Skip to main contentSkip to footer

یوکرین میں جنگ سے بھاگے فوجیوں پر نجی قید میں تشدد

یوکرین میں جنگ سے بھاگے فوجیوں پر نجی قید میں تشدد

یوکرین کے دارالحکومت کیف کے نواحی علاقے میں فوجی اہلکاروں کو مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنے کی اطلاعات پر شہریوں اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مشتعل مظاہرین نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس اور فوجی اہلکاروں پر انڈے پھینکے جبکہ حکام نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ واقعے میں چار فوجی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔یوکرینی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ کیف کے نواحی گائو ں پیٹروپاولوفسکا بورشچاگیوکا میں پیش آیا، جہاں نیشنل گارڈ کے اہلکار ایک عمارت میں موجود تھے۔ واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک نجی ایمبولینس کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی کہ عمارت کے اندر موجود ایک شخص کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

گوگل کی پارٹنر کمپنی نے 13 لاکھ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں ہیکنگ وائرس داخل کر دیا

اس اطلاع کے بعد یہ افواہیں پھیل گئیں کہ عمارت میں درجنوں فوجی اہلکاروں کو ان کی مرضی کے خلاف کئی ہفتوں سے رکھا گیا ہے۔ بعض سوشل میڈیا اکانٹس پر دعوی کیا گیا کہ تقریبا 40 افراد کو عمارت کے تہہ خانے میں حراست میں رکھا گیا ہے اور ان پر تشدد بھی کیا جارہا ہے۔ تاہم ان دعوئوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔اطلاعات سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں شہری عمارت کے باہر جمع ہوگئے اور فوجی اہلکاروں کی رہائی اور انہیں طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے عمارت کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، پولیس اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر انڈے پھینکے اور عمارت تک پہنچنے کے لئے اینٹوں کی دیوار بھی توڑ دی۔ حکام نے مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کیلئے آنسو گیس استعمال کی جبکہ فضا میں فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور نیشنل گارڈ کے اعلی حکام موقع پر پہنچ گئے۔ یوکرین کے نیشنل گارڈ کے کمانڈر اولیکسینڈر پیونینکو نے تصدیق کی کہ عمارت میں ایسے فوجی اہلکار موجود تھے جو اجازت کے بغیر اپنی فوجی یونٹوں سے غیرحاضر ہوگئے تھے۔

غیر قانونی تارکین وطن کی مدد پر 6ماہ قید اور ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا

ان کے مطابق چار اہلکاروں کو طبی امداد کی ضرورت تھی جبکہ دیگر افراد نیشنل گارڈ کے اہلکار تھے۔ایک طبی کارکن نے بتایا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار کے ہمراہ عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی، جہاں اسے چھت سے لے کر تہہ خانے تک کم از کم 25 افراد نظر آئے۔ ان میں سے چار کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔دوسری جانب یوکرین کے فوجی پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی مختلف تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمارت میں صرف ایک فوجی اہلکار ایسا تھا جو اپنی یونٹ سے غیرحاضر تھا۔ حکام کے مطابق اسے ایک ماہ کے لیے اس مقام پر رکھا گیا تھا تاکہ اسے دوبارہ فوجی خدمات پر واپس لایا جاسکے۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے یہ بھی دعوی کیا کہ مذکورہ فوجی کے اہل خانہ نے اسے فوجی خدمات سے بچانے کے لیے نجی ایمبولینس کو بلایا تھا۔ ابتدائی طبی معائنے میں اس کے جسم پر زخموں کے نشانات نہیں ملے۔نیشنل گارڈ کی پہلی کور آزوف نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عمارت میں کچھ نئے بھرتی ہونے والے فوجی اہلکار موجود تھے جبکہ بعض کو اپنی فوجی یونٹوں سے غیرقانونی طور پر غیرحاضر ہونے کے بعد وہاں رکھا گیا تھا اور وہ نئی یونٹوں میں تعیناتی کے منتظر تھے۔

مردان میں ماں نے 8سالہ بیٹے کو قتل کرکے خود کو گولی ماردی

بیان کے مطابق چار اہلکار زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کرکے طبی معائنہ کرایا گیا۔نیشنل گارڈ نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر فوجی اڈے میں کسی بھی قسم کے غیرقانونی تشدد کا ثبوت ملا تو اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یوکرین کی نیشنل پولیس نے بھی ان اطلاعات کی تردید کی کہ عمارت میں لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا یا کسی شخص کی ہلاکت ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق اہلکار نجی ایمبولینس کے عملے کی شکایت پر موقع پر پہنچے تھے، جس نے بتایا تھا کہ عمارت کے اندر موجود ایک شخص تک طبی امداد پہنچانے سے روکا جارہا ہے۔پولیس کے شعبہ انسدادی کارروائیوں کے سربراہ بورس بریوس نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجیوں کی غیرقانونی حراست سے متعلق افواہیں ابتدائی طور پر ایک ایسی خاتون نے پھیلائی تھیں جس نے خود کو میڈ پریسٹیج نامی نجی ایمبولینس کمپنی کی مالک ظاہر کیا تھا۔یوکرین کے وزیر داخلہ ایوان ویہوسکی کے مطابق زیرحراست فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کو ان سے رابطے کا موقع فراہم کیا گیا

ہنگو میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد قتل، کمسن بچہ بھی شامل

جبکہ طبی عملے اور عوامی نمائندوں کو بھی عمارت میں بلایا گیا۔یوکرین کی فوجی محتسب اولہا ریشیتیلوفا نے بتایا کہ واقعے کی جگہ پر تلاشی لی جارہی ہے اور تمام حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی محتسب کا دفتر نیشنل گارڈ کی کمانڈ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فوجی اہلکار محفوظ ہیں اور انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔واقعے کی سنگینی کے پیش نظر یوکرین کے صدر کے دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف بھی رات تقریبا 10 بجے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ جاننے کے لیے آئے ہیں کہ آخر وہاں ہو کیا رہا ہے۔بودانوف کے مطابق عمارت میں 14 فوجی اہلکار موجود تھے اور مظاہرین کی جانب سے راستہ بند کیے جانے کے باعث زخمی اہلکاروں کو منتقل کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال کسی صورت نہیں ہونی چاہیے اور یہ درست عمل نہیں ہے۔

 

ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری

اگلی پوسٹ
اپنی چھت، اپنا گھر سکیم کے تحت ایک لاکھ 28 ہزار گھر مکمل
پچھلی پوسٹ
برطانوی شہری 28 سال بعد 31 ہزار میل سفر پیدل کرکے گھر واپس پہنچ گیا