پاکستان میں مویشیوں کی تعداد میں گزشتہ اٹھارہ برس کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق بکریوں کی تعداد بڑھ کر تقریبا 9 کروڑ 58 لاکھ جبکہ گائیوں کی تعداد 5 کروڑ 58 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جس سے دیہی معیشت، دودھ کی پیداوار اور غذائی تحفظ میں لائیو اسٹاک کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات کی زرعی مردم شماری 2024 کی قومی رپورٹ، جو ویلتھ پاکستان کو موصول ہوئی، کے مطابق 2006 میں بکریوں کی تعداد 5 کروڑ 37 لاکھ 87 ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر 9 کروڑ 58 لاکھ 27 ہزار ہو گئی، یعنی 78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں گائیوں کی تعداد 2 کروڑ 95 لاکھ 59 ہزار سے بڑھ کر 5 کروڑ 58 لاکھ 63 ہزار ہوگئی جو 89 فیصد اضافہ ہے۔
ملک میں بھینسوں کی تعداد کتنی ہے؟
رپورٹ کے مطابق بھینسوں کی تعداد 75 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 73 لاکھ 35 ہزار سے بڑھ کر 4 کروڑ 77 لاکھ 38 ہزار تک پہنچ گئی جبکہ بھیڑوں کی تعداد 68 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 64 لاکھ 88 ہزار سے بڑھ کر 4 کروڑ 45 لاکھ 85 ہزار ہوگئی۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مویشی پالنا اب بھی دیہی معیشت کا بنیادی ستون ہے، خصوصا ان چھوٹے کسانوں اور دیہی خاندانوں کے لیے جو دودھ، گوشت اور جانوروں کی فروخت سے روزگار حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں دودھ دینے والے جانوروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ دودھ دینے والی گائیوں کی تعداد 140 فیصد بڑھ کر 87 لاکھ 20 ہزار سے 2 کروڑ 9 لاکھ 31 ہزار ہوگئی جبکہ دودھ دینے والی بھینسوں کی تعداد 111 فیصد اضافے کے ساتھ 1 کروڑ 2 لاکھ 22 ہزار سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ 64 ہزار تک پہنچ گئی۔
موبائل بینکنگ ایپس استعمال کرنیوالے صارفین کی تعداد 13.7کروڑ ہوگئی
یہ رجحان دودھ کی پیداوار، گھریلو غذائیت اور دیہی آمدنی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق تین سال یا اس سے زیادہ عمر کی گائیوں کی تعداد میں 112 فیصد اور اسی عمر کی مادہ بھینسوں میں 92 فیصد اضافہ ہواجبکہ تین سال سے کم عمر گائیوں کی تعداد میں 60 فیصد اور بھینسوں میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چھوٹے مویشیوں میں ایک سال یا اس سے زائد عمر کے نر بکرے 169 فیصد جبکہ مادہ بکریاں 88 فیصد بڑھیں۔ اسی طرح ایک سال یا اس سے زائد عمر کے نر بھیڑ 179 فیصد اور مادہ بھیڑیں 63 فیصد زیادہ ہو گئیں، جو گوشت کی پیداوار، افزائش نسل اور گھریلو سطح پر مویشی پالنے کے شعبے میں وسعت کی نشاندہی کرتا ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب کئی اقسام کے مویشیوں میں سرفہرست رہا۔
موبائل فون سستے ہوگئے، درآمدپر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20فیصد کمی
ملک کی 48.28 فیصد گائیں، 61.92 فیصد بھینسیں، 32.67 فیصد بکریاں، 45.42 فیصد گھوڑے، 32.54 فیصد خچر اور 49.05 فیصد گدھے پنجاب میں موجود ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان میں 42.20 فیصد بھیڑیں اور 51.06 فیصد اونٹ پائے جاتے ہیں جو ملک میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق بوجھ ڈھونے والے جانوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اونٹوں کی تعداد 64 فیصد بڑھ کر 9 لاکھ 20 ہزار 868 سے 15 لاکھ 11 ہزار ہو گئی، گھوڑوں کی تعداد 61 فیصد اضافے سے 5 لاکھ 53 ہزار 256، خچروں کی تعداد 90 فیصد اضافے سے 2 لاکھ 96 ہزار 135 جبکہ گدھوں کی تعداد 15 فیصد اضافے سے 48 لاکھ 99 ہزار تک پہنچ گئی۔
پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46,275 میگاواٹ تک پہنچ گئی
رپورٹ کے مطابق مویشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا براہ راست اثر دودھ اور گوشت کی فراہمی، دیہی روزگار، چارے کی طلب، ویٹرنری خدمات اور جانوروں کی صحت کے نظام پر پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی بیماریوں پر قابو پانے، بہتر خوراک، نسل کی بہتری اور منڈیوں تک رسائی کے لیے مزید مثر منصوبہ بندی کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں لائیو اسٹاک کو ثانوی حیثیت دینے کے بجائے اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر پیداواری صلاحیت، ویلیو ایڈیشن اور دیہی آمدنی کے تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
گدھے کے گوشت اور کھالوں کی چین کو برآمدات بڑھانے کی تیاری

