برصغیر پر برطانوی قبضہ صرف انگریزوں کی فوجی طاقت کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے مقامی حکمرانوں، سرداروں اور بااثر طبقات کی غداری، مفاد پرستی اور باہمی اختلافات کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔
1757ء کی جنگِ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کی فوج تعداد میں انگریزوں سے کہیں زیادہ تھی، لیکن سپہ سالار میر جعفر کی غداری اور جگت سیٹھ جیسے بااثر مقامی سرمایہ داروں کی مالی معاونت نے انگریزوں کے لیے فتح کی راہ ہموار کر دی۔ یوں ایک طاقتور حکمران اندرونی سازشوں کے باعث شکست سے دوچار ہوا۔
1799ء میں ٹیپو سلطان کے خلاف بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ میسور کے اس شیر کو میدانِ جنگ میں زیر کرنا آسان نہ تھا، مگر وزیر میر صادق کی غداری نے انگریزوں کے لیے قلعۂ سرنگاپٹم کے دروازے کھول دیے۔ اس کے بعد مرہٹہ سلطنت کے دھڑے، یعنی پیشوا، سندھیا اور ہولکر، ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہے۔ اسی آپسی کشمکش سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے فائدہ اٹھایا اور رفتہ رفتہ وسیع علاقوں پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔
مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش
1857ء کی جنگِ آزادی اسی حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اگر تمام مقامی حکمران اور ریاستیں ایک متحد قوت بن کر کھڑی ہو جاتیں تو انگریزوں کے لیے ہندوستان میں ٹھہرنا نہایت مشکل ہو جاتا۔ لارڈ کیننگ سے منسوب مشہور قول بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر گوالیار کا سندھیا حکمران بغاوت میں شامل ہو جاتا تو انگریزوں کو بوریا بستر لپیٹنا پڑتا۔ مگر ایک طرف عوام اور سپاہی انگریزوں سے لڑ رہے تھے، اور دوسری طرف بعض مقامی اشرافیہ اپنے مفادات بچانے کے لیے انہی کے ساتھ کھڑی تھی۔ برطانوی اقتدار کو مقامی وسائل، ٹیکسوں اور بااثر طبقات کی معاونت بھی حاصل رہی۔
1919ء کا سانحۂ جلیانوالہ باغ اسی نوآبادیاتی نظام کی سفاکی کا نمونہ تھا۔ جنرل ڈائر کے حکم پر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں، اور فائرنگ کرنے والے بھی مقامی سپاہی ہی تھے۔ سامراج نے مقامی آبادی کو کچلنے کے لیے مقامی ہاتھ ہی استعمال کیے۔ برطانوی اقتدار کا سب سے بڑا ہتھیار صرف بندوق نہیں تھا، بلکہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی تھی۔ مذہب، ذات، نسل، زبان اور علاقے کے اختلافات کو ہوا دے کر لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا گیا۔ جب لوگ آپس میں بٹے ہوں تو بیرونی طاقت کے لیے ان پر حکمرانی کہیں آسان ہو جاتی ہے۔ اس تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ کوئی بیرونی طاقت کسی معاشرے کو اس وقت تک مستقل طور پر زیرِ نگیں نہیں رکھ سکتی جب تک اسے اندر سے مفاد پرست، کمزور یا غدار عناصر کا سہارا نہ ملے۔
اس لیے جب ہم اپنی شکستوں اور غلامی کی وجوہات تلاش کریں تو صرف بیرونی دشمن کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں۔ ہمیں اپنے اندر کی کمزوریوں، باہمی نفرتوں، مفاد پرستی اور تقسیم کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
بیگم شاہی مسجد، لاہور کی تاریخ میں فنِ تعمیر کا ایک درخشاں باب

