اسلام میں میت کو جلانا حرام ہے اور ایسی وصیت شرعاً باطل سمجھی جاتی ہے، لیکن تاریخ میں کچھ مسلمان شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنی آخری خواہش کے طور پر جلائے جانے کی وصیت کی۔ ان کا تعلق زیادہ تر سیکولر یا ترقی پسند سوچ سے تھا۔
گوگل میپس پر دریافت پراسرار سٹرکچر 39کروڑ برس پرانا نکلا
1۔ عصمت چغتائی (1915-1991) – بھارتی
اردو کی عظیم افسانہ نگار۔ کہا کرتی تھیں "مجھے قبر سے گھٹن ہوتی ہے، مجھے جلایا جائے”۔ 24 اکتوبر 1991 کو بمبئی میں وفات پر ان کی خواہش کے مطابق چندن واڑی شمشان گھاٹ میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
2۔ ایم۔ سی۔ چاغلہ (1900-1981) – بھارتی
محمد کریم چاغلہ، بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ہندوستان کے وزیر تعلیم۔ وصیت کی تھی کہ انہیں اسلامی طریقے سے دفن نہ کیا جائے بلکہ جلایا جائے۔
3۔ جسٹس محمد ہدایت اللہ (1905-1992) – بھارتی
ہندوستان کے پہلے مسلم چیف جسٹس، قائم مقام صدر اور نائب صدر۔ اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ انہیں ہندو رسم کے مطابق جلایا جائے۔
4۔ حمید دلوائی (1932-1977) – بھارتی
مہاراشٹر کے مشہور مسلم سماجی مصلح۔ اپنے آپ کو ملحد کہتے تھے اور وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد ان کی میت کو دفن نہ کیا جائے بلکہ جلایا جائے۔
5۔ طارق فتح (1949-2023) – پاکستانی نژاد کینیڈین
کراچی میں پیدا ہونے والے صحافی و مصنف۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اپنے آباؤ اجداد کی طرح جلایا جائے۔ ٹورنٹو میں ان کی آخری رسومات اسی وصیت کے مطابق ہوئیں۔
6۔ حمید قریشی – بھارتی
صابرمتی آشرم ٹرسٹ احمد آباد کے مسلمان صدر۔ ان کی آخری خواہش پر ان کے اہل خانہ نے انہیں ہندو رسم کے مطابق سپرد آتش کیا۔
7۔ ن۔م۔ راشد (1910-1975) – پاکستانی
نذر محمد راشد، اکال گڑھ گوجرانوالہ سے تعلق، جدید اردو نظم کے بانی۔ 1973 میں انگلینڈ ریٹائرمنٹ لی اور 9 اکتوبر 1975 کو لندن میں وفات پائی۔ وصیت کی تھی کہ دفنانے کے بجائے ان کی میت کو جلایا جائے۔ لندن میں ہی ان کی آخری رسومات ادا ہوئیں، جس پر اس وقت پاکستان میں کافی تنازعہ بھی ہوا
دنیا کے قدیم ترین 3400سال پرانے امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت





