اسلام آباد؛ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) نے پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کا نیا ورژن 5.7.4 جاری کردیا ، جس میں اوورسیز پاکستانیوں کو بھی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ نادرا ترجمان سید شباہت علی نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ مذکورہ ایپ میں شہریوں کے لئے ایف آئی اے کو آن لائن شکایت درج کرانے، فیملی ریکارڈ درست کرنے، دستخط اپ لوڈ کرنے اور شناختی دستاویزات کی ڈیجیٹل سہولت سمیت متعدد اہم فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں۔نئے ورژن سے قبل جاری کردہ سہولتوں میں جانشینی سرٹیفکیٹ کی تصدیق بھی شامل ہے، پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کے ذریعے شہری قانونی وارثت سے متعلق سکسیشن سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کی تصدیق کرسکتے ہیں۔اس مقصد کیلئے ایپ کے ہوم پیج پر جانشینی سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا آئیکون موجود ہے، جہاں سے درخواست کا عمل مکمل کیا جاسکتا ہے۔نادرا کے مطابق شہری چند منٹ میں مطلوبہ جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کی تصدیق کرسکتے ہیں، جبکہ اس طریقہ کار کی تفصیلی ویڈیو بھی نادرا کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔
عمران خان کا بیرون ملک جانے اور سیاست چھوڑنے سے انکار
پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کے نئے ورژن میں ایک اہم پیش رفت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے متعلق ہے۔ نادرا نے ایف آئی اے سے متعلق ایک علیحدہ سیکشن ایپ میں شامل کردیا ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد شہری پاک آئیڈینٹیٹی کے ذریعے اپنے مسائل سے متعلق شکایت درج کراسکیں گے اور شکایت کی پیش رفت بھی آن لائن ٹریک کرسکیں گے۔اس سہولت کے نتیجے میں شہریوں کو شکایت درج کرانے کے لیے متعلقہ ایف آئی اے دفتر یا اسٹیشن جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔نادرا کو شہریوں کی جانب سے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ(ایف آر سی) کے حصول میں مشکلات اور خاندانی ریکارڈ نامکمل ہونے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔نئے ورژن میں ایسے فرد کو فیملی ڈیٹا میں شامل کرنے کا عمل مزید آسان کردیا گیا ہے جس کا نام خاندان کی فہرست میں موجود نہیں۔
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد کروڑوں کا خزانہ نکل آیا
اگر متعلقہ فرد کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے تو پاک آئیڈینٹیٹی کے ذریعے اسے خاندان میں شامل کرنے کے لیے درخواست دی جاسکتی ہے۔ضروری معلومات اور دستاویزات فراہم کرنے کے بعد درخواست منظور ہونے پر متعلقہ فرد کو فیملی کمپوزیشن میں شامل کرلیا جائے گا، جس کے بعد شہری کو نئے ریکارڈ کے مطابق ایف آر سی دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔اگر ایسے فرد کا شناختی کارڈ ہی نہیں بنا ہوا تو اس کا نام ایف آر سی کے ریکارڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم یہ شمولیت صرف اسی ایف آر سی تک محدود رہے گی اور نادرا کے مستقل فیملی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گی۔پاک آئیڈینٹیٹی ایپ میں دستخط کے حوالے سے شہریوں کی شکایات کے پیش نظر نادرا نے آسپیکٹ ریشو کراپنگ کی سہولت متعارف کرائی ہے۔اب درخواست کے دوران دستخط اپ لوڈ کرتے وقت اگر دستخط اسکرین کے عین درمیان نہ ہوں یا ان کا سائز چھوٹا ہو تو ایپ خودکار طور پر دستخط کو فوکس کرکے کراپ کرے گی، جس سے دستخط میں کمی یا خرابی کے امکانات کم ہوجائیں گے۔نادرا نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے بھی اہم اقدام کیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا ای وی بائیکس سکیم متعارف کرانے کا فیصلہ
شناختی کارڈ، نائیکو یا پاکستان اوریجن کارڈ کی درخواست منظور ہونے کے بعد پرنٹ شدہ دستاویز کے انتظار کی صورت میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل قوانین کے تحت پاک آئیڈینٹیٹی ایپ میں دستیاب ڈیجیٹل ریکارڈ اور ڈیجیٹل آئی ڈی کو متعلقہ شناختی دستاویز کے مساوی قانونی حیثیت دی گئی ہے۔نادرا کے مطابق شناختی کارڈ، نائیکو یا پاکستان اوریجن کارڈ کی پرنٹنگ مکمل ہونے اور تصدیق کے بعد اس کی ڈیجیٹل شکل پاک آئیڈینٹیٹی ایپ میں دستیاب ہوگی، یہ سہولت پاکستان یا بیرون ملک سے دی گئی درخواست، دونوں صورتوں میں حاصل کی جاسکے گی۔نادرا نے متعلقہ اداروں کو بھی ڈیجیٹل شناختی دستاویزات اور ڈیجیٹل آئی ڈی کی قانونی حیثیت اور قبولیت سے آگاہ کردیا ہے تاکہ شناخت کی تصدیق کے لئے انہیں استعمال کیا جاسکے۔

