افغانستان کی طالبان رجیم تمام شواہد کے باوجود دہشت گردوں کی سرپرستی سے مسلسل انکار کر رہی ہے جس کے باعث دہشت گرد گروہ پاکستان میں مسلسل دراندازی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں مارے گئے 260افغان دہشتگردوں کی نام، پتے اور خاندانی تفصیلات کے ساتھ شناخت ہو چکی ہے جبکہ غیر شناخت شدہ اور فعال دہشتگرد اس اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہلاک افغان دہشتگردوں کے جنازے آبائی علاقوں میں ہوئے، طالبان رجیم کے عہدیدار بھی جنازوں میں شریک ہوئے ہیں، پاکستان میں دراندازی کرنے والے فتن الخوارج کے گروپس میں 70 فیصد تک دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے چھوڑا گیا امریکی و نیٹو اسلحہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد وں کو فراہم کیا، امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور نائٹ وژن ڈیوائسز اب دہشتگردوں کے زیرِ استعمال ہیں۔
تحریک انصاف کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی
ذرائع کے مطابق بھارت کی پشت پناہی سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی میں سرگرم ہیں، 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں 1327 پاکستانی شہید اور 2484 زخمی ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج کی افرادی قوت تقریبا 6000 سے 6500 دہشتگردوں پر مشتمل ہے جبکہ 2025 میں فتنہ الخوارج نے 600 سے زائد دہشتگرد حملوں میں متعدد حملے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کیے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج نے کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں، تربیتی مراکز میں افغان طالبان کے اہلکاروں کی بھی شمولیت کا انکشاف ہوا ہے، دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی ہوتے ہی طالبان رجیم دہشتگردوں کے دفاع میں سامنے آجاتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں القاعدہ اور داعش کی موجودگی کا بھی انکشاف کر چکی ہیں۔پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں اور سرحد پار دراندازی بند کی جائے۔
اسلام آباد، پنڈی، اٹک میں 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات

