ایپل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد پاکستان میں بھی آئی فونز مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹیک انڈسٹری کی سب سے بڑی کمپنی ایپل کے سبکدوش ہونے والے سی ای او ٹم کک نے تصدیق کی ہے کہ عالمی سطح پر پارٹس کی بڑھتی ہوئی لاگت اور میموری کرائسز کے باعث کمپنی کو مجبورا اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔
امریکی جریدے دی وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ٹم کک نے واضح الفاظ میں کہا کہ “بدقسمتی سے قیمتوں میں اضافہ اب ناگزیر ہو چکا ہے، میں نے اپنے 40 سالہ کیریئر میں مارکیٹ کے ایسے حالات کبھی نہیں دیکھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ “ہمیں جو بھاری لاگت منتقل کی جا رہی ہے، ہم اس کے اثرات کو کم کرنے اور اپنے صارفین کو اس اضافے سے بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب صورتحال ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ایپل کے اس فیصلے کا براہِ راست اثر پاکستانی مارکیٹ پر بھی پڑے گا
اور یہاں بھی آئی فونز، میک بکس اور آئی پیڈز مزید مہنگے ہو جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق ایپل کی پاکستان میں کوئی آفیشل یا مقامی موجودگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی صارفین کو آئی فونز پر کسی قسم کی ریجنل پرائسنگ کا فائدہ نہیں ملتا اور یہاں عالمی مارکیٹ کے برابر ہی قیمتیں بڑھتی ہیں۔
اس کے برعکس، سام سنگ چونکہ پاکستان میں آفیشل طور پر کام کرتا ہے اور اس کا مقامی اسمبلی پلانٹ بھی موجود ہے، اسی لیے عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کے باوجود سام سنگ نے حال ہی میں اپنی گیلکسی سیریز پاکستان میں امریکا اور دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر قیمتوں پر لانچ کی تھی، لیکن ایپل صارفین کو ایسی کوئی رعایت نہیں مل سکے گی۔قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوگا یا یہ کب سے لاگو ہوگا، تاہم سالانہ کانفرنس کے خاتمے کے بعد ایپل اب سے چند ماہ بعد اپنی نئی آئی فون 18 لائن اپ متعارف کرانے کے لیے تیار ہے
وہ پرانے آئی فونز جن پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا
جس کی قیمتیں پچھلی جنریشن سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔اس کے علاوہ رواں سال کے آخر میں آنے والے نئے میک بکس، آئی پیڈز اور مارکیٹ میں پہلے سے موجود ایپل پروڈکٹس بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بڑھتی ہوئی مانگ اور پرزہ جات کی قلت کی وجہ سے مہنگی ہو سکتی ہیں۔واضح رہے کہ صرف ایپل ہی نہیں بلکہ سام سنگ، ایچ پی، مائیکروسافٹ، نینٹینڈو اور ویلو جیسی بڑی کمپنیاں بھی ریم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی کے مسائل سے پریشان ہیں۔
وہ پرانے آئی فونز جن پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

