Skip to main contentSkip to footer

گورنر راج لگ بھی گیا، پھر لانگ مارچ ختم کیوں ہوا؟

گورنر راج لگ بھی گیا، پھر لانگ مارچ ختم کیوں ہوا؟

جنہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانا تھا، وہ تو لگا چکے، لیکن ابھی تک ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر یوتھیوں نے لانگ مارچ ختم کیوں کیا؟ جس مارچ کے ذریعے حکومت کو دباؤ میں لانے، اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، اس کا اختتام کن وجوہات کی بنیاد پر ہوا؟ کیا مقاصد حاصل ہو گئے تھے، کیا حالات توقعات کے برعکس ہو گئے، یا پھر سیاسی حکمت عملی میں کوئی ایسی تبدیلی آئی جس کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں؟

لانگ مارچ نکالنے کا مقصد کیا تھا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جب کسی سیاسی جماعت کی جانب سے بڑے احتجاج یا لانگ مارچ کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی واضح سیاسی مقصد ہوتا ہے۔ کارکنوں کو متحرک کیا جاتا ہے، قیادت عوامی حمایت کا حوالہ دیتی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر مارچ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ختم ہو جائے تو اس فیصلے کی وجوہات جاننا سیاسی مبصرین اور عام شہریوں، دونوں کے لیے اہم ہو جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے تناظر میں یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اگر لانگ مارچ کا مقصد صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا تو مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟ کیا قیادت نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پسپائی اختیار کرنا مناسب سمجھا، یا احتجاج کو کسی دوسرے مرحلے میں منتقل کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی؟

خیبرپختونخوا میں 30 ڈاکٹر ملازمت سے برطرف

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی احتجاج کا ختم ہونا لازماً سیاسی شکست نہیں ہوتا، جس طرح احتجاج کا بڑا ہجوم بھی ہر مطالبے کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مارچ شروع کرتے وقت جو اہداف مقرر کیے گئے تھے، ان میں سے کتنے حاصل ہوئے اور جو مطالبات باقی رہ گئے، ان کے لیے آئندہ کیا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اگر گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی لانگ مارچ ختم کرنے کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں تو قیادت کو اپنے کارکنوں اور حامیوں کے سامنے اس فیصلے کی وضاحت کرنی چاہیے۔ سیاسی تحریکیں صرف نعروں سے نہیں چلتیں؛ انہیں واضح مقاصد، مستقل حکمت عملی اور اپنے فیصلوں کے بارے میں جواب دہی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کارکنوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے

خیبر میں سیکیورٹی سخت، باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل

کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن اس کی تحریک کا بنیادی سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ وقت دیتے ہیں، سفر کرتے ہیں، مشکلات برداشت کرتے ہیں اور قیادت کے اعلانات پر اعتماد کرکے میدان میں نکلتے ہیں۔ اگر انہیں کسی بڑے احتجاج کے خاتمے کی وجہ معلوم نہ ہو تو ان کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ کیا قیادت نے اپنے مطالبات کے حصول کے لیے کوئی معاہدہ کیا؟ کیا انتظامی یا سیکیورٹی حالات نے مارچ جاری رکھنا مشکل بنا دیا؟ کیا احتجاج کے مقاصد تبدیل ہو گئے تھے؟ یا پھر قیادت نے آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کے تحت مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کیا؟ ان سوالات کے جوابات قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق اور متعلقہ رہنماؤں کے بیانات کی بنیاد پر سامنے آنے چاہییں۔

خیبر میں حالات کشیدہ، تحریک انصاف کے کارکنوں پر فائرنگ، دو زخمی

سیاسی جماعتوں کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی کال دیں؛ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ احتجاج کے اختتام پر کیا حاصل ہوا۔ اگر لانگ مارچ کا مقصد گورنر راج کو روکنا تھا تو اس مقصد کے حصول یا ناکامی کی وضاحت ضروری ہے۔ اگر مقصد کچھ اور تھا تو وہ بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ بالآخر سوال وہی ہے: جنہوں نے گورنر راج لگانا تھا، وہ تو لگا چکے، لیکن لانگ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب محض طنز یا سیاسی نعروں سے نہیں، بلکہ واضح حقائق، قیادت کی وضاحت اور مارچ کے اعلان کردہ مقاصد کا جائزہ لے کر ہی دیا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ تفصیلات سامنے نہیں آتیں، لانگ مارچ کے خاتمے کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

 

باڑہ میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا،50 افراد گرفتار

اگلی پوسٹ
بلاول بھٹو کا فیصل کریم کنڈی کی فرعونیت کا سخت نوٹس
پچھلی پوسٹ
باڑہ میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا،50 افراد گرفتار