حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور حکومتی نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہڑتال شروع کردی۔ ہڑتال کے باعث مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی متاثر ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے گزشتہ رات پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، جس پر پیٹرولیم ڈیلرز نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ تاہم حکومت اور ڈیلرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اختلافات برقرار رہے اور کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے بعد پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ارکان کو پیٹرول پمپ بند رکھنے کی ہدایت جاری کردی۔

ہڑتال کب تک جاری رہے گی؟
ہڑتال کے اعلان کے بعد اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، حیدرآباد، سکھر سمیت ملک کے مختلف چھوٹے اور بڑے شہروں میں متعدد پیٹرول پمپ بند ہوگئے، جس کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد کو ایندھن کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مقامات پر پمپ بند ہونے سے قبل شہریوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھنے میں آئیں، جہاں لوگ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں ایندھن بھروانے کی کوشش کرتے رہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے اور دیگر معاملات پر ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس کے باعث احتجاجاً ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات پر مثبت پیش رفت نہیں ہوتی، ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔
دو سو یونٹ کا بل 18ہزار 500 روپے؟سوالات کھڑے ہوگئے
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کو ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مسئلے کے حل کے لیے ڈیلرز سے رابطے جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی خواہاں ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر، تجارتی سرگرمیوں اور روزمرہ سفر کرنے والے افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں نے حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ ایندھن کی فراہمی معمول پر آ سکے۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی

