پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے رویے اور گورنر راج سے متعلق ان کے بیانات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصل کریم کنڈی کو اجلاس سے باہر جانے کا کہا اور انہیں گفتگو میں عاجزی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ 13 اکتوبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہوا تو گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی وہاں پہنچ گئے۔ ان کی آمد پر بلاول بھٹو زرداری نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہے اور وہ فی الحال باہر چلے جائیں۔
فیصل کریم کنڈی کے بیانات پر بلاول بھٹو ناراض
رپورٹ کے مطابق، ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے اور مبینہ دھمکی آمیز بیانات پر ناخوش تھے۔ پارٹی چیئرمین نے گورنر کے اندازِ گفتگو پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں رویے میں نرمی اور عاجزی اختیار کرنے کا پیغام دیا۔ رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے فیصل کریم کنڈی کو یہ بھی باور کرایا کہ انہیں اپنے عہدے اور اختیار پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ ذرائع سے منسوب بیان کے مطابق، انہوں نے گورنر کو یاد دلایا کہ انہیں یہ منصب پارٹی کی سیاسی مجبوری کے تحت دیا گیا ہے، اس لیے انہیں اپنی گفتگو اور طرزِ عمل میں احتیاط برتنی چاہیے۔ تاہم، اجلاس میں ہونے والی گفتگو کی یہ تفصیلات ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں، جبکہ دونوں رہنماؤں کی جانب سے اس واقعے کی مکمل تفصیلات پر براہِ راست تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں۔
باڑہ میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا،50 افراد گرفتار
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر فیصل کریم کنڈی کے جارحانہ مؤقف کو بھی اختلاف کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل گورنر متعدد بیانات میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کر چکے تھے اور کہا تھا کہ اگر وفاقی حکومت یا صدر مملکت حالات کو غیر معمولی سمجھیں تو آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صوبائی حکومت اپنے اراکین اور وزرا کا تحفظ نہیں کر سکتی تو عوام کے تحفظ کی ذمہ داری کیسے پوری کرے گی۔ انہوں نے صوبے کی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر بھی گفتگو کی تھی۔
وزیراعلیٰ ہائوس اور سیکرٹریٹ کی سیکورٹی واپس لے لی گئی
دوسری جانب، 13 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حکومتی قرارداد کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان کو صوبے کی صورتحال اور مجوزہ حکومتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس تناظر میں پارٹی چیئرمین اور گورنر کے درمیان سامنے آنے والا اختلاف اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف گورنر فیصل کریم کنڈی صوبے کی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف پارٹی قیادت کی جانب سے ان کے اندازِ بیان اور گورنر راج سے متعلق بیانات پر تحفظات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
خیبرپختونخوا میں 30 ڈاکٹر ملازمت سے برطرف
بلاول بھٹو زرداری اور فیصل کریم کنڈی کے درمیان مبینہ تلخ کلامی کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں امن و امان، وفاق اور صوبے کے تعلقات اور گورنر راج کے معاملے پر سیاسی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس واقعے سے متعلق ذرائع کی اطلاعات کو حتمی اور مکمل طور پر تصدیق شدہ مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، اگر رپورٹ ہونے والی گفتگو درست ہے تو یہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور گورنر خیبرپختونخوا کے درمیان طرزِ عمل اور سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ فی الحال اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ اختلاف صرف گورنر کے بیانات اور اندازِ گفتگو تک محدود ہے یا اس کے اثرات خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے متعلقہ رہنماؤں کے باضابطہ مؤقف اور مزید مصدقہ تفصیلات کا انتظار کرنا ہوگا۔
خیبر میں سیکیورٹی سخت، باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل





