Skip to main contentSkip to footer

کبل سوات خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی، تعلق افغانستان سے تھا

کبل سوات خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی، تعلق افغانستان سے تھا

سوات کے علاقے کبل میں امن پاسون کے احتجاجی مظاہرے کے دوران تھانہ کبل کے مرکزی گیٹ کے سامنے ہونے والے خودکش حملے کے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی ہے، جس کا نام حمزہ بتایا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تصدیق کی ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی تصویر بھی سامنے آگئی ہے جبکہ بعد ازاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مبینہ خودکش حملہ آور کی تصویر بھی جاری کردی۔ اس حملے میں اب تک 17 افراد شہید جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت کبل چوک میں امن پاسون کی جانب سے امن کے حق میں احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔ احتجاج میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تھانہ کبل اور اطراف میں تعینات تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش حملہ آور نے تھانہ کبل اور پولیس لائن میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے روک لیا۔ اسی دوران حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔

دھماکے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر سیدو شریف اسپتال، کبل اسپتال اور دیگر طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں متعدد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ شدید زخمیوں کو خصوصی علاج کے لیے ریفر بھی کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کے دوران خودکش حملہ آور کی شناخت مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا نام حمزہ تھا اور اس کا تعلق افغانستان سے تھا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت مختلف شواہد، فرانزک مواد اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ اس کی تصویر بھی سامنے آچکی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آور کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے مبینہ خودکش حملہ آور کی تصویر جاری کی ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس دعوے کا بھی مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں جبکہ حملے کے پس منظر، منصوبہ بندی اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ماجد نامی مریض کیساتھ کیا واقعہ پیش آیا

 

ادھر اس واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملے کی ایف آئی آر محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر تھانہ کبل کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کی گئی ہے اور اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے سمیت دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق کبل چوک میں امن پاسون تنظیم کا احتجاجی مظاہرہ سہ پہر چار بجے شروع ہوا تھا جبکہ 6 بج کر 4 منٹ پر تھانہ کبل کے مرکزی گیٹ جہاں پر پولیس کی بھاری نفری ڈیوٹی انجام دے رہی تھی، اور عام شہریوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی وہاں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئی۔ مقدمے میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ کارروائی علاقے میں موجود ٹی ٹی پی کمانڈر مظفر اور اس کے دیگر ساتھی دہشت گردوں کی کارستانی معلوم ہوتی ہے، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔

پاکستان میں جعلی بلڈ کینسر ادویات فروخت ہونے کا انکشاف

 

حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد بعد ازاں بڑھ گئی، کیونکہ زخمی ہونے والے متعدد اہلکار دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ شہداء میں اے ایس آئی ہاشم خان، کانسٹیبل خالد خان، کانسٹیبل عثمان غنی، کانسٹیبل امین اللہ، کانسٹیبل وطن خان، کانسٹیبل مکرم خان اور کانسٹیبل حسین خان شامل ہیں، جبکہ دیگر شہداء میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ ابتدائی طور پر پولیس ٹریننگ اسکول سوات میں شہداء اے ایس آئی ہاشم خان، کانسٹیبل خالد خان، کانسٹیبل عثمان غنی، کانسٹیبل امین اللہ اور کانسٹیبل وطن خان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی جواد قمر، کمشنر ملاکنڈ مسعود احمد، آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ، کمانڈر 6 بریگیڈ بریگیڈیئر عامر جمال، ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت، ڈی پی او سوات محمد عمر خان، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد سمیت پولیس، سول انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

  کبل سوات خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی، تعلق افغانستان سے تھا

اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی جبکہ ان کے تابوتوں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ شرکاء نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ بعد ازاں شہداء کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں، جہاں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ بعد ازاں زخمی ہونے والے دو مزید پولیس اہلکار، کانسٹیبل مکرم خان اور کانسٹیبل حسین خان بھی دوران علاج شہید ہوگئے۔ ان کی نماز جنازہ جاوید اقبال شہید پولیس لائن کبل میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ اس جنازے میں آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ، ڈی پی او سوات محمد عمر خان، ایس پی آپریشن غلام صادق خان، ایس پی ہیڈ کوارٹر عطاء اللہ اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔ پولیس کے دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی جبکہ بعد ازاں ان کی میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔

سانحہ پٹن کو 35 سال مکمل، پٹن میں کیا ہوا تھا؟

دریں اثنا ملاکنڈ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں کانسٹیبل خالد خان سکنہ وزیر آباد درگئی اور کانسٹیبل امین اللہ سکنہ جوڑ جاخوں درگئی بھی شامل ہیں۔ دونوں شہداء کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئیں جہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین عمل میں آئی۔ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ واقعے کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہے اور امن دشمن عناصر کو اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

 

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے نہ پولیس کے حوصلے پست کرسکتے ہیں اور نہ ہی عوام کے۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ صوبائی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے دھماکے کے فوراً بعد تمام متعلقہ ڈی ایچ اوز اور محکمہ صحت کے حکام کو ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کبل اور قریبی اسپتالوں میں ہائی الرٹ برقرار رکھنے، تمام طبی عملے کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے، زخمیوں کو فوری علاج فراہم کرنے، خون، ادویات اور دیگر طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر صحت نے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

مانگی ڈیم حملہ کیسے ہوا؟ بلوچستان حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

 

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو نشانہ بنانے والے امن دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنے بہادر پولیس اہلکاروں اور افواج پاکستان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ گورنر نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت بھی کی۔ ادھر پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی کبل دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں جبکہ ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ واقعے کے بعد سوات بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی جبکہ مختلف علاقوں میں سرچ اور کومبنگ آپریشن بھی شروع کیے گئے۔ حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے میں ملوث نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملے سے متعلق مختلف شواہد اکٹھے کرکے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

آن لائن فراڈ، دھوکا دہی میں پنجاب سب سے آگے

 

حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک دل خراش منظر بھی زیر گردش رہا، جس میں بتایا گیا کہ ایک شہید پولیس اہلکار کا موبائل فون مسلسل بج رہا تھا اور اس کی اسکرین پر “ماں جان” لکھا ہوا ظاہر ہو رہا تھا۔ اہل خانہ اپنے پیارے کی خیریت جاننے کی کوشش کرتے رہے، تاہم وہ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کرچکا تھا۔ یہ منظر دیکھنے والوں کی آنکھیں نم ہوگئیں اور سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں، خودکش حملہ آور کی شناخت اور اس کے افغانستان سے تعلق کی تصدیق کے بعد اس کے سہولت کاروں اور رابطہ کاروں تک پہنچنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں، جبکہ دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

 

 

خیبرپختونخوا میں 2,004 انٹیلی جنس آپریشنز، 182 دہشت گرد ہلاک

Next Post
امریکہ میں مقیم ہزاروں تارکینِ وطن کیلئے بری خبر آگئی
Previous Post
آزادکشمیر قانون سازاسمبلی کے انتخابات آج ہوں گے، انتظامات مکمل