Skip to main contentSkip to footer

ثمر ہارون بلور سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کی نواسی

ثمر ہارون بلور سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کی نواسی

بنوں سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان کی نواسی، صوبہ سندھ کے سابق مُشیر برائے داخلہ عرفان اللہ خان مروت کی بیٹی، تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کی کزن، شہید بشیر بلور کی بہو اور مرحوم ہارون بلور کی بیوہ ثمر ہارون بلور کو گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی نئی وزیر اطلاعات و نشریات نامزد کیا گیا ہے جبکہ سابق صدر غلام اسحاق خان کے ایک اور نواسے عثمان سیف اللہ خان کو گورنر کے مشاورتی کونسل میں توانائی کی وزارت سونپی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر سینیٹر رہنے والے عثمان سیف اللہ خان سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کا بیٹا ہے۔ آپ کی ہمشیرہ تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل اور سابق صدر پاکستان ایوب خان کے پوتے عمر ایوب کی اہلیہ ہے۔

وہ مسلمان جنہوں نے میت جلانے کی وصیت کی

ثمر بلور کے والد عرفان اللہ خان مروت شروع سے مسلم لیگ کے ساتھ وابستگی رکھتے ہے اور نویں کی دہائی کے شروع میں صوبہ سندھ کے مسلم لیگی وزیراعلیٰ جام صادق علی کے مُشیر برائے داخلہ اور اپنے وقت کے محسن نقوی تھے، جس نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو جیلوں میں ڈال کر اُن کو زبردستی مسلم لیگ میں شامل کرواتا تھا۔ یہاں تک کہ سیاسی خواتین کو بھی قید کیا ہوا تھا۔ نفیسہ خودبھائے اپنے کتاب میں لکھتی ہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں بعض سیاسی قیدیوں نے انہیں بتایا تھا کہ عرفان اللہ مروت نے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے کے عوض اُن کی سزاؤں میں کمی کی پیشکش کی تھی۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟

متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے آخری وزیراعلیٰ سردار سکند رحیات کی پوتی، مسلم لیگ کے سینئر رہنما شوکت حیات کی بیٹی اور بےنظیر کی قریبی دوست وینا حیات کا جب سال 1991ء میں کراچی میں گینگ ریپ ہوا تو وینا حیات اور بےنظیر نے اِسکا الزام ثمر بلور کے والد اور سندھ کے اُس وقت کے مُشیر برائے داخلہ عرفان اللہ مروت پر لگایا۔ رپورٹ کے مطابق وینا حیات کا گینگ ریپ بے نظیر کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کےلئے کیا گیا تھا۔ وینا حیات کی گینگ ریپ کے بعد اُن کے ملازمین کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا۔ لوگوں نے جب احتجاج شروع کی اور بےنظیر نے اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف سے انکوائری کا مطالبہ کیا تو ایک سرکاری برائے نام ٹریبونل بنائی گئی، جس نے وینا حیات ملک اور دوسرے گواہوں کو سنے بغیر عرفان اللہ مروت کو بری کرلیا۔ عرفان اللہ مروت کے بری ہونے کے بعد وینا حیات پاکستان چھوڑ کر ہمیشہ کےلئے امریکہ چلی گئی۔

اضاخیل گودام میں بارش سے اربوں مالیت کی گندم خراب

ثمر بلور کے والد عرفان اللہ مروت نے پیپلز پارٹی کے خواتین پر اتنے مظالم کئے تھے کہ جب سال 2017ء میں عرفان اللہ مروت نے بلاول ہاؤس کراچی میں زرداری سے ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو نے آپکے خلاف سخت بیانات جاری کئے تھے، جس کے بعد عرفان اللہ مروت نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ واپس لیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور نے سیاست میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اپنا خاندانی کاروبار تباہ کروایا اور سب سے بڑھ کر اپنے اکلوتے بیٹے، ایک بھائی اور بھتیجے کو کھو دیا لیکن آج وہ قومی اسمبلی کی نشست ہار کر اسلام آباد میں گوشہ نشیں ہے جبکہ ثمر بلور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پہلے مخصوص نشست پر رکنِ قومی اسمبلی بنی اور اب عوامی مینڈیٹ کے بغیر صوبائی وزیر بھی بن گئی ہیں۔ یہی فرق ہے اُصول پسند سیاست اور مفاد پرستانہ سیاست میں۔ ایک طرف غلام احمد بلور کی طرزِ سیاست اور دوسری طرف عرفان اللہ مروت جیسے کردار۔ ہر دور میں عرفان اللہ مروت کی صورت میں کوئی محسن نقوی موجود ہوتا ہے، جس کا واحد کام مخالف جماعتوں کے کارکنوں کو دھمکانا اور بلاجواز قید میں ڈالنا ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو کا فیصل کریم کنڈی کی فرعونیت کا سخت نوٹس

 

 

عمران خان سٹیڈیم کا نام دوبارہ ارباب نیاز سٹیڈیم رکھنے پر غور

اگلی پوسٹ
بلی تھیلے سے باہر آگئی، ایمرجنسی کا فیصلہ معدنیات کیلئے کیا گیا
پچھلی پوسٹ
وہ مسلمان جنہوں نے میت جلانے کی وصیت کی