شانگلہ میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں، ڈیروں اور دیگر ٹھکانوں پر پولیس کے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پورن میں تحریک انصاف کے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی اور تحصیل کونسل پورن کے سابق چیئرمین حاجی عبدالمولا خان کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب چھاپہ مار کارروائی کے دوران بیٹے طلحہ محمود سمیت گرفتار کر لیا گیا ہیں جبکہ دندئی، پورن، الپوری، چکیسر، بشام، شاہ پو ر،کانا، کروڑہ، الندر، اجمیراور دیگر علاقوں میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر پولیس چھاپہ مار کارروائی جاری ہیں۔ بعض کارروائیوں کے دوران گھروں کے شیشے اور فرنیچر توڑنے سمیت چادر و چار دیواری کی پامالی کے الزامات سامنے آئے ہیںجن پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شانگلہ کے مختلف علاقوں میں تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں اور ڈیروں پر پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پورن میں سابق امیدوار صوبائی اسمبلی اور سابق چیئرمین تحصیل کونسل حاجی عبدالمولا خان اور ان کے بیٹے طلحہ محمود کی گرفتاری کے بعد سیاسی حلقوں میں صورتحال پر مزید بحث شروع ہو گئی ہے۔
بلی تھیلے سے باہر آگئی، ایمرجنسی کا فیصلہ معدنیات کیلئے کیا گیا
دوسری جانب تھانہ الپوری سمیت مختلف علاقوں میں بھی پولیس چھاپوں کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔چکیسر سے دندئی، الپوری سے بشام، شاہپورکانا،پورن، کروڑہ، الندر، اجمیر اور سین کڑی سمیت شانگلہ کے مختلف علاقوں میں پولیس کارروائیوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی سے وابستہ حلقوں نے بعض گھروں میں توڑ پھوڑ، شیشے اور فرنیچر کو نقصان پہنچانے اور اہل خانہ کیلئے مشکلات پیدا ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کارروائیوں کی مذمت کی ہے تاہم ان الزامات اور کارروائیوں کی تفصیلات پر پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔شانگلہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر معروف قانون دان سلیمان شاہ خان ایڈووکیٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنماؤں سمیت مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ٹویٹس کے ذریعے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں پر تنقید کی ہے ان کا مؤقف ہے کہ گھروں میں چھاپوں کے دوران چادر و چار دیواری، گھریلو تقدس اور پختون روایات کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔
ثمر ہارون بلور سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کی نواسی
انھوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جنسے شہریوں کے بنیادی حقوق اور گھریلو حرمت متاثر ہو۔سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دیں اور کسی بھی ملزم کے خلاف کارروائی کے دوران اس کے اہل خانہ اور دیگر شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ امن و امان کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ قانون پر عمل درآمد کے ساتھ عوامی اعتماد اور مقامی روایات کا بھی خیال رکھا جائے۔ادھر گورنر راج کے نفاذ کے بعد شانگلہ میں سکیورٹی انتظامات بدستور سخت ہیں۔ پانچ روز گزرنے کے باوجود مختلف چوکوں اور اہم مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے جبکہ ناکوں اور چیکنگ پوائنٹس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے شانگلہ کے مختلف علاقوں میں پولیس کی موجودگی اور نگرانی کے باعث معمولات زندگی اور سیاسی سرگرمیوں پر بھی صورتحال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان سٹیڈیم کا نام دوبارہ ارباب نیاز سٹیڈیم رکھنے پر غور
گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کے بعض اہم رہنما منظرعام سے غائب ہیںجن میں سے کئی ماضی میں سوشل میڈیا پر سخت بیانات دیتے رہے ہیں جبکہ پارٹی کے دیگر رہنما اور ترجمان سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں وہ اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر پولیس چھاپوں سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کارروائیوں کی مذمت کر رہے ہیں اور انہیں سیاسی کارکنوں پر دباؤ ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔شانگلہ میں جاری ان کارروائیوں کے تناظر میں سیاسی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے ساتھ قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں اور گھروں کے تقدس کو یقینی بنایا جائے۔ پولیس کی جانب سے چھاپوں کی وجوہات، حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور توڑ پھوڑ کے الزامات پر باضابطہ وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ ۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟
33 بچے، 2 اساتذہ جاں بحق، ہسپتال انتظامیہ نے رپورٹ جاری کردی





