خیبرپختونخوا پولیس نے رواں سال کے پہلے 6ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ جس کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔سینٹرل پولیس آفس خیبرپختونخوا میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس ذوالفقار حمید کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس منعقد ہوا۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 4انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ جس میں 182 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 504 کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے 14اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران پولیس پر 294 حملے کیے گئے۔ تاہم موثر حکمت عملی کے ذریعے 161 حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے دہشت گردوں کے 341 ڈرون حملے بھی ناکام بنائے گئے۔ جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پولیس کے یو اے وی (ڈرون)ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا۔مختلف کارروائیوں کے دوران 2 خودکش جیکٹس، 1771 کلوگرام بارودی مواد اور دیگر دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران 122 پولیس افسران اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 10 ہزار 718 ملزمان گرفتار کیے گئے۔

چھ ماہ میں سی ٹی ڈی نے کتنے آپریشن کیے؟
جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں 10 ہزار 173 اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے گئے آپریشنز میں 10 ہزار 540 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 8 ہزار 125 افغان باشندوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور خدمات کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ملک دشمن عناصر اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور امن میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔آئی جی پولیس نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کے 50 ہزار اہلکاروں نے بہترین انداز میں سیکیورٹی فرائض سرانجام دے کر پرامن ماحول یقینی بنایا۔
ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی مدد کرنے والا ہر ملک نشانے پر ہوگا
انہوں نے ہدایت کی کہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی، ملک میں قیام امن اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پولیس افسران اور جوانوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان شہدا کے خون سے خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن آئیگا۔ انہوں نے تقریب سےخطاب میں کہا کہ شہدا کے اہلخانہ اور بچوں کو حال ہی میں پلاٹ فراہمی سمیت تمام تر مراعات دینے کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے شہدا پیکج شہدا کی فیملیز کا حق ہے جس پر کسی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
رہائش کے لیے دنیا کا بہترین شہر کون سا ہے؟ کراچی کا پھر آخری نمبر
انہوں نے محرم الحرام کے دوران مثالی امن قائم رکھنے پر خیبرپختونخوا پولیس کے تمام افسران اور جوانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی دن رات ڈیوٹی، بہترین حکمت عملی اور محنت کے باعث دہشتگرد محرم الحرام کے دوران امن و عامہ خراب کرنے میں ناکام رہے جس پر پولیس کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔

