Skip to main contentSkip to footer

جی 20 ممالک کا پاکستان کے قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کے حوالے سے متعلق انتباہ

جی 20 ممالک کا پاکستان کے قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کے حوالے سے متعلق انتباہ

جی 20 کے وزرائے خزانہ کی جانب سے عالمی سطح پر قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت سے متعلق تازہ انتباہ نے پاکستان کے لیے قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر بلند شرح منافع مستقبل میں بیرونی قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتی ہے، اگرچہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور عالمی مالیاتی فنڈ کی مسلسل معاونت جاری ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے جی 20 کے وزرائے خزانہ کے حالیہ اجلاس میں خبردار کیا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بانڈز پر بڑھتی ہوئی منافع کی شرح اور سرکاری قرضے ترقی پذیر ممالک میں قرضوں کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ انتباہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک اپنے بیرونی مالی واجبات پورے کرنے کے لیے دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع، سرکاری مالی معاونت اور وقتا فوقتا عالمی سرمایہ کاری کی منڈیوں تک رسائی پر انحصار کرتا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ اور واجبات 139 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت ظاہر کرنے والے کئی اشاریے خراب ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی مجموعی ملکی پیداوار کے 1.7 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد اور اشیا و خدمات کی برآمدات کے 18 فیصد سے بڑھ کر 44 فیصد ہو گئی ہے۔

نئے مالی سال کے 2ماہ میں بیرونی قرضوں میں23 فیصد اضافہ

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معاشی پیداوار اور برآمدی آمدنی کا بڑھتا ہوا حصہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔عالمی سطح پر بلند شرح منافع یورو بانڈز اور صکوک جاری کرنے کی بنیادی لاگت میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ منافع سرمایہ کاروں کی جانب سے زیادہ خطرے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کم کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب عالمی منڈی سے قرض حاصل کرنا مزید مہنگا ہونا اور سرکاری قرض دہندگان و زرمبادلہ کے ذخائر پر انحصار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔پاکستان کو اپنے جاری 7 ارب ڈالر کے عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام اور زرمبادلہ کے بہتر ذخائر کی صورت میں مالی سہارا حاصل ہے۔ مئی 2026 میں عالمی مالیاتی فنڈ نے تقریبا 1.32 ارب ڈالر کی رقم تک رسائی کی منظوری دی، جس میں تقریبا 1.1 ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت اور 220 ملین ڈالر لچک اور پائیداری سہولت کے تحت شامل تھے۔تاہم عالمی مالیاتی فنڈ کی معاونت پاکستان کے دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع، سرکاری مالی معاونت اور وقتا فوقتا عالمی بانڈ مارکیٹ تک رسائی پر انحصار سے پیدا ہونے والے بنیادی خطرات ختم نہیں کرتی۔ توانائی کی درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ بیرونی واجبات کی ادائیگی کے لیے دستیاب زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دبا ڈال سکتا ہے۔پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر قرض لینے کی بلند لاگت کئی باہم منسلک ذرائع سے پاکستان کو متاثر کر سکتی ہے۔

چینی کمپنی کاپاکستان میں جوتوں کے 16پیداواری یونٹ لگانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ پاکستان بدستور بیرونی قرضوں کی مدت میں توسیع اور وقتا فوقتا عالمی سرمایہ کاری کی منڈیوں تک رسائی پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی سطح پر قرضوں کی بنیادی شرح منافع میں اضافہ یورو بانڈز اور صکوک جاری کرنے کی لاگت بڑھاتا ہے، جبکہ پاکستان کے خودمختار قرضوں کے خطرے کی اضافی لاگت میں اضافہ اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔مریم ایوب نے وضاحت کی کہ عالمی منڈی سے مہنگی یا محدود مالی معاونت پاکستان کو بیرونی واجبات کی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر اور سرکاری قرض دہندگان پر مزید انحصار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایندھن اور توانائی کی درآمدات میں اضافہ بیرونی مالی وسائل پر مزید دبا ڈالتا ہے تو یہ راستہ مزید مشکل ہو جائے گا۔ترقی یافتہ معیشتوں میں زیادہ منافع پاکستانی اثاثوں کی نسبتا کشش بھی کم کر سکتا ہے اور روپے پر مزید دبا پیدا کر سکتا ہے۔مریم ایوب نے وضاحت کی کہ چونکہ پاکستان کا زیادہ تر بیرونی قرض غیر ملکی کرنسیوں میں ہے، اس لیے روپے کی قدر میں کمی سے اس قرض کی ملکی کرنسی میں ادائیگی کی لاگت بڑھ جاتی ہے، چاہے غیر ملکی کرنسی میں قرض کی اصل مالیت تبدیل نہ ہو۔

سر حد چیمبر کے صدر ملک عمران کا کاروباری برادری کی بے لوث خدمت کا عزم

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام اور زرمبادلہ کے بہتر ذخائر کچھ تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ختم نہیں ہوتی۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی مالی معاونت پر بڑھتے ہوئے انحصار کو کم کرنے کے لیے مسلسل مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافہ اور ملکی وسائل کو زیادہ مثر انداز میں متحرک کرنا ضروری ہے۔ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ پاکستان کو رعایتی شرائط پر قرض حاصل کرنے اور قرضوں کی مدت بڑھانے کو ترجیح دے کر سود اور قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کی لاگت کم کرنی چاہیے۔انہوں نے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی ملکی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے برآمدات، سرمایہ کاری، پیداواریت اور زرمبادلہ کی آمدنی میں تیز رفتار اضافے کے ساتھ جاری کھاتے کے خسارے کو کم کرنے پر بھی زور دیا۔ڈاکٹر عشرت حسین نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ سرکاری قرض دہندگان کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور مشترکہ فریم ورک کو مضبوط کرنے کے لیے جی 20 کی کوششیں ان ممالک کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جو پہلے ہی شدید قرضوں کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ قرضوں کی میعاد اور ادائیگیوں کا بہتر انتظام کرتے ہوئے اور کافی پہلے قابلِ پیش گوئی مالی وسائل کا بندوبست کرکے اس مرحلے تک پہنچنے سے گریز کیا جائے جہاں قرضوں کی باضابطہ تنظیم نو ضروری ہو جائے۔

 

فکسڈ ٹیکس سکیم بھی ناکام، صرف 2نئے دکاندار شامل

Next Post
دنیا کے قدیم ترین 3400سال پرانے امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت
Previous Post
پاکستان میں دراندازی کرنیوالے خوارج میں 70فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے