یورپی اتحاد نے پاکستان کیساتھ اپنی شراکت داری کے تحت 2027تک 40کروڑ یورو کی امدادی رقم اور مشترکہ مالی معاونت فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ یہ رقم موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے، شہری آبی خدمات، تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور طرزِ حکمرانی میں اصلاحات سمیت مختلف منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔یورپی کمیشن کی پاکستان سے متعلق 2023 تا 2025 کی تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق تعاون کا یہ پروگرام تین بنیادی ترجیحات پر مشتمل ہے جن میں ماحول دوست اور جامع معاشی ترقی، انسانی وسائل کی ترقی اور قانون کی حکمرانی و انسانی حقوق سمیت بہتر طرزِ حکمرانی شامل ہیں۔
رپورٹ میں برآمدات کے حوالے سے کیا دعویٰ کیا گیا؟
رپورٹ کے مطابق یہ مالی معاونت 2021 سے 2027 کے عرصے کے لیے مختص ہے اور یورپی منڈی تک پاکستانی برآمدات کے لیے رعایتی تجارتی سہولت سے الگ ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی منصوبوں کے ذریعے ہجرت، خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والی سماجی تنظیموں کی بھی معاونت کی جائے گی۔یورپی اتحاد نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی عالمی رابطہ کاری کی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان میں پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے جیسے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔موسمیاتی تعاون اس پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ رپورٹ میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیلاب کے بعد دیہی معیشت کی بحالی کے منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے جہاں شدید موسمی حالات کے باعث بارہا روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ ایک کھرب سے تجاوز کرنے کا امکان
یورپی اتحاد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ماحول دوست کاروباری طریقے اپنانے میں مدد دینے کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری ماحول سے متعلق منصوبے کی بھی معاونت کر رہا ہے۔دیگر منصوبوں میں بلوچستان کے آبی وسائل پروگرام کی بحالی اور گلگت بلتستان و خیبر پختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے توانائی سے متعلق منصوبہ شامل ہے۔اسی طرح گلگت بلتستان میں دیہی ترقی اور موسمیاتی تحفظ کا منصوبہ بھی جاری ہے جس کا مقصد دیہی آبادی کی معاشی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے اثرات سے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
دو سو یونٹ کا بل 18ہزار 500 روپے؟سوالات کھڑے ہوگئے
پنجاب میں فیصل آباد اور لاہور کے لیے شہری پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور ان سے متعلق انتظامی نظام کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی یورپی تعاون کا حصہ ہے جس سے بڑے شہروں میں پانی کے انتظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔رپورٹ کے مطابق دیہی سندھ میں غربت کے خاتمے اور جامع ترقی کے لیے 5 کروڑ یورو کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کی مالی مالیت الگ سے بیان کی گئی ہے۔موسمیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے علاوہ پاکستان اور یورپی اتحاد تعلیم، روزگار اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں بھی مشترکہ منصوبے چلا رہے ہیں۔ان میں بلوچستان میں ایک بڑا تعلیمی منصوبہ اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا پروگرام شامل ہے جس کا مقصد نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا اور باوقار روزگار کو فروغ دینا ہے۔دیگر منصوبوں کے تحت سندھ میں سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے
روشن ڈیجیٹل اکائونٹس میں رقوم 13.365 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
جبکہ خواتین کی قیادت اور شمولیت، پارلیمانی ترقی اور سماجی تنظیموں کے تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔طرزِ حکمرانی کے شعبے میں قومی انسانی حقوق پروگرام کے ذریعے وفاقی وزارتِ انسانی حقوق، قومی انسانی حقوق کمیشن اور متعلقہ صوبائی اداروں کی معاونت کی جا رہی ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع پروگرام بھی جاری ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 40 کروڑ یورو کی یہ مالی معاونت پاکستان کے ساتھ ترقیاتی تعاون کا حصہ ہے جس کا مقصد رعایتی تجارتی سہولتوں سے وابستہ وسیع تر ترقیاتی اہداف کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی نئی تجارتی رعایت یا ایک ہی منصوبے کے لیے رقم مختص کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپی اتحاد اور پاکستان کی شراکت داری صرف برآمدی سہولتوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں آبی تحفظ، موسمیاتی بحالی، مہارتوں کی ترقی، سماجی تحفظ اور مختلف صوبوں میں ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔
جون میں گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ

