پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں صوبے کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال، امن و امان کے حالات اور پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مبینہ سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔اجلاس کے شرکاء نے پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور ایم پی او کے تحت نظربندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو رہا ہے۔
سہیل آفریدی سمیت 80 ملزمان کیخلاف ریڈیو پاکستان کیس میں چالان جمع
اعلامیے میں پارٹی پرچم اتارنے اور ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تختیاں ہٹانے کے اقدامات پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مستند اور مکمل معلومات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے اہل خانہ اور وکلا کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کو انصاف فراہم کرنے، ان کی بہنوں کی رہائی اور اہل خانہ کو تمام قانونی، انسانی اور طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر منتخب نمائندوں کی مبینہ غیر آئینی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے پر زور دیا گیا۔اعلامیے میں صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور انتظامی اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے واضح کیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے عمل کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے قبائلی عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
سہیل آفریدی اور گرفتار قیادت کو پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا امکان
اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی میں کوئی گروپ بندی موجود نہیں اور تمام سیاسی و تنظیمی فیصلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات اور باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ احتجاجی تحریک، مذاکرات اور سیاسی لائحہ عمل کی تشکیل میں خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کو بھرپور نمائندگی دی جائے گی۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔اعلامیے کے اختتام پر کہا گیا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے، جبکہ عوامی حقوق کے تحفظ، آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کی بحالی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
پی ٹی آئی رہنمائوں نے لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیدیا

