اسلام آباد : پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ پارٹی عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملنے کی توقع کر رہی تھی لیکن ملاقات سے انکار کرکے پارٹی کو یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ یہ بھول جائیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ جیل انتظامیہ اور حکام کے سخت رویئے کے باوجود عمران خان اپنے سیاسی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں
اسلام آباد لندن، ماسکو، ٹورنٹو سے زیادہ محفوظ شہر بن گیا
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر انہیں طبی بنیادوں پر ہسپتال بھی منتقل کر دیا جائے، تب بھی لانگ مارچ ہر صورت منعقد ہوگا۔ پی ٹی آئی رہنما نے مزید خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا بھی گیا تو پانچ یا چھ دنوں کے علاج کے بعد انہیں بنی گالا بھیجنے کے بجائے دوبارہ جیل ہی منتقل کیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے دعوی کیا کہ عمران خان کو بیرونِ ملک یعنی برطانیہ بھیجنے کی پسِ پردہ کوششیں کی جا رہی ہیں، اس وقت ایسی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کوشش ہورہی ہے کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ، ان کے دونوں بیٹوں اور برطانوی حکومت کو اس بات کا ضامن بنایا جائے
سوات کے معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی لاش مل گئی
کہ اگر بانی پی ٹی آئی برطانیہ منتقل ہوتے ہیں تو وہ وہاں سے کوئی بھی سیاسی بیان جاری نہیں کریں گے اور مکمل خاموشی اختیار کریں گے، تاہم عمران خان نے ان تمام تجاویز اور شرائط پر کسی بھی قسم کی آمادگی ظاہر نہیں کی۔

