کے مرحلے میں آگے بڑھتا ہے تو یہ سہیل آفریدی حکومت کے لیے ایک نئی اور انتہائی اہم آزمائش بن سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور عدالت ہی کرے گی۔

جبکہ تیسری تلوار اس وقت جو سہیل آفریدی کے سر پر لٹک رہی ہے وہ نو مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس ہے جس کی سماعت پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔ سماعت اے ٹی سی جج ولی محمد نے کی، جبکہ تفتیشی افسر خوشحال خان عدالت میں پیش ہوئے اور کیس کی پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ چالان رپورٹ جمع کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تیمور سلیم جھگڑا نے انکوائری جوائن نہیں کی، جبکہ ملزمان کی جانب سے علی زمان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ رپورٹ جمع کی جائے۔ یوں سہیل آفریدی کے گرد سیاسی اور قانونی نوعیت کے مختلف معاملات ایک ساتھ زیرِ بحث ہیں۔ ایک طرف منشیات کی مبینہ اسمگلنگ سے متعلق سنگین دعوے سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری طرف 9 مئی کے مقدمات کی قانونی کارروائی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان دونوں معاملات میں ہونے والی پیش رفت اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ایک چوتھی تلوار بھی گورنر راج کی صورت میں موجود ہے تاہم وزیراعظم کی پاکستان واپسی تک یہ تلوار فی الحال نیام میں ہے لیکن تیز دھار ہونے کی وجہ سے کسی بھی یہ تلوار بھی سہیل آفریدی کی کرسی کے ٹکڑے کرسکتی ہے۔

 

 

پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، سول سیکرٹریٹ سمیت اہم مقامات خالی

Next Post
خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، صوبائی حکومت پر سوالات اٹھنے لگے
Previous Post
ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکہ، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی