صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبرپختونخوا میں 19 جولائی سے جاری موسلادھار بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مختلف اضلاع میں پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں اب تک 16 افراد جاں بحق جبکہ 17 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 مرد، 6 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث متعدد علاقوں میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 28 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 22 مکانات کو جزوی جبکہ 6 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی کے لیے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ نقصانات کے تخمینے اور متاثرہ علاقوں کا سروے بھی جاری ہے اور جیسے جیسے مزید معلومات موصول ہوں گی، اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
مزید کن علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کا امکان ہے؟
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلش فلڈ سے پشاور، نوشہرہ، ضلع خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، اپر دیر، لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں بعض مقامات پر نشیبی علاقے زیر آب آئے جبکہ کئی دیہات اور رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔ بعض علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث آمدورفت میں بھی مشکلات پیش آئیں، تاہم متعلقہ ادارے راستوں کی بحالی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے، ملبہ ہٹانے اور ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ مختلف اضلاع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
دو سو یونٹ کا بل 18ہزار 500 روپے؟سوالات کھڑے ہوگئے
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو فوری امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ امدادی سامان میں خیمے، کمبل، خوراک، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور متاثرہ افراد کو بروقت معاونت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ضلع میں امدادی کاموں میں غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مقامی سطح پر خطرناک مقامات کی نشاندہی کریں اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ پی ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس وقت صوبے کے تمام بڑے دریاؤں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور کسی بڑے سیلابی خطرے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم مسلسل بارشوں کے باعث برساتی نالوں میں اچانک طغیانی کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے متعلقہ اداروں کو مسلسل نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
طوفانی بارشیں، بادل پھٹنے سے مختلف علاقوں میں سیلاب ،14افراد جاں بحق
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے حوالے سے پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں تیز اور وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران مختلف اضلاع میں موسلادھار بارش، آندھی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ برقرار رہے گا، جس کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ متعلقہ اداروں کو مشینری، ریسکیو ٹیموں اور دیگر ضروری وسائل ہر وقت تیار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی حالات کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برساتی نالوں، دریا کناروں اور دیگر حساس مقامات سے دور رہیں جبکہ سیاح بالخصوص حساس سیاحتی علاقوں کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ ادارے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری ایڈوائزری پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے تعاون کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
پاکستان میں جعلی بلڈ کینسر ادویات فروخت ہونے کا انکشاف
ترجمان پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔ تمام اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔ ترجمان نے عوام سے کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، شکایت یا معلومات کے لیے پی ڈی ایم اے کی مفت ہیلپ لائن 1700 پر فوری رابطہ کریں تاکہ بروقت امداد اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ پی ڈی ایم اے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے انہیں ضروری سہولیات اور امداد فراہم نہیں کر دی جاتی۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی(این ڈی ایم اے)نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کیلئے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ۔ تفصیل کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں نے جل تھل ایک کر دیا۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا،سٹرکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش نشتر ٹائو ن میں 42.2 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ ایئرپورٹ پر 30، واسا ہیڈ آفس گلبرگ میں 2.2، اپر مال میں 12.6، جوہر ٹان میں 20.6، ڈیفنس روڈ پر 3.4، اور کاہنہ میں 6.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گوجرانوالہ میں تیزبارش کے باعث جی ٹی روڈ،سیالکوٹ روڈ اور گوندلانوالہ روڈ سمیت متعددشاہراہوں اور نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا، ڈسکہ میں بھی تیزبارش سیموسم خوشگوار ہوگیا اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔حافظ آباداورگردونواح میں مسلسل موسلادھاربارش کے باعث سڑکیں،گلیاں اور محلے پانی میں ڈوب گئے
جس سے معمولاتِ زندگی متاثرہوئے۔بھیرہ اورگردونواح میں موسلادھار بارش کیباعث متعدد نشیبی علاقے زیرِآب آگئے،جبکہ کلرکہار میں ہلکی اورتیز بارش کے سلسلے نے گرمی کا زور توڑ دیا،کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور بارش سے جہاں موسم خوشگوار ہوا وہیں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہا، جہاں نوکنڈی میں درجہ حرارت 47، سبی میں 45 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، تاہم قلات، خضدار، ژوب، لورالائی اور بارکھان سمیت چند علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارشوں سے حادثات میں 12 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 5 بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہے۔نقصانات پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم میں ہوئے۔گزشتہ روز مردان میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کی ماں اور بہن شدید زخمی ہوئیں، جبکہ لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ دوسری طرف وادی نیلم میں کلاڈ برسٹ کے باعث آنے والی طغیانی نے 25 دکانیں، ایک اسکول اور چھ مکانات تباہ کر دئیے جس سے تقریبا 25 ہزار کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔شدید بارشوں کے باعث نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک اور صاحبزادہ ٹان میں فلیش فلڈ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں محصور 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
اس کے علاوہ آدم زئی شیٹ گلاس فیکٹری کے قریب پھنسے مزید چھ افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین نے تمام کارروائی کی خود نگرانی کی، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اعجاز اختر بھی موقع پر موجود رہے۔ہزارہ ڈویژن اور کاغان ویلی میں بھی طوفانی بارشوں سے تین رابطہ پل بہہ گئے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو چکے ہیں جنہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔ایبٹ آباد میں شاہراہِ ریشم پانی جمع ہونے سے جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ضلع ہری پور میں دوڑ ندی میں 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہری پور انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ برساتی نالوں کے اطراف موجود تمام افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔ اسلام آباد، جہلم اور نوشہرہ میں بھی بارش ہوئی۔ اسلام آباد کے ندی نالوں میں بھی طغیانی کی صورتحال ہے۔ محکمہ موسمیات نے 24جولائی تک موسلادھاربارشوں کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ کو بارش سے ممکنہ نقصانات سے بچنے کیلئے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ایم ڈی واسا غفران احمد سمیت دیگر افسران و ملازمین نکاس اب کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔ دوسری جانب این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کر دیا ۔این ڈی ایم اے کے مطابق 25 جولائی تک گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس سے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گر سکتے ہیں، جبکہ اپر اور لوئر چترال کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ادھرگلگت بلتستان کے ضلع روندو میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی سیلابی ریلے سے طورمک اور دوسنہ کے درمیان واقع ملاں پل بہہ گیا، جبکہ متعدد علاقوں میں آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔یہی صورتحال روندو میں سیلابی ریلے کا سبب بنی، جس سے رابطہ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
دریں اثنا فلڈ فورسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں چشمہ سے کوٹری، جہلم، راوی، ستلج اور دریائے کابل سمیت دریائے چناب اور راوی کے اہم ملحقہ نالوں میں بہائو معمول کے مطابق ہیں۔فلڈ فورسٹنگ ڈویژن نے بتایا کہ تربیلا ڈیم 61 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 41 فیصد بھرے ہوئے ہیں، گزشتہ سال اسی روز تربیلا ڈیم 80 فیصد اور منگلا ڈیم 51 فیصد بھرے ہوئے تھے۔خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رات بھر گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث متعدد شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بجلی کا طویل بریک ڈان ہوگیا جبکہ ندی نالوں میں طغیانی سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔پشاور میں رات بھر ہونے والی بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، جو 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود کئی علاقوں میں بحال نہ ہوسکی۔گلبہار، کاکشال، ریگی، ملازئی، یونیورسٹی ٹائون، زریاب کالونی، کوہاٹ روڈ، دوران پور اور دیگر علاقوں میں بجلی بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش کے باعث سڑکیں اور گلیاں زیر آب آگئیں جبکہ نکاسی آب کے نالے بھی ابل پڑے۔ محکمہ موسمیات نے 23 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔تحصیل رستم اور گردونواح میں بھی گزشتہ شب سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا اور ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جبکہ بارش شروع ہوتے ہی کئی علاقوں میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔ رسالپور اور ملحقہ علاقوں میں تیز ہواں کے ساتھ وقفے وقفے سے موسلادھار بارش ہوئی، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آگئی۔دیر لوئر میں بھی گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور دریائے پنجکوڑہ میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔شدید بارشوں سے بالائی علاقوں کی متعدد رابطہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ بجلی کے تمام فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔دوسری جانب نوشہرہ میں بارشی سیلاب کے دوران جہانگیرہ اسٹاپ کے قریب فضل بارگین کے مقام پر 14 گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں۔اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 نوشہرہ کی ڈیزاسٹر ٹیمیں فوری طور پر ریکوری وہیکل اور ضروری آلات کے ساتھ موقع پر پہنچیں اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ ریسکیو 1122 نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملک اشفاق حسین کے مطابق ریسکیو ٹیمیں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
بھارت میں 7 آدم خور شیروں نے تباہی مچادی، درجنوں افراد ہلاک

