Skip to main contentSkip to footer

پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہداء کی تعداد 23 ہوگئی، 140 زخمی

پولیس لائنز مسجد دھماکے میں شہداء کی تعداد 23 ہوگئی، 140 زخمی

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں دہشت گرد حملے کے بعد جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران مزید دو پولیس اہلکاروں کی جسد خاکی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کوہاٹ منتقل کردی گئی، جس کے بعد واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مزید دو شہید پولیس اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ کے ڈی اے منتقل کی گئیں، جن میں ایک کی شناخت عدنان کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دوسرے شہید پولیس اہلکار کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ پولیس لائنز میں گزشتہ روز شروع ہونے والا کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔ سکیورٹی اداروں نے پولیس لائنز کو چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے، جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار اندر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔ آپریشن کے دوران وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ صبح نماز فجر کے وقت بھی پولیس لائنز کے اندر سے بھاری دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

پشاور احساس اپنا گھر پروگرام ،عمر کی حد 60 سال کرنیکا فیصلہ

حکام کے مطابق پولیس لائنز کے اندر موجود دہشت گرد کے خلاف کارروائی آخری مراحل میں ہے اور علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔ کارروائی میں پولیس کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ واقعے کے بعد کوہاٹ کے مختلف اسپتالوں میں بڑی تعداد میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا، جبکہ شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ بھی ادا کی جاچکی ہے۔ شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کوہاٹ کے چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق حملے کا آغاز جمعہ کے روز تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر اس وقت ہوا جب بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کی حدود میں مسجد کے قریب گیٹ یا بیرونی دیوار سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور مسجد کا ایک حصہ شدید متاثر ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہوکر فائرنگ شروع کردی۔ پولیس کے مطابق حملے میں سات دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، جن میں سے چھ کو سکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کے دوران ہلاک کردیا، جبکہ ایک دہشت گرد کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری رہا۔

کوہاٹ دھماکہ، شہدا کی تعداد 16 ہوگئی، 6 دہشتگرد ہلاک

پولیس لائنز کو سکیورٹی فورسز نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، جبکہ کلیئرنس آپریشن میں پولیس کے ساتھ فوج کے دستے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن کے دوران وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق صبح نماز فجر کے وقت بھی پولیس لائنز کے اندر سے بھاری دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اس دوران فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ہسپتال حکام کے مطابق دھماکے کے بعد بڑی تعداد میں زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دستیاب ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق 103 زخمی اسپتالوں میں لائے گئے، جن میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل تھے، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری سمیت پولیس کے مختلف شعبوں سے وابستہ اہلکار شامل ہیں۔ شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ گزشتہ رات ادا کردی گئی، جس کے بعد ان کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کردیئے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز کے اندر موجود دہشت گرد کے خلاف کارروائی جاری ہے اور علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق کارروائی آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ واقعے کے بعد کوہاٹ کے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی، جبکہ ریسکیو 1122 کی متعدد ایمبولینسز اور اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ کوہاٹ پولیس لائنز پر دہشت گرد حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت میں قائم اتحاد المجاہدین نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 

کوہاٹ، پرانی پولیس لائن میں دھماکہ، 5 پولیس اہلکار، 11 شہری شہید

Next Post
آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان پہلے نمبر پر آگیا
Previous Post
کوہاٹ دھماکہ، شہدا کی تعداد 16 ہوگئی، 6 دہشتگرد ہلاک