پاکستان میں درآمدات کی ساخت میں مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف کے دوران نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں محصولات میں نرمی اور اصلاحات کے نتیجے میں مشینری، دھاتوں اور نقل و حمل سے متعلق اشیا کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ انکشاف پاکستان کے مرکزی بینک کی ششماہی رپورٹ 2025-26 میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کی مجموعی درآمدات میں 12.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ اندرونی طلب میں بہتری اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ رہا۔ قومی محصولات پالیسی 2025-30 کے تحت کیے گئے اقدامات کے بعد درآمدی ڈھانچے میں بھی واضح تبدیلیاں سامنے آئیں۔مرکزی بینک نے بتایا کہ جن شعبوں میں محصولات کی شرح متعدد اشیا پر کم کی گئی، وہاں درآمدات میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا۔ ان شعبوں میں خاص طور پر مشینری، دھاتیں اور نقل و حمل سے متعلق سامان شامل ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے سرحد چیمبر میں ‘بزنس فیسیلی ٹیشن سینٹر’ کا افتتاح کردیا
رپورٹ کے مطابق معاشی حالات میں بہتری کے باعث کاروباری اداروں نے مشینری اور خام مال کی خریداری بڑھائی، جس سے صنعتی طلب میں اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے نصف میں صنعتی شعبے کی نمو 8.1 فیصد رہی، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار تین برس کی مسلسل گراوٹ کے بعد 4.8 فیصد بڑھ گئی۔مرکزی بینک نے گاڑیوں، ٹیکسٹائل، تیل سے تیار ہونے والی مصنوعات اور تعمیرات سے وابستہ شعبوں میں پیداوار بڑھنے کو صنعتی درآمدات میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق مشینری کی درآمدات مستقبل کی پیداواری صلاحیت کا اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں کیونکہ یہ سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں کمی، شرح سود میں مسلسل کمی اور مجموعی معاشی استحکام نے صنعتی سامان اور پیداواری آلات کی طلب کو دوبارہ متحرک کیا۔ مالی سال کے پہلے نصف میں اوسط مہنگائی کی شرح 5.2 فیصد رہی جو ایک سال قبل 7.2 فیصد تھی، جبکہ جون 2024 سے دسمبر 2025 کے دوران شرح سود میں مجموعی طور پر 11.5 فیصد کمی کی گئی۔مرکزی بینک کے مطابق خام مال کی لاگت میں کمی اور زرِ مبادلہ کی نسبتا مستحکم صورتحال نے بھی درآمدات کی حوصلہ افزائی کی۔ اس عرصے کے دوران پاکستانی کرنسی کی قدر میں 1.3 فیصد بہتری آئی، جس سے درآمدی مہنگائی میں کمی اور بیرون ملک سے سامان خریدنے والے کاروباری اداروں کے لیے پیش گوئی کی صلاحیت بہتر ہوئی۔
امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان، سونے کی قیمت 2.7فیصد گر گئی
تاہم درآمدات میں اضافے کے باعث بیرونی کھاتوں پر دبا بھی بڑھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے نصف میں تجارتی خسارہ تقریبا 36 فیصد بڑھ گیا کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی، جبکہ برآمدات میں اسی عرصے کے دوران 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔مرکزی بینک نے بتایا کہ چاول کی برآمدات میں کمی، عالمی منڈی میں اشیا کی قیمتوں میں گراوٹ اور علاقائی تجارتی رکاوٹیں برآمدات میں کمی کی بڑی وجوہات رہیں۔ اس کے باوجود رپورٹ میں کہا گیا کہ مشینری اور صنعتی سامان کی درآمدات میں اضافہ محض کھپت میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ بہتر معاشی سرگرمیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ماہرین پیداواری درآمدات، جیسے مشینری اور صنعتی آلات، اور غیر پیداواری درآمدات میں فرق کرتے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق اگر درآمد شدہ مشینری پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدی صنعتوں کی ترقی کا باعث بنتی ہے تو محصولات میں نرمی صنعتی مسابقت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان کا صنعتی شعبہ اب بھی کم پیداواری صلاحیت، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور جدید ٹیکنالوجی کے محدود استعمال جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے۔ مزید برآں مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے باعث درآمدات کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں، مال برداری کے اخراجات اور بیمہ کی لاگت آئندہ مہینوں میں درآمدی بل مزید بڑھا سکتی ہے۔ خام مال اور مشینری کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں صنعتی پیداوار کو متاثر کرنے کے ساتھ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تاخیر کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔مالی سال 2025-26 کے لیے مرکزی بینک نے درآمدات کا حجم 63.5 سے 64.5 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے، جبکہ سرکاری ہدف 65.2 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے اختتام پر زور دیا گیا کہ صنعتی درآمدات میں پائیدار اضافہ برقرار رکھنے کے لیے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ، شرح مبادلہ کا استحکام اور برآمدات کی بہتر کارکردگی ناگزیر ہے تاکہ بیرونی کھاتوں میں دوبارہ عدم توازن پیدا نہ ہو۔
جی 20 ممالک کا پاکستان کے قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کے حوالے سے متعلق انتباہ
خلیجی بحران سے پاکستان کی لیبر مارکیٹ کو دوہرا دھچکا لگنے کا خطرہ

