واشنگٹن:(بی این این واچ) امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 2026 میں ڈیموکریٹک پارٹی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ختم کر دی ہے۔ انتخابی نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کانگریس میں اقتدار کی تبدیلی سے وائٹ ہاؤس کی آئندہ دو سال کی قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں تمام 435 نشستوں پر مشتمل ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات بھی منعقد ہوئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں ری پبلکنز کی چھ نشستیں حاصل کرکے اکثریت یقینی بنائی، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی کم از کم آٹھ ری پبلکن نشستیں اپنے نام کر کے اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گئے۔ متعدد ریاستوں میں انتخابی نتائج نے سیاسی مبصرین کی توقعات کو بھی تبدیل کر دیا۔
ری پبلکنز کے مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب
انتخابات کا سب سے اہم پہلو یہ رہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے صرف روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے حامی علاقوں میں کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ ٹیکساس، آئیووا، اوہائیو، جنوبی کیرولائنا اور کنساس جیسی ری پبلکنز کے مضبوط سمجھی جانے والی ریاستوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ری پبلکن امیدوار اور ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو شکست دی، جبکہ اوہائیو میں ڈیموکریٹ شیرڈ براؤن نے ری پبلکن جون ہسٹیڈ کو ہرا کر سینیٹ کی نشست حاصل کی۔ آئیووا میں جوش ٹوریک نے ری پبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کو شکست دی۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ہرا کر کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی کنساس میں تقریباً 1932 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوا۔ شمالی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر نے سینیٹ کی نشست حاصل کی، جبکہ جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف دوبارہ منتخب ہو گئے۔
یوکرین میں جنگ سے بھاگے فوجیوں پر نجی قید میں تشدد
انتخابی نتائج کے ابتدائی تجزیوں کے مطابق مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، عوامی اخراجات اور ایران کے ساتھ جنگ امریکی ووٹرز کے اہم انتخابی موضوعات رہے۔ رائٹرز کے مطابق فروری 2026 میں ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا، جس کا اثر انتخابی نتائج پر بھی نظر آیا۔ انتخابی جائزوں کے مطابق تقریباً تین چوتھائی ووٹرز ملک کی موجودہ سمت سے ناراض یا غیر مطمئن تھے، جبکہ تقریباً نصف ووٹرز نے ان انتخابات کو صدر ٹرمپ کی کارکردگی کے خلاف اپنی رائے ظاہر کرنے کا موقع قرار دیا۔ ایک اہم سروے میں 70 فیصد ووٹرز نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کانگریس کو صدر کے اختیارات پر زیادہ مؤثر نگرانی اور توازن قائم کرنا چاہیے۔
غیر قانونی تارکین وطن کی مدد پر 6ماہ قید اور ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا
کانگریس کے علاوہ ریاستی سطح پر ہونے والے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا نے تین مرتبہ گورنر رہنے والے ری پبلکن گریگ ایبٹ کو شکست دے دی۔ اوہائیو اور آئیووا میں بھی ڈیموکریٹک امیدوار گورنر کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ ان نتائج کو اس اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ری پبلکن پارٹی روایتی طور پر ان ریاستوں میں مضبوط انتخابی پوزیشن رکھتی رہی ہے۔ امریکی سیاسی نظام میں کانگریس کو قانون سازی، حکومتی اخراجات کی منظوری اور انتظامیہ کی نگرانی کے حوالے سے اہم اختیارات حاصل ہیں۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت قائم ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے اپنی جماعت کے ذریعے قانون سازی کرانا پہلے کے مقابلے میں مشکل ہو سکتا ہے۔ ڈیموکریٹک قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نئی کانگریس میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہم عہدیداروں، امیگریشن پالیسی، حکومتی فیصلوں اور صدر کے خاندان کے مالی معاملات سے متعلق تحقیقات اور نگرانی کو ترجیح دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ری پبلکن انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانونی اور مالیاتی اقدامات کو بھی ڈیموکریٹس کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کو قانون سازی میں اپنے اختیارات، صدارتی ویٹو اور انتظامی اختیارات کے ذریعے اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنے کا موقع حاصل رہے گا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی بھی امن و امان بہتر نہ بنا سکی، پولیس اور پولیو ٹیموں پر حملے
انتخابی نتائج کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکست کو اپنی ذات کے خلاف فیصلہ قرار دینے سے گریز کیا اور امیدواروں کی کارکردگی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کے باوجود اپنی پالیسیوں کا دفاع کیا اور واضح کیا کہ وہ ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانون سازی کے بعض اقدامات کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ری پبلکن پارٹی کے اندر بھی انتخابی نتائج کے بعد مستقبل کی سیاسی حکمت عملی، صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے پارٹی کے لائحہ عمل سے متعلق بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔
کینیڈامیں کار حادثہ ، پاکستانی شہریوں سمیت 6 افراد جاں بحق
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہر چار سالہ صدارتی مدت کے درمیان دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ کانگریس اور ریاستی حکومتوں کے نمائندے منتخب کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان انتخابات کو صدر کی کارکردگی اور عوامی مقبولیت جانچنے کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ 2026 کے نتائج نے امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے اور صدر ٹرمپ کی باقی ماندہ صدارتی مدت کے لیے سیاسی ماحول بھی تبدیل کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ نئی کانگریس کس حد تک حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، انتظامیہ کی نگرانی کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اور امریکہ کی داخلی و خارجی پالیسیوں میں کیا تبدیلیاں سامنے آتی ہیں۔ انتخابی نتائج کے حتمی سرکاری اعداد و شمار اور بعض مقابلوں کی مکمل ووٹ گنتی ابھی انتخابی حکام کی جانب سے مکمل کیے جانے کے مراحل میں ہے۔

