پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی گروپ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم کی ذمہ داری سے متعلق بحث کے دوران اراکین قومی اسمبلی شاندانہ گلزار، ذوالفقار خان اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی گروپ میں شاندانہ گلزار اور ذوالفقار خان کی گفتگو سامنے آئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ماضی کی سیاسی تحریکوں، کارکنوں کو پیش آنے والی مشکلات اور پارٹی کی حکمت عملی پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ شاندانہ گلزار نے گفتگو کے دوران کہا کہ 4 اکتوبر اور 26 نومبر کی تحریکوں میں پارٹی کو بڑے پیمانے پر ناکامیوں اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ان تحریکوں کے دوران پنجاب کی جیلوں میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پر کبھی تنقید نہیں کی گئی اور نہ ہی بے گناہ افراد کو پیش آنے والی مشکلات کا ذمہ دار انہیں ٹھہرایا گیا، تاہم اب دوہرا معیار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟
ناچنے والے گھوڑے میدان میں نہیں دوڑتے، فیصل کنڈی کا علی امین پر طنز
اس پر ذوالفقار خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض غلطی نہیں بلکہ ان کے بقول چار افراد نے جرم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کے نتائج سب کے سامنے تھے، لیکن 26 نومبر سے اب تک پارٹی نے نہ غلط کو غلط سمجھا اور نہ صحیح کو صحیح تسلیم کیا، جس کے باعث اسے مسلسل نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ذوالفقار خان نے مزید کہا کہ پارٹی کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اب دس افراد کو بھی اکٹھا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ گفتگو کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شاندانہ گلزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسروں پر سوال اٹھانے کے بجائے اپنے کردار اور کارکردگی پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کارکنوں کے مقدمات، ان کے اہل خانہ اور ضمانتی مچلکوں سمیت تمام معاملات کا خیال رکھا گیا اور گرفتار ہونے والے افراد کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے گئے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ وہ ہر گروپ میں شاندانہ گلزار کے سوالات کے جواب دینے کے پابند نہیں ہیں اور انہیں اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی گروپ میں ہونے والی اس گفتگو نے پارٹی کے اندر گزشتہ سیاسی تحریکوں کی حکمت عملی، کارکنوں کی مشکلات اور قیادت کی ذمہ داریوں سے متعلق اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم گفتگو کے مکمل سیاق و سباق اور متعلقہ رہنماؤں کے باضابطہ مؤقف کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک ان بیانات کو منسوب دعووں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ثمر ہارون بلور سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کی نواسی
شانگلہ،پی ٹی آئی رہنمائوں و کارکنوں کے گھروں ، ڈیروں پر چھاپے

