پشاور: لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مبینہ غفلت یا نظام کی کمزوری؟ مریض کے واقعے نے ایمرجنسی سروس پر کئی سوالات کھڑے کر دیے، صوبہ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے نے ایمرجنسی سروسز، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ہسپتال کے انتظامی نظام پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد شہری حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے کی رات پشاور سے تعلق رکھنے والے ماجد خان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، جس پر اہل خانہ اور ساتھی انہیں فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی ایمرجنسی لے گئے۔ لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں ہسپتال کے عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ مریض زندگی کی بازی ہار چکا ہے اور اب اس کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
ماجد خان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے متحرک کارکن ہیں۔ ان کی طبیعت بگڑنے کی اطلاع ملتے ہی پارٹی کے مقامی رہنماؤں کو بھی آگاہ کیا گیا، جنہوں نے فوری طور پر متعلقہ منتخب عوامی نمائندوں سے رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پشاور سے منتخب رکن قومی اسمبلی آصف خان بھی ہسپتال پہنچے اور ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد مریض کو دوبارہ ایمرجنسی کے اندر منتقل کیا گیا اور اس کی حالت کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔ ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ طبی عملے نے مریض کی سانسیں بحال کرنے کی کوششیں شروع کیں، جس کے بعد بتایا گیا کہ مریض میں زندگی کی علامات موجود ہیں اور اس کا علاج جاری رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں مریض کا ضروری طبی معائنہ کیا گیا، اسے دل کے علاج کے لیے اسٹنٹ بھی ڈالا گیا اور مناسب طبی نگہداشت فراہم کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت مریض کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور وہ صحت یابی کی جانب گامزن ہے۔
چین میں پولیس نے مردے کو گرفتار کرلیا
واقعے کے دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ہسپتال میں فوری طور پر وینٹی لیٹر دستیاب نہیں تھا، جس پر رکن قومی اسمبلی نے مختلف شعبوں سے رابطے کر کے مریض کے لیے وینٹی لیٹر کا انتظام کرایا۔ تاہم اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ اس واقعے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر مریض کے ساتھ بااثر افراد یا سیاسی نمائندوں کی موجودگی نہ ہوتی تو کیا اسے بھی بروقت وہی طبی سہولیات فراہم کی جاتیں جو بعد میں مہیا کی گئیں؟ یہ سوال صرف ایک مریض یا ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ روزانہ ایمرجنسی میں آنے والے ہزاروں عام شہریوں کے اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ یہاں صوبے کے دور دراز علاقوں سمیت قبائلی اضلاع اور افغانستان سے بھی مریض پہنچتے ہیں۔ ایسے میں ایمرجنسی سروس کا مؤثر، فوری اور یکساں ہونا نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
مانگی ڈیم حملہ کیسے ہوا؟ بلوچستان حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی مریض کے بارے میں حتمی رائے دینے سے قبل تمام طبی معائنے، دل کی دھڑکن، سانس، نبض اور دیگر حیاتیاتی علامات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی مریض کو ابتدائی طور پر مردہ قرار دیا جائے اور بعد میں اس میں زندگی کی علامات ظاہر ہوں تو اس معاملے کی مکمل پیشہ ورانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا تشخیص میں کوئی غلطی ہوئی، رابطے میں کوئی کمی تھی یا کسی اور وجہ سے ایسا تاثر پیدا ہوا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ دعوے درست ہیں تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، کیونکہ ایمرجنسی میں چند لمحوں کی تاخیر بھی مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر شہری، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، سیاسی وابستگی رکھتا ہو یا نہیں، اسے یکساں معیار کی طبی سہولت ملنی چاہیے۔ ماجد خان کے واقعے نے ایک اور اہم سوال بھی جنم دیا ہے کہ کیا ایمرجنسی میں آنے والے تمام مریضوں کے ساتھ یکساں توجہ اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے؟ اگر کسی عام شہری کے ساتھ بھی یہی صورتحال پیش آئے، جس کے پیچھے کوئی بااثر شخصیت موجود نہ ہو، تو کیا اسے بھی اسی رفتار سے علاج فراہم کیا جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عوام جاننا چاہتے ہیں۔
موریطانیہ کے قریب کشتی حادثے میں 143 تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ
طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ملک اور بیرون ملک سے تربیت یافتہ قابل ڈاکٹرز اور ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف جدید ڈگریوں یا بہترین انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ مریض کے ساتھ برتاؤ، بروقت فیصلہ سازی، مؤثر رابطے اور انسانی ہمدردی سے بھی ناپی جاتی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کرائی جائے تاکہ اگر کسی قسم کی غفلت، غلط تشخیص یا انتظامی کمزوری سامنے آئے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کے مطابق صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ہر فرد کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ انسانیت، احساسِ ذمہ داری، بروقت فیصلہ سازی اور مریض کی جان کو اولین ترجیح دینا بنیادی تقاضا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی کامیاب اور قابل اعتماد طبی نظام کی بنیاد بنتے ہیں۔
آن لائن فراڈ، دھوکا دہی میں پنجاب سب سے آگے
پاکستان میں جعلی بلڈ کینسر ادویات فروخت ہونے کا انکشاف

