گوگل میپس پر دریافت ہونے والا پراسرار اسٹرکچر 39 کروڑ برس پرانا نکلا۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق کینیڈا میں ایک شخص نے گوگل میپس کی مدد سے کروڑوں سال پہلے سیارچے کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھے کو دریافت کیا۔ جوئیل لاپونیٹ نامی شخص نے یہ دریافت 2024 میں کی تھی مگر اب سائنسدانوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔اس وقت جوئیل لاپونیٹ نے کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں واقع مارشل جھیل کے اردگرد کیمپنگ ٹرپ کی منصوبہ بندی کی تھی۔وہاں جانے سے قبل انہوں نے گوگل میپس کے ذریعے علاقے کا جائزہ لیا تو انہوں نے جھیل کے قریب ایک گڑھے کو دریافت کیا جو انہیں بہت زیادہ عجیب لگا۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس گڑے کا قطر 15 کلومیٹر ہے مگر اس کی ساخت ایسی ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر نہیں بنا۔
تہران میں رات کو آسمان پر نظر آنے والی پراسرار روشنیاں
اس کے بعد انہوں نے اس کے گرد چٹانوں کو دیکھا جو 8 کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔انہوں نے اپنی دریافت کی تفصیلات فرانس کے ایک سائنسدان پیئری روشیٹے سے شیئر کیں تاکہ اس گڑھے کی عجیب ساخت کو شناخت کرنے میں مدد مل سکے۔اس وقت سائنسدانوں کی جانب سے علاقے سے نمونوں کا ابتدائی تجزیہ کیا گیا اور اس میں زرقون نامی منرل کو دریافت کیا گیا جو کہ اکثر سیارچے کے ٹکرا سے بنتا ہے، مگر صرف اس کو سیارچے کے ٹکرا کا ثبوت نہیں قرار دیا جاسکتا۔تو سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس گڑھے کا خود دورہ کیا۔ویسٹرن یونیورسٹی کی ٹیم نے علاقے کا جائزہ لیا اور محققین کے مطابق ہم نے وہاں سیارچے کے ٹکرا کے شواہد تلاش کیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ عام طور پر ان شواہد کی تلاش کافی مشکل ہوتی ہے اور لیبارٹری میں نمونوں کی جانچ پڑتال کرنا پڑتی ہے۔ مگر تحقیقی ٹیم نے جو ایک چیز وہاں اپنی آنکھوں سے دیکھی وہ چٹان کی سطح پر موجود لکیریں تھیں جو کہ سطح پر شاک ویوز سے بنتی ہیں۔انہوں نے وہاں ایسی پہاڑیوں کو دیکھا جو چٹانیں پگھلنے سے بنتی ہیں اور ایسا سیارچے کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والے دبا اور بہت زیادہ درجہ حرارت سے ہوتا ہے۔چٹانوں کے نمونوں کے تجزیے سے ثابت ہوا کہ یہ گڑھا 39 کروڑ سال قبل بنا تھا۔ تحقیقی ٹیم کو ابتدائی نمونوں میں زرکون نامی معدنی عنصر ملا، جو اکثر شہابیے یا سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کے دوران پیدا ہونے والے انتہائی زیادہ درجہ حرارت اور دباؤ کے نتیجے میں تشکیل پاتا ہے۔
پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ،ایک انگلی سے لیپ ٹاپ چلا کر لاکھوں روپے کمانے والا عبدالمعید
تاہم سائنسدانوں نے واضح کیا کہ صرف زرکون کی موجودگی کو کسی شہابیے کے ٹکرانے کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے مزید تفصیلی تحقیق ضروری تھی۔ بعد ازاں مختلف اداروں کے ماہرین پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم نے اس مقام کا خود دورہ کیا۔ اس ٹیم کی قیادت کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے کی، جنہوں نے کئی روز تک علاقے کا تفصیلی معائنہ کیا اور مختلف مقامات سے چٹانوں کے مزید نمونے جمع کیے۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق میدان میں پہنچتے ہی انہیں ایسے شواہد ملنے لگے جو واضح طور پر کسی بہت بڑے شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ محققین کا کہنا تھا کہ عام طور پر اس قسم کے شواہد زمین کی سطح پر آسانی سے نظر نہیں آتے اور ان کی شناخت کے لیے جدید لیبارٹریوں میں پیچیدہ تجزیے کرنے پڑتے ہیں، مگر اس مقام پر بعض نشانات اتنے واضح تھے کہ انہیں براہ راست دیکھا جا سکتا تھا۔ محققین کے مطابق سب سے نمایاں ثبوت چٹانوں کی سطح پر موجود مخصوص لکیریں شاک فیچرز تھیں۔ یہ باریک مگر واضح لکیریں اس وقت بنتی ہیں جب کوئی دیوہیکل شہابیہ انتہائی تیز رفتاری سے زمین سے ٹکراتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طاقتور شاک ویوز چٹانوں کے اندر غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کر دیتی ہیں۔ تحقیقی ٹیم نے مزید بتایا کہ علاقے میں ایسی پہاڑی نما ساختیں بھی موجود تھیں جو صرف اس وقت بنتی ہیں جب چٹانیں انتہائی زیادہ درجہ حرارت میں پگھل جائیں۔
شمالی کوریا کے زیرِ زمین جوہری تجربات کے بعد دنیا میں 1399 زلزلے
سائنسدانوں کے مطابق اس درجے کا درجہ حرارت اور دباؤ صرف شہابیے کے زبردست تصادم کے دوران ہی پیدا ہو سکتا ہے، جس سے چٹانیں پگھل کر دوبارہ ٹھنڈی ہونے کے بعد نئی ساخت اختیار کر لیتی ہیں۔ بعد ازاں لیبارٹری میں چٹانوں کے تفصیلی تجزیے، معدنیاتی جانچ اور ارضیاتی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ یہ گڑھا تقریباً 39 کروڑ سال قبل وجود میں آیا تھا، جب ایک بڑا شہابیہ یا سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس تصادم نے نہ صرف زمین کی سطح پر ایک وسیع گڑھا بنا دیا بلکہ آس پاس کی چٹانوں کی ساخت کو بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ سائنسدانوں کے مطابق کروڑوں سال گزرنے کے باوجود اس مقام پر موجود چٹانوں میں آج بھی اس قدیم تصادم کے آثار محفوظ ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ بارش، برف باری، ہوا اور دیگر قدرتی عوامل نے اس گڑھے کی اصل شکل کو کافی حد تک تبدیل کر دیا، لیکن جدید سائنسی تکنیکوں نے اس کے اصل وجود کی تصدیق ممکن بنا دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اب تک تقریباً 200 سے زائد ایسے شہابی گڑھوں کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم نئے گڑھوں کی دریافت اب بھی جاری ہے کیونکہ دنیا کے کئی دور افتادہ علاقے ابھی تک مکمل طور پر سائنسی تحقیق کا حصہ نہیں بن سکے۔
ایک ہی تاریخ کو پیدا ہونے والی ایک خاندان کی پانچ نسلوں کا عالمی ریکارڈ قائم
تحقیقی ٹیم کے مطابق اس دریافت کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کا آغاز کسی پیشہ ور سائنسدان نے نہیں بلکہ ایک عام شہری نے گوگل میپس پر ایک غیر معمولی ساخت کو دیکھ کر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سیٹلائٹ تصاویر، گوگل میپس اور دیگر آن لائن نقشہ جاتی ٹیکنالوجیز نے سائنسی تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، جہاں عام افراد بھی اہم دریافتوں میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرین ارضیات کے مطابق اس قسم کی دریافتیں نہ صرف زمین کی قدیم تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں زمین پر کتنے بڑے فلکیاتی تصادم ہوئے اور انہوں نے کرہ ارض کے جغرافیے، ماحول اور حیاتیاتی ارتقا پر کس حد تک اثرات مرتب کیے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مارشل جھیل کے قریب دریافت ہونے والا یہ قدیم شہابی گڑھا مستقبل میں مزید سائنسی تحقیق کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا، کیونکہ اس کے ذریعے زمین کی کروڑوں سال پرانی ارضیاتی تاریخ، شہابی تصادم کے اثرات اور معدنی تبدیلیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ یہ دریافت اس بات کی بھی ایک دلچسپ مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور عام شہریوں کا مشاہدہ مل کر سائنسی دنیا میں غیر معمولی انکشافات کا سبب بن سکتے ہیں۔
رات کو ناشتہ اور دن میں نیند، 106سالہ شخص توجہ کا مرکز بن گیا
سعودی عرب میں ہزاروں برس قدیم نخلستان کے شواہد دریافت

