ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں اور عادات شامل ہوتی ہیں جو بظاہر نقصان دہ محسوس نہیں ہوتیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے گھٹنوں کو اندر ہی اندر کمزور کر دیتی ہیں۔گھٹنوں پر روزانہ جسم کا زیادہ تر وزن ہوتا ہے اور یہی جوڑ ہمیں چلنے، سیڑھیاں چڑھنے، بیٹھنے اور دوبارہ کھڑے ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ گھٹنوں کا درد یا تکلیف صرف بڑھتی ہوئی عمر یا کسی چوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن آرتھوپیڈکس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹھنے، چلنے اور ورزش کرنے کے غلط طریقے بھی گھٹنوں کے جوڑوں پر ناقابلِ تلافی دبا کا باعث بن سکتے ہیں۔دن کا زیادہ حصہ مسلسل بیٹھ کر گزارنے سے رانوں اور کولہوں کے وہ پٹھے کمزور ہوسکتے ہیں جو گھٹنوں کو سہارا دیتے ہیں۔ خاص طور پر زیادہ دیر تک گھٹنے موڑ کر بیٹھنے سے اٹھتے وقت اکڑن محسوس ہوسکتی ہے۔اس لیے کوشش کریں کہ کئی گھنٹے مسلسل بیٹھنے کے بجائے ہر چالیس منٹ بعد اٹھ کر تھوڑی چہل قدمی کر لی جائے یا ٹانگوں کو ہلکا پھلکا حرکت دی جائے۔
کوہاٹ میں ڈینگی کے وار تیز، ایک ہفتے میں 163نئے کیسزسامنے آگئے
سیڑھیاں چڑھنا جسمانی سرگرمی کا ایک اچھا ذریعہ ہے، لیکن بغیر مناسب طاقت یا تیاری کے بار بار کئی منزلیں چڑھنے سے گھٹنوں پر دبا بڑھ سکتا ہے۔ جن افراد کو پہلے ہی گھٹنوں میں درد یا ٹانگوں کے پٹھوں میں کمزوری ہو، انہیں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔سیڑھیاں چڑھتے یا اترتے وقت جلد بازی کے بجائے جسم کی پوزیشن درست رکھنے اور اپنی طاقت بتدریج بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ورزش سے پہلے جسم کو گرمانا یا وارم اپ نہ کرنا بھی ایک عام سائنسی غفلت ہے۔ اچانک تیز ورزش شروع کرنا، خاص طور پر دوڑنے، چھلانگ لگانے یا اسکواٹس جیسی ورزشوں میں، پٹھوں اور جوڑوں پر غیر ضروری دبائو ڈال سکتا ہے۔ورزش سے پہلے چند منٹ ہلکی حرکات کرنے سے جسم کو سخت ورزش کے لیے تیار ہونے میں مدد ملتی ہے۔جس طرح ضرورت سے زیادہ ورزش نقصان دہ ہوسکتی ہے، اسی طرح مکمل طور پر جسمانی سرگرمی سے دور رہنا بھی گھٹنوں کے لیے اچھا نہیں۔ کولہوں اور رانوں کے مضبوط پٹھے گھٹنوں کو سہارا دینے میں مدد کرتے ہیں۔معمولی تبدیلیاں اپنا کر گھٹنوں کی حرکت اور مجموعی جوڑوں کی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سلاخوں کے پیچھے مہارت، ڈاکٹر یاسمین راشد کی کشیدہ کاری کے چرچے

