Skip to main contentSkip to footer

اپر اور لوئر چترال میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام شدید متاثر

اپر اور لوئر چترال میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام شدید متاثر

یونیورسل سروس فنڈ کی انتظامیہ نے خیبر پختونخوا کے اضلاع بالائی اور زیریں چترال کے دورے کے دوران انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں کے نظام میں سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ، بار بار فائبر کیبلز کا کٹ جانا اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان علاقے میں مواصلاتی خدمات کے معیار کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔فنڈ کی ٹیم نے 4 سے 12 جولائی تک سینیٹ کی کم ترقی یافتہ علاقوں سے متعلق قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر چترال کا تفصیلی دورہ کیا۔

 

اس دوران انجینئرز، فیلڈ آپریشنز کے اہلکاروں اور خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے نمائندوں نے مختلف مواصلاتی مقامات کا معائنہ کیا اور نظام کی کارکردگی کا عملی جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق چترال کا پہاڑی جغرافیہ قابلِ اعتماد انٹرنیٹ فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ متعدد مواصلاتی ٹاور بلند پہاڑوں پر قائم ہیں جہاں کچے اور غیر ہموار راستوں سے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد ہی پہنچا جا سکتا ہے جس کے باعث دیکھ بھال اور ہنگامی مرمت انتہائی مشکل اور وقت طلب عمل بن چکی ہے۔رپورٹ میں مرکزی رابطہ نظام کی کمزوری کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق فائبر آپٹک مرکزی رابطہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی بنیاد ہے، مگر اس کی کمزور اور غیر محفوظ ساخت کے باعث ضلع بھر میں براڈبینڈ خدمات کے معیار اور تسلسل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جون میں گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ

 

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران فائبر کیبلز کٹنے کے سو سے زائد واقعات پیش آئے، جن میں سے تیس سے زیادہ صرف گزشتہ تین ماہ میں ریکارڈ کیے گئے۔ دورے کے دوران بھی فائبر کیبل کٹنے سے ستر سے زائد مواصلاتی مقامات پر آٹھ گھنٹے سے زیادہ عرصے تک خدمات معطل رہیں، جس سے نظام کی نازک صورتحال واضح ہوئی۔سڑکوں کی تعمیراتی سرگرمیوں کو بھی بار بار سروس متاثر ہونے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ مختلف مقامات پر کھدائی کے دوران زیرِ زمین فائبر کیبلز کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض علاقوں میں کیبلز مناسب طریقے سے زمین میں دبانے کے بجائے سطح پر بچھی ہوئی پائی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ متبادل رابطہ نظام موجود نہ ہونے کے باعث ایک ہی مقام پر کیبل کٹنے سے متعدد مواصلاتی مراکز مکمل طور پر رابطے سے محروم ہو جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مواصلاتی ڈھانچے کی دیکھ بھال بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ کئی مقامات تک پہنچنے کے لیے عارضی لکڑی کے پلوں کے ذریعے دریا عبور کرنا پڑتا ہے

مذاکرات ناکام، ملک بھر میں آج سے پیٹرول پمپ بند

 

جو تکنیکی عملے کے لیے حفاظتی خطرات پیدا کرتا ہے۔ متعدد علاقوں میں آخری حصے تک گاڑی کی رسائی ممکن نہیں، جس کے باعث انجینئرز کو مرمت کے آلات اور ضروری سامان پیدل پہاڑوں پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔مقامی آبادی اور زمین تک رسائی سے متعلق مسائل بھی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں مقامی افراد مواصلاتی مراکز تک جانے والے راستوں پر کنٹرول رکھتے ہیں اور بیک اپ بجلی کے لیے درکار ڈیزل پہنچانے والوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں، جس کے باعث ایندھن کی فراہمی میں تاخیر اور طویل دورانیے کی سروس بندشیں سامنے آتی ہیں۔ان تمام مشکلات کے باوجود یونیورسل سروس فنڈ نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران چترال میں مواصلاتی ڈھانچے پر اپنی نمایاں سرمایہ کاری کو اجاگر کیا۔ دیہی ٹیلی مواصلات، برقی خدمات، پائیدار ترقی کے لیے براڈبینڈ منصوبوں اور فائبر آپٹک کیبل منصوبوں کے ذریعے سینکڑوں محروم دیہات کو صوتی اور براڈبینڈ خدمات سے منسلک کیا گیا

ملک میں بکریاں 9کروڑ 60 لاکھ ہوگئیں، مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

 

جبکہ ضلع بھر میں وسیع فائبر نیٹ ورک بچھایا گیا۔دورے کے بعد فنڈ کی انتظامیہ نے اپنے خدمات فراہم کرنے والے ادارے، جو پہلے ٹیلی نار اور اب یوفون کا حصہ ہے، کے ساتھ اجلاس کیا تاکہ انتظامی خامیوں کو دور کرکے خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ ادارہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ سرکاری محکموں کے تعاون سے فائبر کیبلز کٹنے کے بار بار پیش آنے والے واقعات، سڑکوں کی تعمیر کے دوران بہتر رابطہ کاری، زمین تک رسائی کے مسائل کے حل اور بالائی و زیریں چترال کے عوام کے لیے پائیدار مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔

 

دو سو یونٹ کا بل 18ہزار 500 روپے؟سوالات کھڑے ہوگئے

Next Post
امریکا نے نئی عالمی ویزا پالیسی کا اعلان کر دیا، مزید پابندیاں نافذ
Previous Post
فلم دی ماسک کے ڈائرکٹر چک رسل انتقال کر گئے