عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے پاکستان میں جعلی بلڈ کینسر ادویات کی موجودگی کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان(ڈریپ)کو خبردار کر دیا۔میڈیارپورٹ کیمطابق ، ڈبلیو ایچ او نے ڈریپ سے رابطہ کرتے ہوئے جعلی کینسر ادویات سے متعلق میڈیکل پراڈکٹ الرٹس بھجوائے، جس پر ڈریپ نے جعلی ادویات کے خلاف ریپڈ الرٹ جاری کر دیا۔ ڈریپ کے مطابق معروف برانڈز کے نام پر تیار کی گئی جعلی ڈرزالیکس انجکشن اور جاکاوی ٹیبلٹس سامنے آئی ہیں، ڈریپ نے ڈرزالیکس انجکشن 400 ملی گرام کے بیچ ملی گرام کے بیچ جبکہ جاکاوی ٹیبلٹ 20 ملی گرام کے بیچ، 15 ملی گرام کے بیچ اور 10 ملی گرام کے بیچ کو جعلی قرار دے دیا ہے۔
امریکی فوج کے ایران پر مسلسل نویں رات حملے ،میزائل و ڈرون لانچ سائٹس تباہ
ڈریپ کے مطابق مذکورہ ادویات بلڈ کینسر کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں، متاثرہ بیچز کو سیل کرنے اور ان کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جعلی ڈرزالیکس انجکشن کے متاثرہ بیچز مالدیپ اور میکسیکو میں ٹریس ہوئے، جبکہ پیکنگ پر جانسن کیلاگ بیلجیئم کا پتہ درج تھا، کمپنی نے متاثرہ بیچز کو جعلی قرار دیا ہے۔
طالبان حکومت پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں سہولت کار ہے، پاکستان
اسی طرح جعلی جاکاوی ٹیبلٹس کی پیکنگ پر نووارٹس فارما سوئٹزرلینڈ کا پتہ درج تھا، تاہم کمپنی نے بھی متاثرہ بیچز کو جعلی قرار دیا، ڈریپ کے مطابق جعلی ادویات ٹیسٹنگ معیار پر پورا نہیں اتریں، سیمپلز میں خام مال کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ ڈرزالیکس انجکشن کے ایک سیمپل میں غیر متعلقہ ذرات بھی پائے گئے۔ ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ادویات کی افادیت غیر واضح ہے اور ان کا استعمال جان لیوا ہو سکتا ہے، ڈریپ نے ریگولیٹری فورس اور صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹس کو نگرانی بڑھانے جبکہ ڈسٹری بیوٹرز اور میڈیکل اسٹورز کو جعلی کینسر ادویات کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کر دی ہے۔
بی فار یو متاثرین 1 سال بعد بھی نیب سے رقوم کی واپسی کے منتظر

