Skip to main contentSkip to footer

امریکہ میں عدالت نے نشئیوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی

امریکہ میں عدالت نے نشئیوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی

امریکی سپریم کورٹ نے بعض چرس استعمال کرنے والوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی جس کے بعد وفاق کی جانب سے عائد پابندی خود بخود محدود ہوگئی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے ایک متفقہ (9-0) فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف اس بنیاد پر کسی شخص کو اسلحہ رکھنے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ غیر قانونی طور پر چرس (ماریجوانا) استعمال کرتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت جب تک یہ ثابت نہیں کرلیتی کہ نشہ کرنے والا شخص اس اسلحے کے باعث دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس وقت تک کسی پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔عدالت کے فیصلے سے وفاقی حکومت کے اس قانون کی تشریح محدود ہو گئی ہے جس کے تحت کسی بھی ممنوعہ منشیات کے غیر قانونی استعمال کنندہ کے لیے اسلحہ رکھنا جرم تھا

اور اس پر 15 سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی۔سپریم کورٹ کے جج نے اکثریتی رائے تحریر کرتے ہوئے کہا کہ صرف غیر قانونی منشیات کا استعمال کسی شخص کو خودکار طور پر خطرناک قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔انھوں نے مزید لکھا کہ بعض حالات میں ماریجوانا یا دیگر منشیات کا استعمال کسی شخص کو دوسروں کے لیے خطرہ بنا سکتا ہے لیکن اس مقدمے میں حکومت نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔جسٹس گورسچ کے مطابق اگر حکومت کو صرف کسی مخصوص گروہ کو خطرناک قرار دے کر اس کے تمام افراد سے اسلحہ رکھنے کا حق چھیننے کا اختیار دے دیا جائے

تو اس سے امریکی آئین کی دوسری ترمیم میں دیے گئے اسلحہ رکھنے کے بنیادی حق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہ مقدمہ امریکی ریاست ٹیکساس کے رہائشی علی ہیمانی نے دائر کیا تھا جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ تقریبا ہر دوسرے دن ماریجوانا استعمال کرتے تھے جبکہ ان کے گھر میں ایک نائن ایم ایم پستول بھی موجود تھی۔وفاقی حکام نے ان پر صرف اس بنیاد پر مقدمہ قائم کیا کہ وہ منشیات استعمال کرنے والے ہونے کے باوجود اسلحہ رکھتے تھے حالانکہ گرفتاری کے وقت وہ نہ نشے کی حالت میں تھے

امریکہ میں تارکین وطن کیخلاف کریک ڈائون کیلئے 70ارب ڈالر منظور

 

اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھا۔سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں ان کے خلاف فردِ جرم کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منشیات استعمال کرنے والوں کو بلاشرط اسلحہ رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے برقرار رکھا کہ منشیات کے عادی افراد پر اسلحہ رکھنے کی پابندی برقرار رہے گی۔ نشے کی حالت میں اسلحہ رکھنے پر پابندی بھی برقرار ہے۔علاوہ ازیں ایسے افراد جو اپنے لیے یا دوسروں کے لیے خطرہ سمجھے جائیں ان پر بھی اسلحہ رکھنے کی ممانعت برقرار رہے گی۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ سابق امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن جیسے مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا

کیونکہ وہ اسلحہ رکھنے کے وقت منشیات کے عادی ہونے کا اعتراف کر چکے تھے۔اگرچہ امریکہ کی 40 سے زائد ریاستوں میں ماریجوانا کسی نہ کسی شکل میں قانونی قرار دی جا چکی ہے تاہم وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ منشیات میں شامل ہے۔

 

ایران نے امریکہ سے منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ مانگ لیا

Next Post
ایپل کا بڑا اعلان، پاکستان میں آئی فونز مہنگے ہونے کا خدشہ
Previous Post
دنیا کا معمرترین خشکی کا جانور جوناتھن کچھوا 194 سال کا ہوگیا