Skip to main contentSkip to footer

کوہاٹ میں ڈینگی کے وار تیز، ایک ہفتے میں 163نئے کیسزسامنے آگئے

کوہاٹ میں ڈینگی کے وار تیز، ایک ہفتے میں 163نئے کیسزسامنے آگئے

کوہاٹ سمیت خیبرپختونخوا میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبے میں مزید 1,454 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 163 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد رواں سیزن میں صوبے کے مجموعی مشتبہ کیسز کی تعداد 6,727 جبکہ تصدیق شدہ کیسز 1,690 تک پہنچ گئے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک اضافہ کوہاٹ میں ریکارڈ کیا گیا جہاں صرف ایک ہفتے کے دوران 80 نئے تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کے اعداد و شمار کے مطابق کوہاٹ میں رواں سیزن کے دوران ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1,023 ہو گئی ہے جو صوبے کے کسی بھی دوسرے ضلع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پشاور 316 تصدیق شدہ کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ بنوں میں 90 اور ہری پور میں 54 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے اندرونی مناظر ڈرون نے محفوظ کر لیے

گزشتہ ہفتے پشاور میں بھی 42 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اب تک رپورٹ ہونے والے تقریباً ہر پانچ میں سے تین تصدیق شدہ کیسز کا تعلق کوہاٹ سے ہے جو ضلع میں ڈینگی کی صورتِ حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔کوہاٹ شہر اور ملحقہ علاقوں میں کیسز میں مسلسل اضافے نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں رواں سیزن کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی کلینکس اور گھروں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔دوسری جانب کوہاٹ میں اب تک تین نوجوانوں کی ڈینگی سے مبینہ ہلاکتوںکی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاہم ان اموات کی ڈینگی سے باقاعدہ تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔۔کوتل ٹاؤن، المعروف کے ڈی اے، شینواری ٹاؤن، جنگل خیل، گڑھی جات، اندرونِ شہر اور ملحقہ مضافاتی علاقوں سے ڈینگی کے متعدد کیسز رپورٹ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سلاخوں کے پیچھے مہارت، ڈاکٹر یاسمین راشد کی کشیدہ کاری کے چرچے

بعض شہریوں کے مطابق متاثرہ محلوں میں ایک ہی علاقے یا متعدد گھروں سے مریض سامنے آ رہے ہیں جس سے مقامی سطح پر مچھروں کی افزائش اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مچھر مار سپرے، لاروا تلفی، صفائی ستھرائی اور مچھروں کی افزائش گاہوں کے خاتمے کی سرگرمیاں مطلوبہ رفتار اور تسلسل کے ساتھ نہیں ہو رہی ہیں۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈینگی کے ہاٹ اسپاٹس کی فوری نشاندہی، لاروا سرویلنس، مچھروں کی افزائش گاہوں کا خاتمہ، مؤثر مچھر مار سپرے، خصوصی صفائی کے انتظامات اور باقاعدہ فیلڈ مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز اور مبینہ ہلاکتوں کے پیش نظر محکمہ صحت،ضلعی انتظامیہ، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو مشترکہ طور پر متحرک کیا جائے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان، سونے کی قیمت 2.7فیصد گر گئی

 

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ مختلف آپشنز زیرغور

Next Post
گورنر خیبرپختونخوا نے سرحد چیمبر میں ‘بزنس فیسیلی ٹیشن سینٹر’ کا افتتاح کردیا
Previous Post
خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ مختلف آپشنز زیرغور